؎ مردمِ چشمِ زمیں یعنی وہ کالی دُنیا…وہ تمہارے شُہدا پالنے والی دُنیا…گرمیٔ مہر کی پروردہ ہلالی دُنیا…عشق والے جسے کہتے ہیں بِلالیؓ دُنیا۔ یہ اشعار علّامہ اقبالؒ کی نظم’’جوابِ شِکوہ‘‘سے ہیں۔ اِن دو اشعار کا تعلق صومالیہ یا صومالی لینڈ سے نہیں ہے۔ گرچہ ’’کالی‘‘،’’ہِلالی‘‘ اور ’’بلالیؓ‘‘ دُنیا سے بظاہر مُراد تو سر زمینِ حبشہ ہے، لیکن چوں کہ پورا برّ ِاعظم افریقا ہی’’کالی دنیا‘‘ ہے، تو اِسی نسبت سے صومالیہ کے حالات سے متعلق لکھتے ہوئے یہ اشعار حوالہ بنے۔ مغرب کی استعماری طاقتیں ہم پر صدیوں مسلّط رہیں۔
غلام قومیں بظاہر آزاد ہو گئیں، لیکن مغربی تہذیب و تمدّن، معیشت و معاشرت اور کلچر کا جادو اُن پر اب بھی سوار ہے۔ ہمارے گھروں میں اُن کی مصنوعات کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اِس لیے اُن کے ساتھ ہمارا تعلق و تعامل(interaction) کسی نہ کسی صُورت قائم رہتا ہے۔ ہم اُن کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، لیکن اِس کالی، ہِلالی اور بلالیؓ دنیا سے متعلق ہماری معلومات بہت محدود ہیں۔
یہاں تک کہ خاصے پڑھے لکھے افراد بھی افریقی ممالک سے واقف نہیں ہیں۔ ہمارے دانش وَروں، کالم نگاروں اور طلبہ کو دُنیا کے امیر ترین افراد کے نام اچھی طرح یاد ہیں، لیکن اُن میں سے شاید دو، چار فی ہزار بھی نہ جانتے ہوں گے کہ اسی ’’کالی دنیا‘‘ کے مغرب میں کبھی ایک ایسی ریاست بھی رہی ہے، جس کا نام مالی اور اس کے بادشاہ کا نام، منسا موسیٰ تھا۔
اس بادشاہ نے1312عیسوی سے1337 عیسوی کے درمیان مالی پر حکومت کی۔ وہ جب حج پر گیا، تو راستے میں غریبوں، مسکینوں کو بطورِ صدقہ سونے کے ٹکڑے دیتا گیا۔ اُس کا نام تاریخ میں امیر ترین آدمی کی حیثیت سے درج ہے۔ امریکا کے چار سب سے امیر افراد کے پاس مجموعی طور پر ڈالرز میں جتنی دولت ہے، شاہ منسا موسیٰ کے پاس سونے کی صُورت میں اِس سے بھی زیادہ دولت تھی۔
ہم نے اِنہی صفحات پر افریقی ممالک میں سے سوڈان کا تذکرہ کیا تھا، لیکن ایک تو سوڈان کے حالیہ بحران اور خانہ جنگی میں بعض ایسے مکروہ کردار شامل ہیں، جن کا نام لکھنے سے معیشت اور دوستانہ تعلقات پر ضرب پڑنے کا خطرہ رہتا ہے، تو تذکرہ کچھ گھُٹا گھُٹا، ادھورا ادھورا سا تھا۔ دوسری بات یہ کہ عثمانی خلافت کے دَوران مصری خدیو اسماعیل پاشا نے1870ء اور 1885ء کے درمیانی عرصے میں سوڈان کو مصر میں شامل کر لیا تھا۔
پھر جب مصر پر اقتدار میں عثمانی خلافت کے ساتھ، برطانوی سام راج بھی شریک ہوگیا، تو1899ء سے 1956ء تک سوڈان کو مصر ہی میں شامل رکھا گیا۔ اِس کی وجہ سے شمالی سوڈان اور جنوبی مصر میں نسلی آمیزش کا عمل جاری رہا۔ مصری سوڈانی اور سوڈانی مصری بنتے رہے۔ یوں سوڈان نسلی اور ثقافتی لحاظ سے خالص’’کالی دُنیا‘‘کا نہ رہا۔ خدیو اسماعیل پاشا نے زیلع، بربرہ اور بلہار کی اہم ترین بندرگاہیں اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔ اِن بندرگاہوں کی اہمیت کا اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صدیوں تک خلیجِ عدن کے راستے رومی سلطنت، جزیرۃُ العرب اور مشرقِ بعید سے تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ رہیں۔
