• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں شروع ہونیوالے مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس بارے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کہی جاسکتی لیکن جہاں تک ایران پر حملے کی تیاریوں کا معاملہ ہے تو صدر ٹرمپ نے ان میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ ایک ہفتہ قبل امریکہ کا طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں پہنچ چکا ہے۔ اس کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ منسلک فضائی پلیٹ فارمز میں ایف پینتیس سی لائٹننگ ٹو، ایف اے اٹھارہ سپر ہارنیٹ، ای اے اٹھارہ جی گراؤلر، ای ٹو ڈی ہاک آئی اور ایم ایچ ساٹھ سی ہاک شامل ہیں جو فضائی دفاع، حملہ، نگرانی اور سمندری آپریشن میں استعمال ہوتےہیں۔ جہاز کی حفاظت اور اسکارٹ کیلئے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی ساتھ ہیں جن میں یو ایس ایس سپروانس، یو ایس ایس مائیکل مرفی اور یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر شامل ہیں۔بدھ کو امریکی فضائیہ کا تیسرا ای الیون اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع خانیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر پہنچ چکا ہے۔یہ طیارے ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں معلومات کو تیزی اور محفوظ طریقے سے شیئر کر سکیں۔طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہرا سٹیفن واٹکنز کے مطابق یہ انتہائی خصوصی طیارے کسی آپریشن کی تیاری کے آخری مرحلے میں لائے جاتے ہیں اور اب جبکہ یہ ایران کے قریب پہنچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں کارروائی کرنی ہے۔

اس صورت حال کی بنا پر مذاکرات کی میز پر کسی مثبت نتیجے کی توقع اگرچہ کم ہی نظر آتی ہے لیکن یہ امکان بھی بہرکیف موجود ہے کہ اس طرح خطرناک جنگی ماحول میں ایرانی قیادت کے گلے پر چھری رکھ کر ایسے مطالبات منوانا مقصود ہو جو مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ نیتن گٹھ جوڑ کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے ضروری ہیں۔ گزشتہ جون میں ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی جارحیت کے خلاف ایران کی نہایت مؤثر جوابی کارروائی نے یہ حقیقت پوری طرح واضح کردی ہے کہ صہیونی قیادت کے توسیعی عزائم اور گریٹر اسرائیل کی منزل کی جانب پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی موجودہ قیادت ہے۔ معاشی مشکلات کے باعث شروع ہونے والے احتجاج کو پرتشدد اور خوں ریز ہنگاموں میں بدل کر ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششیں اسی لیے کی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ بنفس نفیس اس مہم کی قیادت کررہے تھے اور ایرانیوں کو یقین دلارہے تھے کہ امریکہ ان کی مدد کیلئے بس پہنچ ہی رہا ہے۔ سابق ایرانی شہنشاہ کے فرزند ارجمند کو پیٹھ ٹھوک ٹھوک کر سیاست کی بساط پر شطرنج کے مہرے کی طرح آگے بڑھایا جارہا تھا۔ جبکہ دنیا کوایک نئی جنگ کے شعلوں میں جھونکنے کے اس خطرناک کھیل کا کوئی معقول جواز صدر ٹرمپ اپنے ہم وطنوںکے سامنے بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔ امریکی رائے دہندگان کو قائل کرنے کی وہ کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ۔ان کا علانیہ مؤقف ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف فوج کشی کرسکتے ہیں اور اس عمل سے ان کے اپنے ذہن کے سوا کوئی انہیں روک نہیں سکتا ہے۔

معروف امریکی سیاستداں اور چند دہائی پہلے صدارتی امیدوار رہنے والے رون پال کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی عوام یا کانگریس کو یہ سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا امریکیوں کے قومی مفاد میں کیوں ہے جبکہ ان کے مؤقف کے کھوکھلے پن کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتاہے کہ جون کی کارروائی کے بعد اگرچہ ٹرمپ کا حتمی دعویٰ تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے لیکن رون پال کے مطابق جب سی آئی اے، موساد، اور برطانیہ کی ایم آئی 6 نے دسمبر کے آخر میں پرتشدد ہنگاموں کی صورت میں حکومت گرانے کا آپریشن شروع کیا تو ٹرمپ نے بغاوت کے خلاف ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن کو جنگ کا بہانہ بنالیا۔ تاہم اس سے پہلے کہ کوئی عملی اقدام کیا جاتا، ایرانی حکومت بغاوت کو کچلنے میں کامیاب ہو گئی۔ لہٰذا ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے پر دوبارہ بات شروع کردی اور اس بار ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کرلیا۔

عمان مذاکرات میں میزائل پروگرام کی شمولیت پر امریکہ کے اصرار کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ مذاکرات کو ناکام بنادیا جائے کیونکہ جوہری صلاحیت کو پرامن مقاصد تک محدود رکھنے پر تو ایران اپنی رضامندی ظاہر کرہی چکا ہے لیکن میزائل سازی کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی شہریوں کی بھاری اکثریت کو ایران کے خلاف کسی امریکی کارروائی کی ضرورت پرقائل نہیں کیا جاسکاہے ۔رون پال کے مطابق پچھلے مہینے ایک بڑے سروے میں 70 فی صد امریکیوں نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کی مخالفت کی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار ملک میں فرد واحد کو یہ اختیار کیسے مل گیا ہے کہ وہ جس ملک پر چاہے حملہ آور ہوجائے، کسی بھی ملک کے سربراہ کو اپنے کارندے بھیج کر اغوا کرالے اور کسی کوبھی فوج کشی کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ رون پال کہتے ہیں کہ کانگریس کے ارکان اور خود صدر کی پارٹی کے لوگ اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ کہیں ان پر فوج کی حمایت نہ کرنے کاالزام نہ لگ جائے ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی جمہوریت اب محض نمائشی ہے ۔یہ بات خاص طور پرقابل ذکر ہے کہ نیتن یاہو پچھلے چند ماہ میں وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف کارروائی پر آمادہ رکھنے کیلئے امریکہ کے پانچ دورے کرچکے ہیں اور چھٹا دورہ جلد کرنے والے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ امریکی شہریوں کی اکثریت کی مرضی کے برخلاف نیتن یاہو کی فرمائشیں پوری کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسلئے اب بھی زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ایران سے ناقابل قبول مطالبات کرکے مذاکرات کی ناکامی اور فوجی کارروائی کی راہ ہموار کی جائے گی۔

تازہ ترین