پاکستان اِن دِنوں ایک بار پھر دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کی لپیٹ میں ہے۔چند یوم قبل اسلام آباد میں دہشت گری کی ایک بزدلانہ کارروائی میں تیس سے زائد افراد کی قیمتی جانیں گئیں اور ڈیڑھ سے سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے۔کبھی اس میں کمی آجاتی ہے اور کبھی اس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ ان مذموم کارروائیوں کے اوقات اکثر بہت معنی خیز ہوتے ہیں۔
اب بھی جو دہشت گردی کی گئی ہے اسے بعض اہم غیرملکی شخصیات کی پاکستان آمدکے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔پاکستان میں جب بھی استحکام آنے لگتا ہے، اسے ملکی یاعالمی سطح پر کوئی کام یابی حاصل ہونے لگتی ہے،یا کوئی اہم شخصیت ملک میں آتی ہے تو یہ سلسلہ زور پکڑنے لگتا ہے۔اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے۔
بڑھتی دہشت گردی اور گزرا برس
گزشتہ برس پاکستان کو ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر جو کام یابیاں حاصل ہوئیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن اسی برس دہشت گردوں کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود ملک میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا اوردہشت گردوں کے حملوں میں سالانہ بنیادوں پر34فی صد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں21فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ برس ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔ اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار34افراد جاں بہ حق اور13سو66زخمی ہوئے، جو2021میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختون خوا سے بلوچستان تک بدلتی ہوئی حکمت عملیاں سکیورٹی چیلنج کو مزید وسیع کر رہی ہیں۔ دہشت گردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42فی صد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہل کار تھے، جن میں437جانیں ضائع ہوئیں، جو محاذ پر لڑائی کی شدت اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ 354 عام شہری بھی جان سے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں میں مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ تنازع زیادہ تر علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں95فی صدسے زائد حملے خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں ہوئے۔
خیبرپختون خوا میں واقعات میں 40 فی صد اضافہ ہوا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں413دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بہ حق اور 698 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے چیلنج تھے۔
بلوچستان میں 2025کے دوران254حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بہ حق اور 607 زخمی ہوئے۔ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہ راہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکم رانی کو متاثر کرنا تھا۔
سندھ میں 21دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں 16شامل تھے۔ ان واقعات میں 14 افراد جاں بہ حق اور 17زخمی ہوئے۔ پنجاب میں سات حملے ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں کم تھے، جن میں پانچ افراد جاں بہ حق اور دو پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔ گلگت بلتستان میں تین حملے رپورٹ ہوئے، جن میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے۔
اقتصادی حالت پر ضرب
پاکستان اِن دنوں اپنی اقتصادی تاریخ کےبہت بُرے دورسے گزر رہا ہے۔ لہذا عوام کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی بہت مشکل ہوچکا ہے۔ اس پر مستژاد یہ کہ ہم پر واجب الادا قرضوں اور ان کے سُود کا بوجھ ہماری سکت سے کہیں زیادہ ہوچکا ہے۔
یہ قرضے تو کیا، ان کا سُود ادا کرنا بھی اب ہمارے لیے انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ اس صورت حال کی بہت سی وجوہات ہیں۔ دو دہائیوں میں دہشت گردی ان میں سے ایک بہت اہم وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار ی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے۔
تاہم اب فضا بدلنے کے اشارے ملنے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں بعض دوست ممالک سے اہم وفود پاکستان آئےاور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی امیدپیدا ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ تبدیل ہورہی ہے۔ ایسے میں دہشت گردوں نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے اور یہاں آنے والے غیر ملکی بھی ان کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
ہمارا دشمن یہ ہی چاہتا ہے کہ دنیا پاکستان سے کوئی واسطہ نہ رکھے۔ اسے خطرہ ہے کہ کام یاب بیرونی سرمایہ کاری سے خلیج اور اس سے باہر دیگر ممالک کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔
ہمارے بعض دوست ممالک کے پاس وافر فنڈز ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے روشن مواقع موجود ہیں۔ ان سے سرمایہ کاری کی بات کئی برس سے چل رہی ہے، لیکن اب تک زیادہ سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کار عام طور پر اس ملک کا رخ کرتے ہیں جہاں امن و امان، سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل پایا جاتا ہو۔
بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے پاکستان میں یہ بات ناپید رہی ہے۔ دوسرا نکتہ کسی منصوبے کو جاذب نظر بنانے کے لیے عالمی سطح کی فزیبلیٹی رپورٹ ہوتی ہے جس سے سرمایہ کار پر واضح ہو جائے کہ منصوبہ کتنا فائدہ مند ہوگا۔ اس راہ میں دہشت گردی اکثر رکاوٹ بن جاتی ہے۔
سرمایہ کاری کے لیے تین شعبے بہ طور خاص چنے گئے ہیں جو زراعت، توانائی اور معدنیات کے ہیں۔ یہ تینوں شعبے غیر ملکی سرمایہ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری سے پاکستان کی اقتصادی نمو کی شرح بہتر ہوگی، روزگارکے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ہمارے بیرونی دوستوں سے تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوگا۔
ایسے میں ہمارا یہ فرض ہے کہ ان منصوبوں کے لیے فول پروف سکیورٹی مہیا کریں۔ دراصل سرمایہ کار ان پرندوں کی مانند ہوتے ہیں جو فضا سے آہستہ آہستہ زمین پر اترتے ہیں لیکن بندوق کا ایک فائر ہو جائے تو اس کی آواز سن کر سہم جاتے ہیں اور آناً فاناً اڑ جاتے ہیں۔ اگر یہ منصوبے کام یاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری ہوگی اور دہشت گرد یہ ہی نہیں ہونے دینا چاہتے۔
دہشت گردی صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے
لیکن ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردی صرف ہمارا مسئلہ ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2015 میں عالمی معیشت کو دہشت گردی کی وجہ سے 89 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا تھا جوایک سال قبل کے مقابلے میں15فی صد کم تھا۔ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک، انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک اینڈ پیس نے گلوبل ٹیررازم انڈکس 2016 جاری کیا تو پتا چلاکہ اس وقت دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ عراق کی معیشت کو نقصان پہنچا تھا اور یہ نقصان عراق کے جی ڈی پی کا 17 فی صد تھا۔ تحقیق کے مطابق دہشت گردی کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح تباہ ہوئی اور اُن ممالک میں جہاں دہشت گرد حملے نہیں ہوئے وہاں سیاحت کی صنعت دوگنی ہوگئی۔
اس غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندی کے شکار ممالک میں قیام امن کے لیے جو وسائل مختص کیے گئے اُس کا ملکی معیشت پر دوفی صد اثر پڑ رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور بوکو حرام جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی سے ان کے حملوں میں کمی آئی، لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود امریکا اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں دہشت گردی کے باعث اموات کی شرح میں 650فی صد اضافہ ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2015میں 29376افراد دہشت گردی کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ دہشت گردی کے باعث ہلاکتوں میں اس سے چار گز شتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال10فی صد کمی آئی تھی۔ دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان اور شام میں ہوئی تھیں۔
عراق میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور نائجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعدادمیں ایک تہائی کمی آئی تھی، لیکن ان تنظیموں نے پڑوسی ممالک میں اپنی کارروائیاں بڑھادی تھیں جس کی وجہ سے او ای سی ڈی کے رکن ممالک میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یاد رہے کہ آرگنائزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ میں زیادہ تر امریکا اور یورپ جیسے امیر ممالک شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق او ای سی ڈی میں شامل 34 میں سے 21 ممالک میں کم سے کم ایک بڑا حملہ ہواتھا جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ جیسے ترکی اور فرانس میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حملے۔ یاد رہے کہ اس سے ایک برس قبل پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں کم سے کم 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
غیرسرکاری تھنک ٹینک کا کہنا تھا کہ ڈنمارک، فرانس، جرمنی، سویڈن اور ترکی میں ایک سال کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات بلند ترین سطح پر تھیں۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ دنیا کے 23 ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کا ڈیٹا امریکا میں قائم ایک کنسورشیم جمع کرتاہے۔ دہشت گردی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق، افغانستان، نائجیریا، پاکستان او شام میں ہوئیں۔ اس وقت کے گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں امریکا 36 ویں نمبر پر، فرانس 29 ویں، روس 30 ویں اور برطانیہ 34 ویں نمبر پرتھا۔
2015 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سب سے مہلک تنظیم رہی اور اس نے دنیا کے252شہروں میں حملے کیے جن میں 3141 افرادمارے گئےتھے۔ نائجیریا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ، ہم سایہ ممالک، نائجر، چاڈ اور کیمرون میں بھی آگے بڑھ رہی تھی اور ان ممالک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 157 فی صد اضافہ ہوگیا تھا۔
پاکستان کا اقتصادی نقصان
آئیے، اس رپورٹ کے ایک برس بعد کی تصویر میں پاکستان کے اعداد وشمار دیکھتے ہیں۔
ملک بھر میں دہشت گردی کی مہمات کے زبردست اقتصادی اثرات کے ساتھ ساٹھ ہزار افراد بھی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اٹھائیس اکتوبر2009 کو پشاور کے مینا بازار میں کار بم کے دھماکے کے بعد پاکستانی شہری اکٹھے ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں نوے افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔ پاکستان کو 2002 سے 2016 تک دہشت گردی سے 118 بلین امریکی ڈالرز اور تقریبا ساٹھ ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
اسٹیٹ بینک نے2016 میں بتایا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا رہے ہیں جس کے بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خصوصی طور اپنی مالی سال کے لیے سالانہ رپورٹ میں کہاتھا کہ2002سےمارچ2024 تک، انتہا پسندانہ تشدد سے ملک کو118.3 بلین ڈالر 12.4 (ٹریلین روپے) کا بالواسطہ اور بلاواسطہ نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اقتصادی نمو اور سماجی شعبے کی ترقی، دونوں کو دہشت گردی سے متعلق واقعات کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس تحقیق میں واضح کیا گیا تھا کہ نقصانات مختلف صورتوں میں تھے جن میں کبھی نہ آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری سے لے کر تجارت میں کمی اور سرمایے کابہ راہ راست ملک سے باہر چلا جانا شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس نے اس کے بیرونی عوامی قرضے کی سطح کو تقریبا دگنا کر دیا۔
تاہم، پاکستانیوں کو پہنچنے والا نقصان روپوں سے زیادہ تھا۔ اس وقت تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ ایس بی پی کی طرف سے جاری کردہ نقصانات کے تخمینہ سے بھی کہیں زیادہ بڑا نقصان ان ساٹھ ہزار جانوں کے نقصان اور اسکولوں، سڑکوں اور دیگر عوامی املاک کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔
کوئی بھی دہشت گردی کے شکار خاندانوں کے دکھ، فاٹا سے بے گھر ہونے والی پوری آبادی کے صدمے اور بم دھماکوں میں بچ جانے والے افراد جو معذور ہو کر اپنے خاندانوں پر بوجھ بن چکے ہیں، کی قیمت نہیں لگا سکتا۔ پاکستان اور عالمی برادری کو ان لامحدود نقصانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے جن کا سامنا ملک کو انتہاپسندی سے جنگ کے دوران کرنا پڑا ہے۔
اسی طرح 2010کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کے باعث 05-2004ءسے 09-2008ء تک پاکستان کو 2,080 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑاتھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والا اوسط نقصان 7 ارب امریکی ڈالر زسالانہ تھا۔ وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق صرف 09-2008ء میں ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت کو 678 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
دستاویز کے مطابق یہ پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ ملک 11 ستمبر 2001کے واقعہ کے بعد عالمی اقتصادی بحران سےبہ خیر و عافیت باہر نکل آئے گا۔ 2007ء میں پاکستان کی معیشت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوئے اور 2008ءکے اوائل میں وہ پوری طرح اس کی لپیٹ میں آگئی۔
دسمبر 2009ءتک ملکی معیشت کا ہر شعبہ دہشت گردی سے متاثر ہو چکا تھا۔ اس بات کا ایک ثبوت ملک میں ہونے والی بہ راہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تھی۔ سرمایہ کاری بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 08-2007ء میں پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری اپنے عروج پر تھی اور اس وقت ملک میں 5 ارب 82 کروڑ امریکی ڈالرز کا سرمایہ آیا۔ مالی سال 10-2009ء (جولائی تا مارچ) کے ابتدائی 9 ماہ میں سرمایہ کاری کی رقم کم ہو کر 1 ارب55 کروڑ امریکی ڈالرز رہ گئی۔
وزارت خزانہ کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹر اشفاق حسن نے بتایا تھا کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں کسی کو بھی یہ خیال نہیں تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پاکستانی معیشت پر کتنے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم بعد میں یہ خیال غلط ثابت ہوا۔
دراصل جب کبھی دہشت گر د شہروں میں عوامی مقامات پر وار کرتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب ہو جا تے ہیں تو جہاں ہلاکتیں ہوتی ہیں وہیں کاروباری سر گر میاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں، ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاری بھی رک جاتی ہے جس سے معیشت تباہ ہو جا تی ہے۔ دہشت گردی کا عفریت معیشت کو کھا رہا ہے۔ غیر ملکی کھلاڑی پا کستان کا رُخ کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ ان کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کار ی کرنے سے اجتناب کر تے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کی تباہی ہوئی، جس کی وجہ سے شمال مغربی پاکستان میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، سرمایہ کاری کا ماحول غارت ہوا، ملکی پیداوار تیزی کے ساتھ پستیوں کی طرف گئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے بیش تر حصوں میں اقتصادی سرگرمیاں جامد ہو کے رہ گئیں۔
پاکستان نے کبھی اس پیمانے کی سماجی، معاشی اور صنعتی تباہی نہیں دیکھی تھی حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب ایک بہ راہ راست جنگ کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔ پاکستان نے اس جنگ کی بہت بھاری معاشی‘ معاشرتی اور اخلاقی قیمت چکائی ہے اور خدا جانے کب تک چکاتا رہے گا۔
ہماری سیاحت کی صنعت تباہ ہو گئی ہے،قومی اور معاشرتی ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچا، ملک ترقی معکوس کی طرف گام زن ہوئی۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے ہاتھوں 2014تک54000 قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا اور ہماری معیشت کو86بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ بہت تباہیاں و بربادیاں لے کر آئی ۔ کتنے لوگوں کی خوشیاں اور ارمان خاک میں مل گئے، کتنے لوگ اس دہشت گردی کی آگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک ہونے والے خودکش دھماکوں کے متاثرین پر کیا گزر رہی ہے؟ ہرصبح طلوع ہونے والا سورج ان کے لیے امید کی کرن لاتا ہے یا نہیں، معلوم نہیں۔
آج سی پیک کے منصوبے ہمارے لیے بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں اوریہ بات دہشت گرد بہ خوبی جانتے ہیں چناں چہ وہ اسے نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت چین نے2015اور 2030 کے درمیان پاکستان میں مختلف شعبوں میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنی ہے جس میں پاکستان کے فرسودہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے علاوہ اس منصوبے کے تحت سڑکوں کے جال بچھانے، ریلوے میں انقلابی تبدیلی لانا، شمالی اور جنوبی معاشی کوریڈور قائم کرنا اور بیجنگ کو گوادر کی بندرگاہ سے ملانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے اور مختلف صنعتی زون بھی قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2015 سے 2018 تک تقریباً 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی اور 2018 سے 2020 کے درمیان پانچ ارب ڈالرز کی اضافی سرمایہ کاری بھی کی گئی۔
اس بڑی سرمایہ کاری کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقعے فراہم ہوئے۔ یہ تعاون اور بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔
اس بڑھتے ہوئے تعاون کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ سی پیک کے ذریعے چین کو خلیجی اور مشرقی افریقا کے ممالک تک پہنچنے کے لیے انتہائی کم مسافت والا راستہ مل گیا۔ پاکستان کے لیے گوادر خطے کی ایک بڑی تجارتی بندرگاہ بن رہی تھی اور پاکستان شمال اور جنوب کے لیے تجارت اور توانائی کا ایک اہم کوریڈور بننے جا رہا تھا۔
یہ سب بعض ممالک کے مفادات کے خلاف تھا اور اپنی ناپسندیدگی ان کے ترجمانوں نے کافی مواقع پر ظاہربھی کی۔ ان کے خیال میں سی پیک ان کے ایشیا اور چین کے بارے میں منصوبوں میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ان ممالک نے مل کر سی پیک کو ناکام بنانے کے مختلف منصوبوں پر کام شروع کر دیا تھا۔
ان کا ابتدائی حملہ سی پیک کے بارے میں غلط معلومات کی مہم تھی جس کے تحت پاکستان کے لیے اس منصوبے کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس منصوبے کا دوسرا اہم جزو پاکستانی حکومت کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر کے اس کے سی پیک سے متعلق عزم کو متزلزل کرنا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے چالاکی سے سول ملٹری تعلقات کی کم زوری اور پاکستان کے اندرونی سیاسی خلفشار اور تقسیم کو استعمال کیا۔
پاکستان میں دہشت گردی2000میں شروع ہوئی اور لوگوں کو اس سے کافی پریشانی کا سامنا رہا۔ یہ 2009میں اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ ملک میں2014میں بھی انتہا پسند عسکری گروہوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، اور پاکستانی افواج کی عمدہ کارگردگی کی بہ دولت اور عوام کے جرات مندانہ حوصلے سے اس میں کام یابی نصیب ہوئی اور یہ آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوگئی، لیکن اب اس نے نئے سرے سے سر اٹھا لیا ہے۔
پاکستان میں مارچ 2024 تک ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 70000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستانی معیشت کو مجموعی طور پر 150بلین ڈالرز سے زیادہ کا مالی نقصان ہوا تھا۔
ہمیں اب یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ اس بار یہ عفریت پہلے کی مانند پنپنے نہیں دیا جائے گااور ہم مزیددجانی اور مالی نقصانات نہیں اٹھائیں گے۔