کراچی (رفیق مانگٹ) برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدے نے امریکا کو نئی دہلی سے تعطل ختم کرنے پر آمادہ کیا ، یو اے ای، آسٹریلیا، ای ایف ٹی اے، برطانیہ اور نیوزی لینڈ کے بعد بھارت کی تجارتی سفارت کاری کا نیا مرحلہ ۔ بھارت طویل عرصے تک اپنی معیشت کو تحفظاتی پالیسیوں کے حصار میں رکھے ہوئے تھا، اب آزاد یا نسبتاً آزاد تجارت کی جانب نمایاں قدم بڑھا رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے یورپی یونین اور امریکا کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے کر کے بھارتی معیشت کو عالمی منڈیوں کے ساتھ مزید جوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے، جسے ماہرین ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ یورپی یونین اور امریکا کے ساتھ معاہدے دنیا کی دو سب سے بڑی صارف منڈیوں تک بھارت کی رسائی بڑھاتے ہیں۔ ان سے قبل بھارت نے 2022 میں متحدہ عرب امارات اور آسٹریلیا، 2024 میں یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن، اور گزشتہ سال برطانیہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ نسبتاً چھوٹے تجارتی معاہدے کیے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری سے اہم بھارتی برآمدات متاثر ہو رہی تھیں، یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تقریباً 20 سال سے زیرِ التوا معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ایک اہم عنصر ثابت ہوئے۔