• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 کراچی کم از کم تین دہائیوں سے جو منظر پیش کررہا ہے، وہ اس شہر کے باسیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس شہر کے امیر اور غریب طبقات کے علاقے یہاں موجود طبقاتی تفریق کا واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں، لیکن کئی برس سے ان دونوں طبقات کے علاقوں میں ایک تفریق بہت حد تک ختم ہوچکی ہے۔

سوائے ڈیفینس ہاوسنگ اتھارٹی کے، اب کراچی کے امیر طبقے کے تقریبا ہر علاقے میں اسی طرح گٹر ابلتے دیکھے جاسکتے ہیں جس طرح غریب طبقے کے علاقوں میں ابلتے دکھائی دیتے ہیں۔

جنہوں نےقیامِ پاکستان سےقبل اس شہر کا صاف ستھراچہرہ دیکھا انہیں چھوڑیے۔ انہیں بھی چھوڑ دیں جنہوں نے سن ستّر کی دہائی میں بہت حد تک منظم اور بہت حد تک صاف ستھرا عروس البلاد دیکھا۔ ان سے پوچھیے جنہوں نے اسّی کی دہائی کے ابتدائی چند برسوں میں کراچی دیکھاتھا۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی آج کی نسبت اس وقت تک ہر اعتبار سےبہت بہتر شہر تھا۔ لیکن اس کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہا۔

دعوے بہت ہوئے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔اس شہر کی بربادی کی کہانی دہائیوں پر محیط ہےاور مذکورہ برسوں کے بعد اس کے باسیوں کی دُہائیوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اس کا ذمے دار کوئی ایک شخص یا ایک حکومت نہیں بلکہ بہت سے اشخاص، ادوار اور عوامل ہیں۔ تاہم ذمے دار ہر وہ شخص ہےجس کے پاس اس شہر سے متعلق کوئی بھی اور کسی بھی درجے کا اختیار تھا یا ہے۔

وہ بھی اس شہر کی تباہی کے ذمے دار ہیں جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ شہر کے مسائل حل نہیں کرسکتے، عوام کو ہر دور میں بے وقوف بنا کر اور کراچی کو پیرس بنانے کا دل فریب نعرہ لگاکر ووٹ اور سپورٹ حاصل کی ،لیکن شہر کے مسائل حل نہیں کرسکے۔ اس شہر کے ساتھ یہ کھیل ہر دور میں کھیلا گیا اور ہر سیاسی جماعت نے کھیلا۔

صرف ترقّی یا پائے دار ترقّی؟

جو لوگ کراچی میں ہونے والی کچھ ترقی کی بات کرتے ہیں انہیں بگوٹا شہرکی ترقی، اس کے ذمے دار شخص اور بگوٹا ماڈل کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ تب انہیں پتا چلے گا کہ کسی شہر کی حقیقی ترقی کیا ہوتی ہے اور یہ بھی کہ وژن کے بغیر کیے جانے والے کام کچھ عرصے بعد عذاب بن جاتے ہیں جس کا خرچ اور خمیازہ بالاخر عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ہمارے ذمے داروں کو اچھی طرح یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج کے دور میں ترقی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آج ترقی کے ضمن میں نئی اصطلاح ایجاد ہوچکی ہے، یعنی پائے دار ترقی۔ اب ہمیں بھی اس اصطلاح پر عمل کرنا ہوگا۔

کروٹ لیتی دنیا

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سوچتے، دو قدم چلتے اور پھر رُک جاتے ہیں۔ یہاں پہلےجو شہر کچھ ’’اسمارٹ‘‘ تھے انہیں تباہ کیا جارہا ہے، لیکن سرحدوں اور سمندروں کے پار دنیا نئی کروٹ لے رہی ہے۔ ہمارے پڑوس میں بالخصوص اور مغربی دنیا میں بالعموم شہروں کے بارے میں نیاتصور تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ پہلے لوگ اسمارٹ ہوتے تھے، لیکن اب شہر اسمارٹ بنائے جارہے ہیں۔

بھارت میں مارچ 2016میں اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے پہلے20 شہروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا تھا۔ بھارت کےشہری ترقی کے اس وقت کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو کے مطابق پہلے سال تیار کیے جانے والے اسمارٹ شہروں کی فہرست میں مدھیہ پردیش کے سب سے زیادہ یعنی تین شہروں اندور، بھوپال اور جبل پور کو شامل کیا گیا تھا۔ اترپردیش اور بہار سے ایک بھی شہر اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ 

