• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن



قیام پاکستان کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے چیف جسٹس پاکستان کے طور پر ایک انگریز جج کا نام تجویز کیا مگر قائداعظم نے یہ سفارش ماننے سے انکار کردیا ۔ پاکستان کے چیف جسٹس بننے کیلئے سفارشیں کروانے والے اس انگریز جج کا نام جسٹس Leonard Stone ہے جو اُس وقت ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے ۔بعض روایات کے مطابق یہ سفارش نہ ماننے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جسٹس لیونارڈ اسٹون نے بطور چیف جسٹس قائداعظم سے ان کا چیمبر خالی کروالیا تھا۔ جناح پیپرز ،زیڈ ایچ زیدی ایڈیشن کے مطابق بمبئی بار کے گراؤنڈ فلور پر روم نمبر 11قائداعظم کے استعمال میں تھا اور قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کو اس بار میں وکالت کرتے ہوئے پچاس برس ہو چکےتھے۔ چیف جسٹس لیونارڈ اسٹون نے 12مارچ1947ء کو ہائیکورٹ کے افسر رحیم تولا کے ذریعے قائداعظم کو پیغام بھیجا کہ چونکہ اب وہ اس بار میں وکالت نہیں کرتے اسلئے یہ چیمبر خالی کر دیں۔ چند روز بعد ہی قائداعظم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ کمرہ خالی کردیا۔ چند ماہ بعدہی کمرہ خالی کروانے والے یہی چیف جسٹس قائداعظم سے نوکری کی بھیک مانگتے اور سفارشیں کرواتے نظر آئے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے تقریباً دو سال بعد تک ہمارے ہاں سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہ تھا ۔23فروری1949ء کو گورنر جنرل نے آزادی ہندوستا ن ایکٹ کی شق9کے تحت حاصل اختیارات کی رو سے ایک حکم جاری کیا جسکے مطابق پاکستان فیڈرل کورٹ کا قیام عمل میں لایا جانا تھا ۔مگریہ وفاقی عدالت مئی 1949ء میں قائم کی جا سکی ۔لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس عبدالرشید کو فیڈرل کورٹ کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ۔اس کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ سے جسٹس عبدالرحمان جبکہ مشرقی بنگال ہائیکورٹ سے جسٹس اے ایس ایم اکرم کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

نوزائیدہ فیڈرل کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سے عمارت مستعار لیکر کام شروع کیا اور جب فیڈرل کورٹ کیلئے جگہ کا تعین ہونے لگا تو چیف جسٹس سرعبدالرشید نے تجویز دی کہ فیڈرل کورٹ کی مستقل نشست لاہور میں ہونی چاہئے ۔جسٹس عبدالرشید کا استدلال تھا کہ لاہور نہ صرف مغربی پاکستان کا مرکز ہے بلکہ یہاں سینئر موسٹ کورٹ بھی ہے اور لائبریری میں کتب کا وسیع ذخیرہ بھی ۔

