نیشنل الیکٹرک پاور اتھارٹی (نیپرا) کی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے نیپرا کی نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کی حمایت کی، اویس لغاری کی جانب سے بھی نیٹ بلنگ کی حمایت کی گئی۔
وفاقی وزیر احد چیمہ، مشیر نجکاری محمد علی، چیئرمین ایف بی آر نے بھی نیٹ بلنگ کی حمایت کی، نیٹ بلنگ کا دفاع کرنے والوں نے نیٹ میٹرنگ کو دیگر صارفین پر مالی بوجھ قرار دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ بلال اظہر کیانی کی جانب سے پہلے سے موجود سولر صارفین کیلئے نیٹ بلنگ کی مخالفت کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق پہلے سے موجود معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے، معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ایسے صارفین خود بخود نیٹ میٹرنگ سے نکل جائیں گے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی پرانے صارفین کےلیے نیٹ بلنگ کی مخالفت کی۔
اجلاس کے دوران فیصل واوڈا نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ معاہدے کی خلاف ورزی سے حکومت کو فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی ساکھ مجروح ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اکثریتی رائے کے مقابلے میں اقلیتی رائے کو ترجیح دی، وزیر اعظم نے نیپرا فیصلے کے خلاف پاور ڈویژن کو موجودہ صارفین کے کانٹریکٹ کے تحفظ کےلیے نظر ثانی اپیل کی ہدایت کی۔