• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خبریں اچھی نہیں ہیں۔بلوچستان زخموں سے چورہے۔پختونخوامیں لوگ برفانی راتوں میں ہجرت کررہے ہیں۔ہزاروں گھرانوں کے چولہے گل پلازہ کے سیاہ ملبے میں دب گئے ہیں۔ترلائی امام بارگاہ پرپڑے خون کے دھبے تازہ ہیں۔نائن الیون کے بعد سے یہی سانحے ہیں اور ایسے ہی حادثے ہیں۔خوشی کی خبر ہے نہ جشن کا کوئی سامان۔اب تو جشن کا سلیقہ بھی ہم بھول گئے۔سوگ، ماتم اور اونچی آوازوں نے ہماری جمالیاتی حس کومتاثر کردیا ہے۔بھلی آواز سماعت پر بھاری گزرتی ہے۔گلابی رنگ آنکھ کو عجیب سا لگتا ہے۔خوشی کی خبر سے جی گھبراتا ہے۔تہوار پریشان کرتے ہیں۔عالم یہ ہے کہ اب کسی کا تہوار پسند کرتے ہیں نہ اپنا تہوار مناتے ہیں۔لے دے کر ایک عید بچی ہے، مگر عطرو چراغ اور رنگ و سبو کا اب اس سے کیا لینا دینا۔مجبوری کے دو سجدے، سنسان سڑکیں، مرجھائے ہوئے چہرے، پھیکی چھٹیاں اور بس؟

زندگی نشانے پر ہو تو تہوار مرجاتے ہیں۔ایسے میں خوشی کا اظہار مزاحمت بن جاتا ہے۔تہوار کبھی تہوار ہوا کرتے تھے، مگر اب تہوار مزاحمت ہے۔جشن اوررقص بھی مزاحمت ہے۔لعل شہباز قلندر کے مزار پر جس دن خودکش حملہ ہوا تھا،اسی شام شیما کرمانی نے مزار کے احاطے میں ڈھول کی تھاپ پررقص کیا تھا۔یہ رقص نہیں تھا، یہ تلوار کی نوک پر کھڑے ہوکر نفرت کو چیلنج کرنے کی جرات تھی۔یہی جرات اس استاد نے دکھائی تھی جو مالاکنڈ یونیورسٹی میں اپنے طلبا کے ساتھ رقص کررہا تھا۔ جب رباب کی جگہ ہاتھوں میں بندوق دیدی گئی ہو تب اتنڑ کرنا لگژری نہیں ہوتا، سوال ہوتا ہے۔ جس شہر میں نفرت کی ہوائیں چلائی گئی ہوں وہاں بسنت منانا اور پتنگ اڑانا بھی مزاحمت بن جاتا ہے۔لاہوریوں کو سلام کہ بیس برس بعد انہوں نے ہمیں پتنگوں والا آسمان دکھایا، مگر جشن کی تقریبات منسوخ نہیں ہونی چاہیے تھیں۔جس طاقت کے ساتھ موت حملہ آور تھی اسی طاقت کے ساتھ زندگی کو سراہا جانا چاہیے تھا۔عرش ملسیانی نے یہی تو کہا تھا۔اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے۔بسنت کوئی میلہ نہیں تھا۔عشروں بعد یہ زندگی کو ٹریک پر ڈالنے کی ایک مشق تھی۔ایک دوسرے کے کندھوں پر چڑھ کرلوگوں نے اربوں روپے کی پتنگیں نہیں خریدیں، خوشیاں خریدی ہیں۔آخری بار جوش خروش کے ساتھ یوں قطار میں لگ کر لمحے خریدتے ہوئے کسی نے کسی کو دیکھا ہو تو بتائے۔یہ وہی شہر ہے جہاں اس طرح کے ہجوم افواہوں پر نکلتے تھے۔ایک آواز پر ہجوم یوحنا آباد اور جوزف کالونی کو راکھ کا ڈھیر بنا دیتے تھے۔استاد، سیاست دان اور وکیل کے سینے میں گولی اتارنے والے کو کندھوں پر اٹھالیا جاتا تھا۔لوگ دائرے بناکر شہری کو سنگسار کرتے تھے،نعرے لگاتے تھے اور تسلی سے اس کی ویڈیو بناتے تھے۔تھانوں اور کچہریوں کا گھیراؤ کرتے تھے۔یہی انٹرٹینمنٹ تھی،یہی جشن تھا اور یہی مصروفیت تھی۔

