برطانوی شاہی جوڑے پرنس اور پرنسس آف ویلز نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی جاری ہونے والی متنازع دستاویزات پر خاموشی توڑتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کر دیا۔
کینسنگٹن پیلس نے بالآخر جیفری ایپسٹین سے جڑے جاری تنازع پر پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا۔
گزشتہ روز پرنس اور پرنسس آف ویلز کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ شہزادہ اور شہزادی ایپسٹین کی جاری ہونے والی دستاویزات میں ہونے والے انکشافات پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان کی تمام تر ہمدردیاں اور توجہ متاثرین کے ساتھ ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرنس ولیم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جب مستقبل کے بادشاہ اور ملکہ نے ایپسٹین اسکینڈل پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔
پرنس اینڈریو کے جنسی مجرم سے تعلقات کے باعث یہ معاملہ شاہی خاندان تک جا پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پرنس اینڈریو سے شاہی اعزازات واپس واپس لے لیے گئے تھے، اب ایپسٹین فائلز کے جاری ہونے کے بعد ان کے ایپسٹین سے تعلقات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد وہ متعدد الزامات کی زد میں آ چکے ہیں۔
شاہ چارلس کے بھائی پرنس اینڈریو پر لگنے والے نئے الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ انہوں نے برطانیہ کے تجارتی ایلچی کے طور پر اپنے کردار کے دوران حساس معلومات اپنے متنازع دوست کے ساتھ شیئر کیں، جبکہ ان پر ایپسٹین کی فراہم کردہ خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