فہرست میں بھونیشور (اڑیسہ)، پونا (مہاراشٹر)، جے پور (راجستھان)، سورت (گجرات) ، کوچی (کیرالہ)، احمد آباد (گجرات)، جبل پور(مدھیہ پردیش)، وشاکاپٹنم، شولاپور (مہاراشٹر)،داوگیرے (کرناٹک) ،اندور (مدھیہ پردیش)، نئی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی)، کوامبیٹری، کاکی ناڑا (آندھرا پردیش)، بیلگام (کرناٹک)،ادےپور (راجستھان) ، گوہاٹی (آسام)، چنائے (تامل ناڈو)، لدھیانہ (پنجاب) اور بھوپال (مدھیہ پردیش) کے نام شامل تھے۔

ان شہروں میں پانی اور بجلی کی فراہمی، صفائی اور ٹھوس ویسٹ مینجمنٹ، مکمل شہری ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ، آئی ٹی کے ذریعے رابطہ، ای گورننس کے ذریعے بنیادی سہولتیں فراہم اور عوام کی شرکت کا انتظام کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وینکیا نائیڈوکا کہنا تھاکہ ایک مقابلے کےنتائج کی بنیادپران شہروں کا انتخاب کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے اس ضمن میں اگست 2015 میں 97 شہروں کوشارٹ لسٹ کیاتھا۔ پہلے مرحلہ میں 20اور اگلے ہر دو سال میں چالیس چالیس شہروں کو اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا جانا تھا۔

بھارت کی مرکزی وزارت شہری ترقیات نے اسمارٹ سٹی منصوبے کا جو تصور پیش کیاتھا اس میں ای گورننس، آن لائن خدمات کی فراہمی، اطلاعات عامہ ، بلا رکاوٹ پانی اور بجلی کی فراہمی، موثر ٹرانسپورٹ کا نظام، تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں شامل ہیں۔ اسمارٹ سٹی کے سماجی اور معاشی مقاصد میں غریبوں تک رسائی، سڑکوں، اراضیات اور نئے مواقع میں عوام کو مساوی حق دینا تھا۔

اطلاعات کے مطابق منتخب کیے گئے شہروں میں سے ہر ایک کو پہلے سال دو ارب اور بعد میں تین سال تک ایک ارب روپے دیئے جانے تھے۔ اس منصوبے کے لیے 48000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت مرکز اور ریاستی حکومتوں کو اس ضمن میں مل کر کام کرنا تھا۔ واضح رہے کہ بھارت میں آبادی کی اکثریت اب بھی دیہات میں رہتی ہے، لیکن شہروں کی جانب نقل مکانی کے باعث شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

حالیہ اندازوں کے مطابق، بھارت کی66تا 68فی صد آبادی دیہی علاقوں میں اور 32تا34فی صد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ وہاں 1991سے چھوٹے قصبوں اور دیہات سے بڑے شہروں (جیسے دہلی، ممبئی) کی طرف ہجرت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2030تک بھارت کی تقریباً40فی صد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہوگی۔

نریندر مودی کی حکومت کے100اسمارٹ شہر بنانے کے منصوبے کے لیے2016میں یہ اندازہ لگایا گیا تھاکہ اگلے چند برسوں میں150ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی اور نجی شعبہ اس میں اصل طور پر شراکت داری کرنے والا ہوگا۔ ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اس150ارب ڈالرز میں سے 120 ارب ڈالرز نجی شعبے سے آئیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے7.51ارب ڈالر زکے ابتدائی اخراجات کے ساتھ پہلے ہی دو پروگرام ‘اسمارٹ شہر مشن ’’اوراٹل مشن فار ری جووی نیشن آف اربن ٹرانسفارمیشن ‘‘ شروع کررکھے تھے جو 500 موجودہ شہروں کے اپ گریڈ کیے جانے سے متعلق تھے۔ بعض ماہرین کا کہناتھا کہ اگرچہ ان اسمارٹ شہروں کی فنانسنگ باعث تشویش ہے، لیکن اسمارٹ شہر منصوبے کے ضمن میں انتظام کاری، حکومت کی فیصلہ سازی، پالیسی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اہم چیلنجز ہیں۔

