• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہاتھ……

ہر شام دفتر سے لوٹتے ہوئے ہمارا سامنا ہوتا۔

اُس کی آنکھوں میں کرب، آواز میں درد ہوتا۔

وہ اپنا ٹوٹا ہوا ہاتھ لئے سگنل کے نیچے کھڑا ہوتا،

اور آتے جاتے مسافروں سے مدد مانگا کرتا،

سب کے دل کٹ جاتے، اور ہاتھ جیب تک چلے جاتے۔

پھر ایک روز چھٹی والے دن،

ایک شاپنگ مال کے باہر ہمارا اچانک سامنا ہوگیا۔

جب میں شاپنگ بیگ لئے رکشہ ڈھونڈ رہا تھا۔

وہ بڑے اعتماد سے شاپنگ بیگ ایک کار میں رکھ رہا تھا۔

آپ کو آگے تک چھوڑ دوں؟ اس نے چابی گھمائی۔

اس کا ہاتھ سلامت اور آواز توانا تھی۔

’’یکدم مجھے لگا، جیسے میرے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ہوں۔‘‘

تازہ ترین