بہرکیف، آج ہمارا موضوع صومالیہ اور صومالیہ لینڈ ہے۔ افریقا کا نقشہ دیکھیں، تو یہ جنوب مشرق میں ایک سینگ کی مانند نظر آتا ہے، اِسی لیے اِسے’’قرن افریقا‘‘ (The Horn of Africa) کہا جاتا ہے۔ صومالیہ اِسی قرن یا سینگ پر واقع ہے۔ یہ مشرق میں افریقا کا آخری مُلک ہے۔ اس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ، اسّی لاکھ اور رقبہ چھے لاکھ، سینتیس ہزار، چھے سو ستاون کلومیٹر ہے۔ صومالی اور عربی اس کی سرکاری زبانیں ہیں۔
مغرب میں ایتھوپیا، شمال مشرق میں دیبوچی، جنوب مغرب میں کینیا، جب کہ مشرق میں خلیجِ عدن اور بحرِ ہند ہیں۔ افریقی ممالک میں سب سے طویل ساحل صومالیہ ہی کا ہے۔ موغا دیشو اِس کا قدیم ترین شہر اور دارالحکومت ہے۔ صومالیہ میں2012ء کے عبوری آئین کے تحت پارلیمانی نظام قائم ہے۔ حسن شیخ محمود مُلک کے صدر اور حمزہ عابدی برّے وزیرِ اعظم ہیں۔
صومالیہ کی معاشی حالت اکثر دِگرگوں ہی رہتی ہے۔ یہ مُلک بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دَبا ہوا ہے اور دنیا کا غریب ترین مُلک ہے۔ القاعدہ اور داعش دونوں انتہا پسند تنظیمیں صومالیہ میں مسلسل شورش برپا رکھتی ہیں۔ نیز، قبائلی تنازعات بھی امن و امان پامال کرتے ہیں۔ ناقابلِ برداشت منہگائی کی وجہ سے صومالیہ کے لوگ اکثر قحط کی سی صُورتِ حال سے دوچار رہتے ہیں۔
رسولِ اکرمﷺ کی بعثت کے بعد پانچویں سال اسلام کی نورانی شعائیں حبشہ پہنچ گئی تھیں۔ اُس کے بعد اسلام کی دعوت و اشاعت کے لیے کئی داعی اور مبلّغ افریقا آتے جاتے رہے اور کچھ دعوتی سرگرمیوں کی کام یابی کے بعد اپنے قبائل سمیت یہاں آباد ہو گئے۔ صومالی لینڈ کے نام سے صومالیہ کے حصّے کو جب برطانیہ نے اپنے کنٹرول میں لیا، اُس وقت اس پر شیخ اسحاق بن احمد اپنے قبیلے کے ساتھ آبسے تھے۔ وہ ایک بڑے عالِم اور اسلام کے داعی تھے۔
اُنہوں نے صومالیہ کے صومالی لینڈ والے حصّے میں دِیر(Dir) قبیلے میں شادی کی، جس سے اُن کے آٹھ بیٹے پیدا ہوئے۔ اُنہی سے یہ قبیلہ پھیلا اور برطانیہ نے 1880ء کے عشرے میں اِس قبیلے سے معاہدہ کیا۔ اِس قبیلے کے علاوہ سمرون اور ورسنجلی قبائل بھی یہاں پہنچے اور اُنہوں نے مختلف اوقات میں یہاں اپنی سلطنتیں قائم کیں۔ برطانیہ نے صومالی لینڈ، مصر سے کچھ معاہدوں کے نتیجے میں 1884ء میں اپنے قبضے میں لیا تھا۔
سلطنتیں قائم اور ختم ہوتی رہیں، لیکن یہ قبائل اپنے عقائد اور اپنی مذہبی روایات کے ساتھ باقی رہے۔ ہماری اِس تحریر کا اصل موضوع’’ ری پبلک آف صومالی لینڈ‘‘ ہے، جو1991ء میں صومالیہ سے الگ ہوا۔ تاہم، اُسے ابھی تک اقوامِ متحدہ کی رُکنیت ملی اور نہ ہی بڑی عالمی طاقتوں نے اُسے ایک آزاد مُلک کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ ایک صوبے کی حیثیت سے برطانوی اور اطالوی سام راج کے ماتحت رہا۔ یہ خلیجِ عدن کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔
شمال مغرب میں اِس کی سرحدیں دیبوچی سے، جنوب اور مغرب میں ایتھوپیا اور مشرق میں صومالیہ سے ملتی ہیں۔ یہ دستوری طور پر ایک ایسی ریاست ہے، جس کا سربراہ منتخب ہوتا ہے۔ عبدالرحمان محمّد عبداللہ اس کے صدر ہیں۔ تیس سال سے صومالیہ سے اِس ری پبلک کا کوئی تعلق نہیں، لیکن عالمی برادری اسے صومالیہ ہی کا حصّہ تصوّر کرتی ہے، اِسی لیے ایک مکمل ریاستی ڈھانچے کے باوجود اِسے عالمی پذیرائی نہیں ملی۔ افریقی یونین نے بھی اِسے رُکنیت نہیں دی۔ صومالیہ کا ابھی تک دعویٰ ہے کہ یہ اس کا جزوِ لا ینفک ہے۔
صومالی لینڈ جس وجہ سے ہمارا موضوع بنا، وہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رُکن ممالک میں سے اسرائیل واحد مُلک ہے، جس نے جنوری 2026ء میں اسے ایک آزاد و خود مختار مُلک مان کر اس سے سفارتی تعلقات قائم کرلیے۔ اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان 2575کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان مصر، سوڈان اور اریٹیریا جیسے ممالک ہیں۔
صومالی لینڈ ہی نہیں، اس کے پڑوسی ممالک دیبوچی، ایتھوپیا اور صومالیہ میں بھی کوئی یہودی کنبہ آباد نہیں ہے۔ طویل عرصہ قبل کچھ یہودی تاجر تجارت کی غرض سے یہاں رہنے لگے تھے، لیکن جب اسرائیل کے نام کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی ریاست فلسطین میں قائم ہوئی، تو وہ یہودی اسرائیل چلے گئے۔ اسرائیل اور صومالی لینڈ دونوں ناجائز ریاستیں ہیں۔
کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جب سوائے اِس قدرِ مشترک کے ان میں تعلق کی کوئی بنیاد نہیں، تو آخر اسرائیل نے اسے کیوں ایک قانونی ریاست تسلیم کر کے سفارتی تعلق قائم کر لیا۔ صومالی لینڈ سے تعلقات رکھنے والا دوسرا مُلک متحدہ عرب امارات ہے، جس نے بربرہ بندرگاہ پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اِن تعلقات کی وجہ سے صومالیہ کی امارات سے کشیدگی بھی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ سے تعلقات قائم کرنے پر صومالیہ کے علاوہ بیس مسلمان ممالک نے شدید اعتراض کیا۔ عرب لیگ، اسلامی تعاونِ تنظیم (OIC)، افریقی ممالک کی تنظیم’’افریقن یونین‘‘ نے بھی اس تعلق کو مسترد کر دیا۔ یہ سوال اکثر ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ سے مکمل تعلقات کے پیچھے کون سے عوامل یا مفادات کارفرما ہیں۔ اسرائیل بحرِ متوسط پر واقع ہے، جس کے اُس پار یورپ ہے۔
یورپی ممالک کے اسرائیل سے دوستانہ ہی نہیں، مربّیانہ تعلقات ہیں۔ حالیہ عرصے میں غزہ کی جنگ میں بحرِ احمر کے ساحلی افریقی ممالک میں سے اکثر اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ چڑھائی کے مخالف رہے ہیں۔ اسرائیل کافی عرصے سے بحرِ احمر(Red Sea)تک رسائی کا خواہش مند تھا۔ بحرِ احمر کے اُس پار سعودی عرب ہے، جس سے امریکا کی بہت کوششوں اور دباؤ کے باجود ابھی تک اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم نہیں ہو سکے۔ فلسطین ایشو پر سعودی حُکم ران اشرافیہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ پیدا کر بھی لے، تب بھی سعودی عوام کبھی اسرائیل سے تعلقات پر راضی نہیں ہوں گے۔