منصوبہ سازوں کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی طور پر 7.5 بلین امریکی ڈالرز کے مساوی مالی وسائل خرچ کیے جانے تھے۔ منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی ان بیس اسمارٹ شہروں کا عمومی معیار زندگی یورپی شہروں کے معیار زندگی کے ساتھ قابل موازنہ بنا دیے جانے کا دعوی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اب تک بھارت کے کئی شہر نہ صرف عام شہریوں کے لیے ٹائلٹ جیسی سہولتوں سے متعلق بنیادی انفرااسٹرکچر تک سے محروم ہیں، بلکہ وہاں ہر سال لاکھوں انسانوں کی دیہی علاقوں سے آمد کے باعث یہ صورت حال بہتر ہونے کے بجائے خراب تر ہو تی جارہی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے پہلے مرحلے میں ملک کے طول و عرض میں واقع جن 20 شہروں کو اسمارٹ بنانےکا اعلان کیا تھا ان میں سے 13 ایسے تھے، جو عالمی ادارہ صحت کی دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل تھے۔ ان میں سرفہرست بھارتی دارالحکومت نئی دہلی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2022 تک ملک کے 100شہروں کو اسمارٹ سٹی بنا دیں گے۔ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت مثالی ہو گی اور حکومت بھی زیادہ تر الیکٹرانک طریقے سے یا ’ای گورنمنٹ‘ کی صورت میں کام کرے گی۔ انہوں نے سب سے زیادہ زور ان شہروں میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے جدید اور ماحول دوست طریقوں کے استعمال اور بہت اچھے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم پر دیا تھا۔

نئی دہلی سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ان شہروں کو اسمارٹ بنانے کے سلسلے کا مقصد عمومی معیار زندگی میں بہتری کے علاوہ یہ بات بھی ہو گی کہ وہاں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے، جس سے چار ملین کے قریب روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اسمارٹ سٹی کسے کہتے ہیں؟

بھارت کی حکومت کی جانب سے بیس شہروں کو اسمارٹ سٹی بنانے کا منصوبہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں بہت سے افراد نے ایک دوسرے سے یہ سوال پوچھنا شروع کردیا ہے کہ اسمارٹ سٹی آخر کس بلا کا نام ہے اور اس میں ’’اسمارٹ‘‘ حقیقتا کون ہوتا ہے؟ شہر یا شہر میں رہنے والے؟

اگر شہر میں رہنے والےاسمارٹ ہوں اور یہی اسمارٹ سٹی کا مقصد ہوتو اس سے لوگوں کا کیا فایدہ ہوگا؟ بعض افراد سوال کرتے ہیں کہ اگر سٹی اسمارٹ ہو، مگر اس میں رہنے والے اسمارٹ نہ ہوں تو پھرکیا اس سٹی کو اسمارٹ کہا جاسکتا ہے؟بعض چالاک بلڈرزاسمارٹ سٹی کا تعلق بہ راہ راست زمین سے جوڑتے ہیں اور بھارت میں انہوں نےیہ سوچ کر فوری طور پر زمین خریدنے کا کام شروع کردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کون سی بات یا عناصر ہوتے ہیں جو شہروں کو اسمارٹ سٹی بناتے ہیں؟ کیا دنیا بھر میں موجودہ شہروں کو ہی اسمارٹ سٹی بنا یا جائے گا یا پھر نئے شہر تعمیر کرناہوں گے؟ پرانے مکانات کی تزئین کاری کرکے اسمارٹ سٹی بنایا جاسکتا ہے یا پھر نئے شہروں کو آباد کرنا ہوگا؟ اگر نئے شہروں کو اسمارٹ سٹی کے لیے آباد کرنا ہوگا تو پھر بلڈرزکی پانچوں انگلیاں گھی میں اورسر کڑاہی میں ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ اگر اسمارٹ سٹی کے لیےنئے شہر تعمیر کرنا ہوںتو کئی باتوں پر غور کرنا ہوگا، جیسے گھروں یا فلیٹس کی الاٹمنٹ کا طریقہ، ماحولیات کے ماہرین کی شرکت۔ پھر یہ کہ اس نئے شہر میں کس کے لیے کتنے فلیٹس ریزرو رکھنے ہیں؟جب دیہات تباہ ہورہے ہوں ایسے میں اسمارٹ سٹی کی طرف رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟ 

