• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند دن پہلے اسلام آباد کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دہشتگردی کے نتیجے میں کم از کم اکتیس افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے جس نے سب کو افسردہ کر دیا۔ یہ محض ایک اور سانحہ نہیں بلکہ ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔ اسلام آباد جیسے محفوظ سمجھے جانیوالے شہر میں اس نوعیت کا حملہ اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی کا ناسور اب بھی ہماری جڑوں میں موجود ہے۔ اس دہشتگردی کے نتیجے میں ہمارے کوئی 80ہزار سے زیادہ شہری اور ہزاروں پولیس، فوج اور دوسری سیکورٹی اداروں کے اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں کئی بیرونی عوامل شامل رہے ہیں۔ امریکی مفادات کیلئے لڑی جانے والی جنگیں، اور بھارت کی سازشیں وہ عوامل ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا اور افغان طالبان کاہمارے تمام احسانات کے باوجود بھارت کے ہاتھوں استعمال ہونا بھی ایک تلخ حقیقت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ناکامیوں کا تمام بوجھ صرف بیرونی سازشوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟ ریاست نے اب تک دہشت گردی کے مقابلےکیلئے زیادہ تر کنیٹک یعنی عسکری اقدامات پر انحصار کیا ہے۔ آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے، نیٹ ورکس توڑے گئے، چند سال پہلے پاکستان میں دہشتگردی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا لیکن عمران خان کی حکومت کے ایک فیصلے نے دہشتگردی کےعفریت کو پھرسے سر اُٹھانے کا موقع دے دیا۔ مسئلہ صرف بندوق سے حل ہونے والا نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان بنا، مگر اس پر مکمل اور مسلسل عمل درآمد نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم علامات کا علاج کرتے رہے، بیماری کو ختم نہ کر سکے۔ میری ذاتی رائے میں پاکستان کی تاریخ کی ایک بہت بڑی اور بنیادی غلطی جس پر کسی کی توجہ نہیں اُس کا اعتراف ہم کھل کر نہیں کرتے: اسلام کو ریاستی سطح پر آؤٹ سورس کر دینا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ یہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے، قرآن و سنت کے مطابق نظام کی بات کرتا ہے۔ مگر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ دین سے ایک فاصلہ رکھا۔ خود لبرل بننے کے چکر میں اسلام کو آؤٹ سورس کر دیا۔ نہ خود رہنمائی کی، نہ واضح سمت دی، اور یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر مختلف گروہوں، فرقوں اور مفاداتی عناصر کے حوالے کر دی گئی۔ اس آؤٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے نام پر نئی نئی تعبیرات سامنے آ گئیں۔ کچھ گروہوں نے اسلام کے نام پر مسلمان کو مسلمان کا دشمن بنا دیا۔ ہر فرقہ اپنا اسلام پیش کرتا ہے، ہر گروہ اپنے نظریے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ مسجد کو بھی فرقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ مسجد فلاں کی ہے، وہ مسجد فلاں کی۔ یہ صورت حال نہ صرف مذہبی انتشار کو جنم دیتی ہے بلکہ انتہاپسندی کیلئے زرخیز زمین بھی فراہم کرتی ہے۔ جب ریاست خاموش ہو جائے تو خلا کو شدت پسند پُر کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپتی ہیں۔ جب نوجوانوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے پیچھے لگ سکتےہیں۔ یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی اس تاریخی کوتاہی کو درست کرے۔ اسلام کے نفاذ کا مطلب کسی مخصوص فرقے کو مسلط کرنا نہیں بلکہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک ایسا متوازن، انسان دوست اور قانون پسند نظام متعارف کرانا ہے جو زندگی، مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس اور مساجد کے نظام سے اپنے آپ کو مکمل علیحدہ رکھنے کی سوچ کو ختم کرے، واضح معیارات مقرر کرے، اور نفرت انگیز تعبیرات کیلئے عدم برداشت کی پالیسی اپنائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بارود سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کیلئے ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ جب تک ریاست اپنے وعدے پورے نہیں کرے گی، جب تک اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کے بجائے خود ذمہ داری نہیں لے گی،پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کاوعدہ پرخلوص انداز میں پورا نہیں کرے گی تب تک ہم ایسے سانحات پر صرف افسوس ہی کرتے رہیں گے۔

تازہ ترین