اسرائیل نے مستقبل کے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے جو نقشے تیار کر رکھے ہیں، اُن میں حجاز کی پوری پٹّی کو اسرائیل میں ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوب میں خلیجِ عقبہ سے شمال میں مدینہ منوّرہ، خیبر اور تیما تک کے علاقے’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا حصّہ ظاہر کیے گئے ہیں، کیوں کہ ظہورِ اسلام اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرتِ مدینہ سے پہلے یہاں یہودی قبیلے بنوقینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ آباد تھے۔ ان کی مسلسل شرانگیزی، اسلام دشمنی اور مشرکینِ مکّہ سے ساز باز کی وجہ سے دو قبیلوں کو نکال دیا گیا تھا اور بنو قریظہ کی سخت غدّاری کی وجہ سے اُن کے مَرد قتل کر دیئے گئے تھے۔
اِس بنیاد پر مدینہ منوّرہ اور خیبر کے علاقے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ یہی نہیں، نیل سے فرات تک سارا علاقہ، یعنی شام اور عراق بھی’’گریٹر اسرائیل‘‘ میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ مکروہ منصوبہ مکمل ہونا تو دُور کی بات ہے، لیکن اسرائیل کے صومالی لینڈ سے تعلقات کے مقاصد میں بحرِ احمر کے مشرق سے بحرِ ہند اور خلیجِ فارس تک کو اپنے نشانے پر رکھنا ہے۔ حالیہ عرصے میں اہلِ غزہ کی حمایت میں یمن کے حوثی بحرِ احمر سے گزرنے والے امریکی، اسرائیلی اور دیگر مغربی ممالک کے بحری جہازوں کو راکٹس اور میزائلز کا نشانہ بناتے رہے۔ اُن کے میزائل اسرائیل تک بھی جاتے رہے۔
بحرِ احمر پر تنگ ترین خلیجِ باب المندلب دو افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے یمن تک کا فاصلہ صرف بیس میل( تیس، اکتیس کلو میٹر) ہے۔ یمن کی دفاعی نقطۂ نظر سے انتہائی اہم بندرگاہ اور شہر، عدن، صومالی لینڈ سے گویا بالکل نگاہوں کے سامنے ہے۔ پھر عالمی سطح پر بحرِ ہند سے مغربی ممالک کی طرف جانے والی تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز ہے۔ جو تیل بحرِ متوسّط اور آگے یورپ اور امریکا تک جاتا ہے، اُس کا پانچواں حصّہ آبنائے ہرمز کے راستے سے جاتا ہے۔
اگر اِس گزرگاہ کو ایران بند کر دے، تو امریکا، یورپ اور کئی دیگر خطّوں کی تجارت بیٹھ جائے۔ اِسی لیے ایران اکثر دھمکی دیتا ہے کہ اگر اُس پر حملہ کیا گیا، تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا۔ اسرائیل اگر صومالی لینڈ میں اپنے دفاعی اڈّے قائم کر لے، تو پڑوسی افریقی ممالک میں سے کسی میں اُس سے مقابلے کی سکت نہیں ہے۔
وہ حوثیوں کے خطرے سے براہِ راست نمٹنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ صومالی لینڈ میں اپنے مضبوط دفاعی اور تجارتی مراکز قائم کر کے اسرائیل کے لیے بحرِ ہند کے راستے جنوبی ایشیا اور اُدھر دوسری طرف، چین سے تجارتی رابطے آسان ہو سکتے ہیں۔ اِس لیے صومالی لینڈ سے اسرائیل کا تعلقات قائم کرنا طویل المیعاد منصوبے کا حصّہ ہے۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)