جیسے سوالات اپنا سر اُٹھائیں گے۔ ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے میں بہت وقت صرف ہوجائے گا۔ ایسے میں راستہ کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے؟ دراصل اسمارٹ سٹی کاسفر ہمیں یہ بتائے گا کہ ہم کہاں تھے اور کہاں جائیں گے۔

آئیے، اس سفرکے دوران اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب چلتے ہیں۔ اس شہر میں بہت سے سوالات سے معلومات کا ایک ذخیرہ جمع ہوگیا ہے۔ شہرمیں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے ، ان لوگوں کی پسند، ناپسند ہوتی ہے۔ گیت سننے والے لوگ کون ہیں، روایتی یا کلاسیکی موسیقی کےرسیا کون ہیں، ہپ ہاپ موسیقی سننے والے لوگ کون ہیں اور کسے پینٹنگ اور کسے آرٹ سے دل چسپی ہے۔ 

اس طرح الگ الگ گروپ بنائے گئے ہیں۔ اس بنیاد پر شہریوں کے لیے تفریحی ساز وسامان اور سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ پھر اس میں سائیکلنگ کے لیے بھی راستہ ہوگا۔ اس کے ساتھ پورا شہر وائی فائی نظا م سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے شہریوں کو جو معلومات درکار ہوں وہ حاصل کرسکتے ہیں۔

اس شہر کے باسی کسی فلم یا ڈرامے کا ٹکٹ آن لائن بک کرکے فلم دیکھ سکتے ہیں۔ کہیں ٹریفک جام ہوتو فوراً ایس ایم ایس آجاتا ہے کہ فلاں روڈ سے نہ جائیں ٹریفک جام ہے۔ پھر کون سے راستہ سے کہاں جانا ہے، اس متبادل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔یہ صرف تفریحی سہولتوں کے لیے ہی نہیں ہے، بلکہ روز مرہ کی سہولتیں بھی اسی طرز پر مہیا کی جاتی ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی، واٹر ٹیکس، بجلی کے بل کی ادائیگی، پھر آخری تاریخ سے قبل لوگوں کویاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے۔ 

اگر کسی راستے پر کوئی گڑھا پڑجائے یا بڑا سا پتھر پھسل کر آجائے تو اس کی تصویر کے ساتھ شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ کسی شہری کے قرب و جوار میں اگر کوئی واردات ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر دی جاسکتی ہے۔ وہ اطلاع دیتے وقت کون کہاں سے اطلاع دے رہا ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، انہیں جی پی ایس کے ذریعہ فوراً معلوم ہوجاتا ہے۔ 

ان تمام سہولتوں کے ساتھ شہر کے تمام اسکولز کے جال کہاں سے کہاں تک بچھے ہوئے ہیں، اس کی معلومات بھی دی جاتی ہے۔ ان اسکولز تک رسائی کیسے ہو،یہ اطلاع موبائل اور کمپیو ٹر پر دی جاتی ہے۔ شہر میں داخل ہونے والے نئے لوگوں کے لیے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کون سے علاقے میں کتنے نئے گھر تعمیر ہورہے ہیں اور اس میں خالی کتنے ہیں۔ 

اس کی خرید و فروخت کے لیے یا پھر کرایے پر دینے کے لیے میونسپل کارپوریشن تعاون کرتی ہے۔ اسٹریٹ لائٹس کو آن اور آف کرنے کے لیے بھی شہریوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ تمام امور انجام دینے کے لیے مائیکروسافٹ سمیت بیش تر کمپنیز تل ابیب میونسپل کارپوریشن نے اپنے ساتھ شریک کرلی ہیں ۔ ان تمام کاموں کو انجام دینے کے لیے صاف ستھرا نظام بنایا گیا ہے، ورنہ یہ سب کرنا ناممکن تھا۔یہ ہے اسمارٹ سٹی کا عملی تعارف۔

