• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض سانحات،واقعات اور حادثات ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ دکھی رکھتے ہیں۔جن کے زخموں سے خون رستا ہی رہتا ہے۔جن میں شہید ہونے والے افراد کی روحیں تڑپاتی رہتی ہیں۔ملکی و قومی تاریخ ایسے المناک سانحات و حوادثات سے بھری پڑی ہے۔کراچی کے گل پلازہ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہےجو ہمارے ضمیروں کو ہمیشہ جھنجھوڑتا رہے گا۔آپ جانتےہیں کہ کراچی کو علم،ادب ، مروت، سخاوت اور روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا لیکن اب صرف ایمبولینس پر لگی گھومتی ہوئی روشنی یہاں دلوں پر سنسنی دوڑاتے ہوئے راج کرتی ہے اور وہ بھی جب تلک پہنچے، حیات کی روشنی کا سامان کرتے چراغ گل ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہاں بازار کھلتے ہیں تاکہ ملک کی شریانوں میں زندگی کی رمق دوڑتی رہے ، لیکن اس شہر والوں کی قسمت کا بازار ایک عرصہ سے مندی کا شکار ہے ۔مزاحمت بھی ہوئی، آوازیں بھی لگیں، لیکن آوازوں کا منبع الگ الگ تھا، مسلک الگ تھے ،زبانیں الگ تھیں سو باہم گتھم گتھا ہوئیں، کچھ شاید خرید لی گئیں، کچھ خاموش کروا دی گئیں اور رفتہ رفتہ سمجھوتا کرلیا گیا ،کیوں نہ کیا جاتا ،ایوان اقتدار کی غلام گردشوں سے تو اس شہر اور صوبے کی ترقیاتی رپورٹ کی بازگشت گونج رہی ہے،راوی تو چین کی بانسری ہی بجائے گا۔ سڑکیں ہوں، چوراہے ہوں یا کسی بھی نوعیت کے کونے کھدرے وہ اس شہر میں ہمیشہ سرخ رہتے ہیں، چاہے پان ،ماوا اور گٹکا کی پچکاریوں سے ہوں یا خون کی رنگت سے، سرخی اہم ہے باقی کیا فرق پڑتا ہے ؟کچھ بڑی بات نہیں کہ ڈمپر کے نیچے کوئی وجود کچلا جائے یا چند ٹکوں کا موبائل عزیز رکھنے پر سینے میں روشندان بن جائے ۔ یہ احتیاط بہرحال ہوسکتی ہے کہ موبائل گھر رکھ کر نکلیں اور یہی ضروری ہے۔یہاں اب پریشانی بجلی، گیس اور پانی کی عدم موجودگی پر نہیں ہوتی، کبھی یہ نعمتیں میسر ہوں تو ضرور عید کا سا سماں ہوتا ہے ۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے ؟انتظامیہ مُصر ہے کہ یہاں دو کروڑ لوگ بستے ہیں، ہر راہنما کے پاس 2سے 4 کروڑ تک کے اپنے اپنے اعداد و شمار ہیں لیکن اخبارات و ویب سائٹس کی پوٹلیوں سے حقائق کے اژدھے نکلتے ہیں تو زہریلی سنسناہٹ رگ و پے میں سرد لہر دوڑا دیتی ہے ۔80 سے 85 لاکھ کی آبادی والے شہر نیو یارک میں فائر بریگیڈ کے 700 اسٹیشنز ہیں ، آگ کی حدت اور تباہ کاریوں سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ دو کروڑ نفوس بھی بستے ہوں تو 200 فائر بریگیڈ اسٹیشن ہونا ضروری ہیں، لیکن یہ شہر صرف 28 فائر بریگیڈ اسٹیشنز کے ساتھ زندگی کا یہ بے ہنگم ریوڑ ہانک رہا ہے،جہاں موجود آگ بجھانے والی گاڑیوں کی تعداد 36 ہے، کام کرنے والے لوگ ہیں یا نہیں؟ گاڑیوں میں فیول ،بنیادی لوازمات کی موجودگی الگ قصہ ہے، متعلقہ لوگ تربیت یافتہ کتنے ہیں یہ کتھا بالکل مختلف ہے اور اس بھاگتے دوڑتے شہر میں اتنی کہانیاں لیکر بیٹھ گئے تو ڈمپر سے کیسے بچیں گے؟ بندوق کی نالی کو کیسے دور رکھیں گے اور بے نام ہونے کا دکھ یا غیر مقامی و متعصب ہونے کا طعنہ کیسے سہیں گے ؟ اگر گزشتہ ایک سال میں یہاں آگ لگنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں تو ہوتے رہیں، بڑے بڑے شہروں میں چھوٹے بہت واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ابھی تو فلاں اور فلاں وزیر نے تفصیلات بتائی تھیں کہ دنیا کے کون کون سے شہر میں کتنے کتنے لوگ جل کر خاکستر ہوگئے، امیر شہر نے کہا بھی تھا کہ وہ خود جائے حادثہ پر 23 گھنٹوں بعد ہی سہی آئے تو ہیں ،وہ کہیں اور بھی جاسکتے تھے ۔ پھر بھی یہ ناگواری، یہ نعرے اور یہ کھسر پھسر ؟بس سر جھکا کر کاموں میں جت جائیے۔

تازہ ترین