جماعت اسلامی بنگلادیش کے حق میں ہندو رہنما کرشنا نندی نے سیاسی موقف کے ساتھ ذاتی گواہی پیش کردی۔
الجریزہ کی ویب سائٹ پر شائع کرشنا نندی کے مضمون کا عنوان ’اگر جماعت اسلامی اقتداری میں آئی تو بنگلادیشی ہندو محفوظ ہوں گے، میں اس کا زندہ ثبوت ہوں‘ ہے۔
صاحب تحریر بنگلادیشی ہندو تاجر اور حالیہ پارلیمانی الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں، نے اس تاثر کو چیلنج کیا کہ اسلامی سیاست اقلیتوں کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔
انہوں نے جماعت اسلامی میں 2003ء میں شمولیت اختیار کی، وہ اپنے 23 سالہ ذاتی مشاہدے اور مطالعے کی بنیاد پر لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی اگر اقتدار میں آئی تو بنگلادیش میں ہندو اور دیگر اقلیتیں مکمل تحفظ، عزت اور مساوی شہری کے ساتھ رہ سکیں گے۔
کرشنا نندی نے جماعت اسلامی کی طرف سے کھلنا 1 سے امیدوار ہیں، نے اپنی نامزدگی کو اس بات کا عملی ثبوت قرار دیا اور کہا کہ میری پارٹی مذہبی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی بلکہ یہ انصاف، نظم و ضبط اور اخلاقی ذمے داری پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے خوف اور غلط معلومات پر مبنی سیاست کو بنگلادیشی یکجہتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ ہمیں بطور قوم ایسے سیاسی متبادل کی بات کرنی چاہیے، جو تشدد، بدعنوانی اور دھونس سے پاک ہو۔
جماعت اسلامی کے ہندو امیدوار نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی بنگلادیش میں اقتدار میں آئی تو کسی ہندو کو ملک چھوڑ کر بھارت جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ میری پارٹی ووٹ خریدنے، تشدد، دھونس اور بدعنوانی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اقدار کے لحاظ مذہبی لیکن ذمے داری کے لحاظ سے قومی جماعت ہے، جس نے جولائی 2024ء کی صورتحال میں اقلیتوں اور اُن کی عبادت گاہوں کا تحفظ کیا تھا۔