ماڈل شہر اور موسمیاتی تبدیلیاں

آج دنیا میں ہرطرف سے سرسبز اور اسمارٹ شہر بنانے کی صدا آرہی ہے۔ یورپی کمیشن کی طرف سے بھی ایک پائے دار ماڈل شہر بنانے کی تجویز آچکی ہے۔ دنیا بھر میں شہر توانائی کی پیداوار کا 75 فی صد خرچ کرتے ہیں اور کاربن کے 80 فی صد اخراج کے ذمے دار بھی ہیں۔ موجودہ شہری نظام میں ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور صنعت سب سے زیادہ کاربن کا اخراج کرنے والے شعبے ہیں۔ 

شہر بسانے کےلیے زمین کی تزئین و آرائش کی ضروریات اور مقامی مسائل کا حل نہایت اہم عوامل ہیں۔اسمارٹ سٹی کی اصطلاح ایک نئے ماڈل کا شہر بنانے کےلیے موزوں ہے۔ ماڈل اسمارٹ سٹی اوسط درجے کی کمیونٹی کے لئے بنیادی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ آرام دہ، پر کشش، محفوظ، باہم مربوط اور پائے دار ہونا چاہیے۔

موسمیاتی تبدیلی شہری تناظر میں کس قدر اہم ہے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2020 تک دنیا کی 75فی صد آبادی شہروں میں رہنے لگی تھی۔ دنیا بھر میں اس وجہ سے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ شہروں کی تعمیر میں ماڈرن ٹیکنالوجی کے بجائے سرسبز و شاداب محلّوں اور با سہولت گزرگاہوں میں بہ تدریج اضافہ کیا جائے تاکہ ماحولیاتی پائے داری کا تسلسل برقرا رکھا جا سکے۔ مہارت سے تیار کیے ہوئے سرسبز و شاداب محلّوں پر مبنی ماحولیاتی طور پر پائے دار شہروں کے خاص اجزأ توانائی، ماحولیات اور معیشت ہیں جو آپس میں گہرا ربط رکھتے ہیں۔ 

ان محلّوں کا تصور ہمیں قدیم روایتی طریقوں میں واپس لے جاتا ہے جن کے ڈیزائن میں نہ صرف سرمایہ کاری کم ہو بلکہ وہاں توانائی کی بھی مؤثر بچت ہو اور وہ آلودگی سے بھی مبرا ہوں۔ اسمارٹ شہروں کے پیمانے میں پیدل چلنے کے قابل شاہ راہیں، برقرار رہنے والی ترقی، مقامی غذائی پیداوار اور گلیوں میں گھنے سایہ دار درختوں کی قطاریں شامل ہونا لازمی ہیں۔ 

اس طرح کے ماحول میں رضا کارانہ طور پر پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کی ترغیب ملے گی۔ جس کے نتیجے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ گھریلو باغ بانی اور چھتوں پر باغ گرمی اور شور کی آلودگی کم کرسکتے ہیں اور سستی و صاف خوراک بھی مہیا کرسکتے ہیں۔

کراچی بنے گا ’’اسمارٹ سٹی‘‘، مگر کب؟

جولائی 2015کے دوسرے ہفتے میں کراچی کے شہریوں کو یہ خوش کن اطلاع ملی تھی کہ یہ شہر بہت جلد اسمارٹ سٹی بن جائے گا۔ پھر شہر کے باسیوں کو مفت وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہوگی، جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں گے اور اسٹریٹ لائٹس بجلی کے بجائے شمسی توانائی سے روشن ہوا کریں گی۔

اس کے لیے تین غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں سے باقاعدہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ ان کمپنیوں کا تعلق امریکا، دبئی اور چین سے ہے۔ اس ضمن میں ذرایع ابلاغ کو سندھ کےاس وقت کے وزیراطلاعات و بلدیات، شرجیل میمن نے بتایا تھا کہ دبئی میں طے پانے والے معاہدے پر دست خط کرنے کی تقریب میں تینوں کمپنیز کے نمائندوں کے ساتھ وہ بھی شریک تھے۔

مذکورہ خبر کے مطابق اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں دو تلوار، کلفٹن سے شارع فیصل تک شمسی توانائی سے چلنے والی جدید اسٹریٹ لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جانے تھے اوراس علاقے کی حدود میں موجود تمام افراد کو وائی فائی انٹرنیٹ کی مفت سہولت میسر ہونی تھی۔

