• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہالینڈ کے ایک ہفت روزہ نے اسرائیلی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل میں اقدام خودکشی کے 8ہزار واقعات رجسٹرڈ ہوئے ہیں جو ایک خطرناک رجحان کا نیا ریکارڈ ہے میرے حساب سے ان دنوں اسرائیل کوسنگین اندرونی مسائل کا سامنا ہے جس میں سماجی طور پر خودکشی کا رجحان ایک اہم مسئلہ ہے اسرائیل میں اقدام خودکشی کرنے والوں میں تمام طبقات کے لوگ شامل ہیں ۔تاہم سب سے زیادہ اقدام خودکشی کے واقعات ایتھوپیا اور سابقہ سو ویت یونین کے ممالک سے لائے گئے یہودیوں میں ہوئے ہیں۔ایک سال میں 8 ہزار سے زائد واقعات یہ ثابت کرنےکیلئے کافی ہیں کہ اسرائیل میں خودکشی کی کوششیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو یہ خطرناک حدود سے تجاوز کر سکتی ہیں ۔ادھر اسرائیل پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا سے لائے گئے یہودی آباد کاروں میں خودکشی کا رجحان 10 فیصد بڑھ گیا ہے گزشتہ سال کے دوران صرف ایتھوپیا سے لائے گئے 66 یہودیوں نے خودکشی کی۔ دوسرے ممالک سے لائے گئے یہودیوں میں خودکشی کے اضافے کی کئی وجوہات ہیں ان میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کو جس طرح کے سنہری خواب دکھا کر لایا جاتا ہے اور اسرائیل میں لائے جانے کے بعد انہیں سفید فام یہودیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس پالیسی نے نئے اور کالے یہودیوں وغیرہ میں سخت مایوسی پیدا کر دی ہے۔یہ امتیازی سلوک اور رویے کا شکار ہیں اس پر اسرائیل کا مخدوش مستقبل دیکھ کر یہ لوگ خودکشی پر اتر آئے ہیں۔

ان مسائل کے علاوہ بھی اسرائیل کو دیگر مسائل کا سامنا ہے کچھ عرصہ قبل پورے اسرائیل میں عوامی احتجاج کی لہر دوڑ گئی تھی زبردست مظاہرے ہوئے تھے اور عوام سرکاری محکموں اور کھلی عمارتوں کے لانوں میں خیمہ زن ہو کر دھرنا دے رہے تھے اور حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عوام کی غربت میں اضافہ کرنے والی پالیسی بند کرے ۔ان میں اسرائیل کے با اثر طبقات بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی باشندوں کی اکثریت مفلس اور غریب ہے اسکے مقابلے میں تھوڑی تعداد مالدار اور دولت مند ہے ،امیر لوگ غریبوں کا خون پی کر اپنی دولت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ غریب طبقے میں فکر و افلاس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اس سے مفلس ونادار لوگوں میں خودکشی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔اس بات کی نشاندہی بین الاقوامی اقتصادی تنظیم نے بھی اپنے ایک حالیہ مضمون میں کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اسرائیل میں حقوق انسانی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی یونین نے سال گزشتہ کی اپنی رپورٹ شائع کی ہے رپورٹ نے اسرائیل کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں اس رپورٹ کی گونج سنائی دے رہی ہے جسے ’’چہار وانگ عالم‘‘ بھی کہتے ہیں یہ اسرائیل کے ارباب اختیار ،فیصلہ سازو ذمہ داروں کیلئےگویا ایک وارننگ ہے وہ آزادی جس کا راگ اسرائیل الاپتا رہتا ہے اس کا دائرہ حد درجہ محدود اور تنگ ہو چکا ہےاوراسرائیل کی سرکاری پالیسیوں کی مخالفت کرنیوالے مظاہرین پر مظالم و تشدد میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ میں یہاں فلسطینیوں کی بات نہیں کر رہا کہ فلسطینیوں کو "چھوٹی جیلوں" اور مغربی کنارہ جیسی بڑی ویرانیوں میںجس طرز عمل کا سامنا ہے وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے جذبوں کا تو کیا الفاظ کا متحمل نہیں ہو سکتاـ وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ـ

یہ سچ ہے کہ اسرائیل روز بروز تنہا ہوتا جا رہا ہے آزاد خیال اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں نسلی امتیاز بہت واضح طور پر نظر نہیں آتا لیکن یہ پھر بھی معاشرے میں موجود ہے ان مسائل کے علاوہ بھی اسرائیل کو دیگر مسائل کا سامنا ہے جس کی اہمیت ان اندرونی مسائل سے بھی کسی درجہ کم نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اقوام عالم کی سطح پر الگ تھلگ اور تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل اس لیے بھی فکرمند ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی تحریکیں جو آمر حکمرانوں کے خلاف اٹھ رہی تھیں اب کہیں یہودی ریاست پر حملے میں تبدیل نہ ہو جائیںاور میرے حساب سے اسرائیل کی یہ پریشانی بے جا بھی نہیں۔ ترکیہ اور مصر کے ساتھ اسکے تعلقات بے حد کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانے پر حملہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے اس سے پہلے ترکیہ نے اسرائیلی سفارت کار کو اپنے ملک سے نکال دیا تھا حالیہ دنوں بین الاقوامی برادری کے انتباہ کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ اس کی تنہائی اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور اسکے بعد دیکھنے والی آنکھیں تو مشرقِ وسطیٰ بالخصوص اسرائیل کا پورا منظر نامہ ہی بدلتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عرب دنیا میں برپا ہونے والی تحریکوں کے بعد اسرائیل مشرق وسطیٰ میں تیزی سے الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے اور شاید کمزور سفارتی پوزیشن میں اسکی فوجی طاقت بھی کسی کام نہیں آسکے گی کالونیوں کی تعمیر ، منظم فوجی دہشت گردی کو ہوا دینا، مظاہرین پر گولیاں اور بم برسانا، امتیازی سلوک روا رکھنا، مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنا، غزہ پٹی کی ناکہ بندی جاری رکھنا، ناجائز تجاوزات کی تعمیر و توسیع کرنا، مغربی کنارے پر قبضہ کرنا، فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے سے لے کر مصر اور مغربی کنارے کے بارڈر پر داخلہ بند کرنا، اور فلسطینی سرزمین کو جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ تنہائی و جدائی کی طرح الگ تھلگ علاقہ بنا دینا یہ سب کچھ دھرے کا دھرہ رہ جائے گا۔

اسرائیل پر مسائل کا پہاڑ دھرا ہوا ہے اس پر بھی اس نے پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اذان پر پابندی کا بل پیش کر کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے ۔ صہیونی سوچ کا حامل اسرائیل بتدریج مقبوضہ فلسطین کی دینی اور ثقافتی شناخت ختم کرنے کے در پے ہے۔ اسرائیل کا متعصبانہ رویہ امتیازی سلوک اور غیر انسانی اقدامات ملکی قوانین اور جنیوا کنونشن کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات کو دنیا اسلام میں کھلی مداخلت قرار دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیادی دینی احکام اور مذہبی اساس پر حملہ کر کے انتہا پسند اور متشدد اسرائیل نے عالم اسلام کے خلاف مذہبی لڑائی کا ڈول ڈال دیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ اسرائیلی ارباب اختیار نے مسلمان اور عیسائی دانشوروں، جنکی تعداد 320 بتائی جاتی ہے، کو شہر بدر کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے شاید اسے ہی جلتی پر تیل کہا جاتا ہے....

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی

نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا

تازہ ترین