جسٹس عبدالرشید شاید یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ مشرقی پاکستان جہاں ملک کی نصف سے زائد آبادی ہے،وہاں کے عوام کو انصاف کے حصول کیلئے کس قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑئیگا۔یوں بنگالیوں سے ناانصافیوں کا آغازعدلیہ سے ہی ہوگیا۔ایک اور غلط روایت تب پڑی جب فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس عبدالرحمان ریٹائر ہوگئے تو اصولاًہائیکورٹ کے سینئر ترین جج کووفاقی عدالت جانا چاہئے تھا مگر جسٹس منیر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا طاقتور ترین منصب نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اسلئے انہوں نے فیڈرل کورٹ جانے سے انکار کردیا اور یوں جسٹس کارنیلئس جنکے فیصلوں سے انتظامیہ تنگ تھی انہیںفیڈرل کورٹ کا جج بنا دیا گیا ۔بعد ازاںدو مزیر تقرریاں ہوئیں تو مشرقی بنگال ہائیکورٹ سے جسٹس شہاب الدین جبکہ لاہور ہائیکورٹ سے جسٹس محمد شریف کو فیڈرل کورٹ بھیجا گیا۔ جسٹس عبدالرشید کے دور میں فیڈرل کورٹ کا کردار بہت محدود تھا اور زیادہ تر فیصلے ہائیکورٹس کی سطح پر کئے جاتے تھے۔ ابتدائی دور میں لاہور ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے چند قابل تحسین فیصلے کئے۔مثال کے طور پر جب پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ’’نیازمانہ‘‘اخبار کو سکیورٹی ڈیپازٹ کیلئے کہا گیا تو عبداللہ ملک vsکراؤن کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے اس حکم کو کالعدم قرار دیدیا۔ماتحت عدلیہ بھی اعلیٰ عدلیہ کی تقلید کرتی دکھائی دی۔ضمیر نیازی اپنی کتاب ’’Press in chains‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ماہنامہ جاوید میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘شائع کرنے پر جریدے کے مالک ،مدیر اور منٹو کو چھ ماہ کیلئےجیل بھیج دیا گیا ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں اپیل کی گئی تو باریش جج عنایت اللہ خان نے انہیں رہاکرتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے تمہاری درخواست مسترد کردی تو کہا جائے گا کہ ایک مولوی نے منٹو کو جیل بھیج دیا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی رجحان رکھنے والے ماتحت عدالت کے جج نے سعادت حسن منٹو کو رہا کیا مگر جب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو سیکولر نظریات کے حامل جسٹس منیر نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے منٹو کو ایک با رپھر جیل بھیج دیا۔ روزنامہ ’’امروز‘‘میں ’’گر تو برا نا مانے‘‘ کے نام سے ایک فکاہیہ کالم شائع ہوا جس میں پاکستان سیکورٹی ایکٹ پر تنقید کی گئی ۔اس پر کارروائی ہوئی تو ہائیکورٹ میں اپیل کی گئی ۔خوش قسمتی سے جسٹس منیر اس بنچ کا حصہ نہ تھے اسلئے ہائیکورٹ نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیدیا ۔اسی طرح چند دیگر فیصلوں میں بھی یہ رجحان دیکھنے کو ملا مگر پھر رفتہ رفتہ لاہور ہائیکورٹ کے جج صاحبان حاکمان وقت کی خواہشات کے مطابق فیصلے دینے لگے ۔

وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے سیاسی مخالفین کی سرکوبی کیلئے کالے قانون بنتے رہے ،لیاقت علی خان کے دور میں Public and representative offices Disqualification act ’’پروڈا‘‘ آیا۔صوبائی حکومت نے پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ بنایا ،سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952ء کے ذریعے ناقدین کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔مگر عدلیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

لاہور ہائیکورٹ کے برعکس سندھ چیف کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے دیئے گئے جو تاریخ کا حصہ بنے مثال کے طور پر وزیراعلیٰ ایم او کھوڑو جنہیں ’’پروڈا‘‘ کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا ،انہوں نے اپنی نااہلی کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا ۔سندھ چیف کورٹ نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ پروڈا کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کو اسپیشل ٹریبونل تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔

چیف جسٹس عبدالرشید کی عدالت میں ہی ایک ایسا ٹیڑھا ستون کھڑا کیا گیا جسکے نتیجے میںپاکستان عدلیہ کی عمارت ابھی تک سیدھی نہیں ہو سکی۔راولپنڈی سازش کیس میں میجر جنرل اکبر خان ،فیض احمد فیض اور دیگر افراد کا ٹرائل کرنے کیلئےایک اسپیشل ٹریبونل تشکیل دیا گیا ۔راولپنڈی سازش کیس ٹریبونل نے سزائیں سنادیں تو انہیں فیڈرل کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے یہ نکتہ اُٹھایا گیا کہ آزادی ہندوستان ایکٹ کے سیکشن 8کےسب سیکشن 1کے تحت دستور ساز اسمبلی کو آئین سازی کا مینڈیٹ دیا گیا ہے ،یہ قانون ساز اسمبلی نہیں اسلئے اسے اسپیشل ٹریبونل بنانے کا اختیار نہیں ۔فیڈرل کورٹ نے یہ اپیل خارج کردی۔خصوصی عدالتیں ،کمیشن اور ٹریبونل بنانے کا مطلب عدلیہ پر عدم اعتماد ہوتا ہے اور ایسا تب کیا جاتا ہے جب حکومتیں کسی معاملے کو دبانا چاہتی ہیں یا اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔اگر تب عدلیہ اس بات کا نوٹس لیتی تو یہ سلسلہ وہیں تھم جاتا لیکن اس فیصلے کی توثیق کرکے من چاہے فیصلوںکا فلڈ گیٹ کھول دیا گیا۔

تازہ ترین