• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اس روز ٹوکیو کے ایک معروف اور پُرسکون ریسٹورنٹ میں موجود تھا۔ جاپانی لکڑی کی خوشبو، ہلکی موسیقی اور شیشوں کے پار ڈھلتی شام ایک عجیب سا ٹھہراؤ پیدا کر رہی تھی۔ ذہن میں بس ایک خیال گردش کر رہا تھا کہ کچھ ہی دیر بعد میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہونیوالی ہے جسکا نام پاکستان کی سیاست میں کبھی سخت لہجے، اصولی ضد اور غیر مصالحت پسند رویّے کی علامت سمجھا جاتا تھا، اور پھر جو اچانک خاموشی کے پردوں میں چلا گیا۔چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔ ایک پتلے دبلے، سانولی رنگت کے شخص نے اندر قدم رکھا۔ لباس سادہ، چال میں وقار، آنکھوں میں گہری سنجیدگی اور گفتگو میں عجیب سی شفافیت۔ یہ سید فیصل رضا عابدی تھے۔ وہی نام جو کبھی سینیٹ کے ایوان میں گونجتا تھا، جسکے جملے خبروں کی سرخیاں بنتے تھے، اور جسکی اصول پسندی نے اسے اقتدار کے ایوانوں سے باہر دھکیل دیا تھا۔سلام دعا کے بعد گفتگو ماضی سے شروع نہیں ہوئی۔ سیاست کا ذکر آیا بھی تو بس سرسری۔ اصل بات حال اور مستقبل کی تھی، افریقہ کی تھی، انگولا کی تھی اور زمین کے نیچے چھپی اس دولت کی تھی جو آج کی دنیا کی معیشت اور طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سید فیصل رضا عابدی نے بتایا کہ افریقہ کا ملک انگولا اس وقت عالمی طاقتوں کی غیرمعمولی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ برسوں کی خانہ جنگی، تباہی اور غربت کے بعد اب انگولا ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے، اور اس تبدیلی کی بنیاد وہ معدنی ذخائر ہیں جو حالیہ برسوں میں دریافت ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ایک خطہ، جو تقریباً تین سو اسکوائر کلومیٹر پر محیط ہے، قدرتی وسائل کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس پورے علاقے میں مائننگ کیلئے نہ تو دشوار گزار پہاڑ ہیں اور نہ ہی ناقابلِ رسائی وادیاں۔ یہ ایک نسبتاً ہموار علاقہ ہے۔ سید فیصل رضا عابدی کے مطابق جیسے ہی پینتیس سے چالیس میٹر کی گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی، قیمتی دھاتیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ ڈائمنڈ، کاپر، سونا اور سب سے اہم ریئر ارتھ ایلیمنٹس۔ وہ عناصر جن کے بغیر جدید دنیا کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی کھدائی اور مائننگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ کوئی مفروضہ یا مستقبل کا خواب نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ ریئر ارتھ ایلیمنٹس آج عالمی سیاست اور معیشت کا خاموش مگر طاقتور ستون ہیں۔ الیکٹرک گاڑیاں، کمپیوٹر چپس، موبائل فونز، دفاعی نظام، ڈرونز، سیٹلائٹس اور خلائی ٹیکنالوجی سب انہی عناصر پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، جاپان، یورپ اور چین اس دوڑ میں شامل ہیں کہ ان دھاتوں کی سپلائی چین پر کس کا کنٹرول ہو۔اس منصوبے میں Pan African Group اور متحدہ عرب امارات کا United Business Group شامل ہیں، جبکہ سید فیصل رضا عابدی اسکے چیف کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس تین سو اسکوائر کلومیٹر کے علاقے میں موجود معدنی وسائل کی مجموعی ممکنہ ویلیو تقریباً ستانوے ٹریلین ڈالر تک جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ ایک ایسی معاشی حقیقت ہے جو انگولا ہی نہیں، پوری دنیا کے طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران ایک نہایت سادہ مگر گہرا سوال رکھا۔ اگر اس ستانوے ٹریلین ڈالر کے منصوبے میں پاکستان کو محض دو فیصد حصہ بھی مل جائے، تو کیا پاکستان کے معاشی حالات بدل نہیں سکتے؟ کیا قرضوں کا بوجھ، زرمبادلہ کا بحران اور معاشی بے یقینی کسی حد تک کم نہیں ہو سکتی؟وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ حکومتوں کے ناقد ہو سکتے ہیں، مگر ریاست پاکستان کیساتھ انکی وابستگی آج بھی مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی ریاستی مائننگ کمپنیاں، یا ایس آئی ایف سی جیسے فورمز، اس منصوبے کا حصہ بن جائیں، تو پاکستان نہ صرف براہ راست مالی فائدہ حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک باوقار مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔ انکے مطابق انگولا کی معدنیات اگر پاکستان کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچیں تو یہ پاکستان کیلئے ایک تاریخی موقع بن سکتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان کے اندر موجود وسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ سید فیصل رضا عابدی کے مطابق دنیا کے تقریباً تیس فیصد سونے کے ذخائر پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے وہاں نہ مکمل امن ہے، نہ واضح پالیسی اور نہ ہی جدید مائننگ کا نظام۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ریاست وہاں حالات بہتر کرے، سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنائے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائے، تو پاکستان خود معدنیات کے میدان میں ایک بڑی عالمی طاقت بن سکتا ہے۔یہ گفتگو کسی جذباتی تقریر یا سیاسی نعرے جیسی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسے شخص کی باتیں تھیں جو سیاست کے شور سے نکل کر عالمی رجحانات، معاشی حقیقتوں اور طویل المدتی امکانات کو دیکھ چکا ہو۔ جاپان میں ان کی موجودگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ انکے مطابق جاپان کی بڑی صنعتی کمپنیاں جیسے مٹسوبشی اور ہٹاچی، جبکہ جنوبی کوریا کی سام سنگ بھی انگولا میں مائننگ کے مواقع کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ امریکہ پہلے ہی ریئر ارتھ ایلیمنٹس کے معاملے میں چین پر انحصار کم کرنے کیلئے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے، اور افریقہ اس نئی عالمی بساط کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔اس تمام گفتگو کے دوران سید فیصل رضا عابدی میں ایک چیز نمایاں تھی۔ نہ تلخی، نہ شکوہ اور نہ ہی ماضی کی سیاست کا بوجھ۔ بلکہ ایک ٹھہرا ہوا اعتماد اور یہ یقین کہ اگر ریاست سنجیدگی دکھائے تو بڑے مواقع آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ٹوکیو کی اس شام میں، ایک خاموش ریسٹورنٹ میں بیٹھے، مجھے احساس ہوا کہ یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی۔ یہ ایک پیغام تھا، ایک موقع تھا اور ایک سوال بھی۔ کیا پاکستان افریقہ میں ابھرتی اس نئی معدنی معیشت کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے؟ یا ہم ایک بار پھر یہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے کہ یہ سب خواب ہیں؟شاید اب وقت آ گیا ہے کہ خواب اور موقع کے فرق کو سمجھا جائے۔

تازہ ترین