کتنے برسوں بعد یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ لوگ جشن کا عنوان باندھ کر کسی سرگرمی کیلئے نکلے تھے۔ان کا اتاولا پن بتارہا تھا کہ وہ کسی چیز کی کمی محسوس کر رہے تھے۔یہ خوشی، جشن اور رواداری کی کمی تھی۔نفرت کا بازار لگ جائے تو لوگ نفرت ہی کا سکہ چلانے پر مجبور ضرور ہوتے ہیں مگر محبت کی کمی وہ محسوس کرتے ہیں۔محبت کہیں کسی موڑ پر مل جائے تو وہ بے قابو ہو جاتے ہیں۔خوشی اور محبت کے یہ رنگ تہذیب سے جنم لیتے ہیں۔تہذیب کا کینوس وسیع ہوتا ہے۔وہ سارے ہی رنگوں کو اپنے کینوس میں سمالیتا ہے۔اس کی واردات بھی باریک ہوتی ہے۔وہ عقیدوں سی جڑی ہوئی مختلف روایتوں کو کسی ایک دھاگے سے جوڑ کر جڑت کے اسباب پیدا کرتا ہے۔بسنت اول اول ہندوؤں کی روایت ہوتی ہے۔وہ دیوی دیوتاؤں پر گیندے کے پھول چڑھاتے ہیں۔امیر خسرو یہی پھول اٹھاکر خواجہ نظام الدین اولیا کی جھولی میں ڈال کر’عرب یار توری بسنت منائی‘ گنگناتے ہیں تو بسنت تہذیبی تہوار کا روپ دھار لیتا ہے۔یہ تہوار راجیش کمار، غلام رسول اور گرمیت سنگھ کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔

تہذیب کے کینوس پر کوئی خون تھوک دے تو خالی جگہ پر کرنے کیلئے گروہی عصبیتیں آگے آجاتی ہیں۔سچ یہ ہے کہ عصبیتوں کو یہاں باقاعدہ سوچ سمجھ کر راستہ دیا گیا۔بہت بڑا سرمایہ لگاکر مذہب کارڈ کو ہماری سیاست میں دوبارہ سے فعال کیا گیا۔مذہب سے کوئی گلہ نہیں،مگر سیاست میں مذہب کارڈ کے بے دریغ استعمال نے ہمارے پندرہ برس ضائع کر دیے۔اگلی دہائی کی طرف بڑھتی ہوئی گاڑی کوپچھلی دہائی کی طرف دھکیل دیا گیا۔تکثیریت کو فروغ مل رہا تھا، تکفیریت کو پروان چڑھا دیا گیا۔پھر اس سب کے ہم عادی بھی ہوگئے۔اس قدر عادی ہوگئے کہ اب بسنت سرکاری سطح پر منائی جائے تو شکایت کرتے ہیں کہ بسنت کو سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔اس کارڈ کو ہماری سیاست میں ایک مثبت اضافے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تھا۔سیاست میں وہی کارڈ استعمال ہونا چاہیے جس کا تعلق تعمیر، ترقی، خوشی اور زندگی کے ساتھ ہو۔اگلی بار کسی اور جماعت کی حکومت آئے تو اسے چاہیے کہ وہ بسنت میں پچھلی حکومت کو مات دینے کی کوشش کرے۔ مات دینے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ بسنت پر ہی پابندی لگا دی جائے۔طریقہ یہ ہے کہ بسنت کو پورے ملک میں پھیلا دیا جائے۔مزیدایسے تہواروں کو زندہ کر دیا جائے جو زندگی موت کی جنگ میں نظر انداز ہوگئے ہیں۔

بہت زمانے پہلے جب نظریاتی سرحدیں بچھائی گئیں تو ہمیں چھوٹی چھوٹی کچھ باتیں پڑھائی گئیں۔جیسے ہمیں پڑھایا گیا کہ انسانیت، تہذیب، ثقافت، زبان اور تاریخ ایک ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، رواداری کیلئے عقیدے کا ایک ہونا ضروری ہے۔ہمارے آج کے بڑے المیوں کے پیچھے یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔بسنت چھوٹی سی ایک خوشی ہوگی، مگر یہ خوشیاں ہمیں مستقل بنیادوں پر واپس ملنی چاہئیں۔یہ معمولی خوشیاں نہیں ہیں۔یہی خوشیاں ایک دن ہمارے مزاج کو سنواریں گی۔نفرت کو جب سرکار نے اسپانسر کیا تو اداسی بال کھول کر ہمارے گھر کی دیواروں پر لیٹ گئی تھی۔اب سرکار ہی محبت کو اسپانسر کرے گی تو خوشی کو ہمارے گھر کا پتہ ملے گا۔

تازہ ترین