دسمبر 2015میں منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کی بات کی گئی تھی۔پہلے مرحلے پر20ملین امریکی ڈالرز کے مساوی لاگت آنی تھی۔ پورے منصوبے پر 200ملین امریکی ڈالر ز کے مساوی رقم خرچ ہونے کی بات کی گئی تھی۔

پھر سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے 9اگست 2015 کو کہا تھا کہ کراچی کے بعد سندھ کے دیگر شہروں کو بھی اسمارٹ سٹی بنایا جائے گااور وہاں بھی سولر اسٹریٹ لائٹس، کلوز سرکٹ کیمرے اور مفت وائی فائی سروس فراہم کی جائے گی۔ سابق وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کی جانب سے کیے جانےوالے معاہدے کو مزید آگے بڑھایا جائے گااور جلد ہی کراچی میں اس سلسلے میں عملی اقدامات شروع کردیے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر کراچی کے دفتر میں کراچی کو اسمارٹ سٹی بنانے کے معاہدے پر دست خط کرنے والی کمپنیز کے چیرمین، چیف آپریٹنگ آفیسراور ڈائریکٹرزسے،جو کراچی کے دورے پر آئے ہوئے تھے، ملاقات کے دوران کیا تھا۔اس موقعے پر صوبائی وزیر کو دبئی میں ہونے والے معاہدے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا اور سولر اسٹریٹس لائٹس کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی تھی۔

انہیں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ سولر لائٹس معہ کلوز سرکٹ کیمرا اور مفت انٹرنیٹ وائی فائی سسٹم پر مکمل سرمایہ کاری امریکا کی سرمایہ کار کمپنی کررہی ہے اور اس سلسلے میں حکومت سندھ کو کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرنا ہوگی۔معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں دو تلوار سے شارع فیصل سے قائد آباد تک تمام اسٹریٹ لائٹس کو سولر لائٹس میں تبدیل کیا جائے گا اور ان میں کلوز سرکٹ کیمرے اورفری انٹرنیٹ وائی فائی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اسے پورے کراچی میں موجود اسٹریٹ لائٹس تک پھیلادیا جائے گا۔

اس وقت صوبائی وزیر، ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سولر اسٹریٹ لائٹس کے منصوبے کو کراچی کے بعد سندھ کے دیگر شہروں قصبوں اور دیہات تک وسیع کیا جائے گا تاکہ ایک جانب بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکے تو دوسری جانب عوام کو سیکیورٹی اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبے پر کام کا آغاز جلد ہی کردیا جائے گا۔ مگر دسمبر تو کیا جنوری2015 بھی گزرگیا،لیکن کراچی کو اسمارٹ بنانےکے ضمن میں کوئی عملی کام نہیں ہوسکا تھا۔ پہلا مرحلہ مکمل ہونے کی بات تو چھوڑیں۔

پھر کچھ کام ہوتا نظر آیا۔اب تقریبا گیارہ برس بعد بائیس جنوری کو ایک خبر نظر سے گزری ۔اس روز وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ شہر کے لیے اہم ہے اور کراچی کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

اس روز سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اجلاس ہوا تھاجس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ای چالان متعارف کرانے کے بعد اب سیف سٹی کا پہلا فیز لانچ کرنے والے ہیں۔

مذکورہ اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت 1300کیمرے اور 300پول سائٹس پر نصب کیے جا چکے ہیں۔ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمروں اور ٹیکنالوجی کی تنصیب مکمل ہے۔ اس موقعے پروزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دو ماہ میں کراچی سیف سٹی پروجیکٹ فعال کیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ نے بتایا تھاکہ شہر میں 254 کلومیٹر فائیبر کیبل بچھاچکے ہیں،18پوائنٹس آف پریزنس اور 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں فیز ون کا حصہ ہیں۔

ترجمانِ سندھ حکومت کے مطابق اس اجلاس میں سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے34ماہرتیکنیکی و انتظامی افسران کی بھرتی اور 200 ملین روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیف سٹی اتھارٹی عارضی طور پر سینٹرل پولیس آفس سے کام کرے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہااجلاس کے شرکا کو بتایا تھا کہ حیدرآباد اور سکھر میں بھی سیف سٹی منصوبہ لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ملاحظہ کیا آپ نے، یہ ہے ہمارے کام کی رفتار اور دوسری جانب اب لوگوں کے ساتھ شہر بھی اسمارٹ ہونے لگے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید