اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، مبینہ حملہ آور یاسر کے 2 بھائی بلال، ناصر اور بہنوئی عثمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتاریاں ترناب فارم کے علاقے سے عمل میں لائی گئی ہیں، مبینہ خودکش حملہ آور یاسر مسلسل اپنے بہنوئی کے ساتھ رابطے میں تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی انفرادی نہیں، سہولت کاری کے ڈھانچے کا نتیجہ تھی، خودکش حملہ آور مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا۔
جون 2025ء میں مبینہ خودکش حملہ آور نے باجوڑ میں نئی موبائل سم ایکٹیویٹ کی، 27 جون سے اکتوبر تک خودکش حملہ آور یاسر باجوڑ میں مقیم رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور بعد میں باجوڑ سے حکیم آباد نوشہرہ منتقل ہوا، مبینہ خودکش حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد کی امام بارگاہ کی ریکی کی، خود کش حملے سے قبل ہدف کا انتخاب اور نگرانی کئی ہفتوں پر محیط رہی۔
پولیس ذرائع نے کہا ہے کہ حملہ آور نوشہرہ سے ہی خود کش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سے اسلام آباد پہنچا، امام بارگاہ پہنچنے سے قبل حملہ آور قریبی ایک ہوٹل میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھا تھا، حملہ آور کھنہ روڈ سے پیدل چل کر امام بار گاہ تک پہنچا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں داخلے سے روکنے پر حملہ آور نے خود کو گیٹ پر اڑا لیا تھا۔