• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں آپ سے دبئی سے مخاطب ہوں۔ اپنی بیٹی کے 62 ویں منزل پر ایک اپارٹمنٹ سے۔ ارد گرد فلک بوس رہائشی عمارتیں آسمان چومتے ہوٹل پلازہ۔ بار بار اقبال کا شعر یاد ا رہا ہے۔ ’’یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید… کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں‘‘ شعبان المعظم کا آخری عشرہ ہے۔ رمضان المبارک کی برکتیں رحمتیں مغفرتیں ہم پر نازل ہونے کیلئے بے تاب ہیں۔ دبئی میں 1975ء سے آنا ہو رہا ہے۔ ہر آمد ایک خوشگوار تاثر میں لپیٹ لیتی ہے کہ آگے بڑھنا کسے کہتے ہیں۔ پیشرفت کیا ہوتی ہے۔ کس معاشرے کو حقیقی معنوں میں گلوبل کہا جا سکتا ہے۔ قدم قدم پر عالمگیریت اپنا وجود منواتی ہے۔ مختلف لباسوں والے مختلف زبانیں بولنے والے کس طرح ایک ہی سوسائٹی میں پھلتے پھولتے ہیں۔ پاکستان سے صرف دو گھنٹے کی پرواز پر دنیا کتنی بدل جاتی ہے۔ بیسویں صدی سے 21ویں صدی میں دبئی بہت اعتماد، وزن اور بصیرت کیساتھ داخل ہوا ہے۔ ہماری صدیاں اگرچہ دبئی کی دہائیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ مگر اعتماد اور اعتبار دبئی میں زیادہ ملتا ہے۔ اسلئے کہ سب کو ایک یقین ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ ایک ڈسپلن ہے۔ جس دیے میں جان ہے وہ دیا رہ جاتا ہے۔ ہم جو چند کلیوں پر قناعت کر لیتے ہیں گلشن میں علاج تنگی داماں ہونے کے باوجود اس سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ اس بار ہمارا اپنے وطن سے باہر کا سفر نو سال کے بعد ہو رہا ہے۔ اپنے ملک میں ہی اردو اور انگریزی دونوں کے سفر ہوتے رہے۔ دنیا کتنی بدل رہی ہے۔ نظریات کے بغیر دنیا کا تصور ہم جارج اورول کے ناولوں میں تو کرتے تھے۔ اینیمل فارم اور 1984 ء۔ لیکن عملاً دنیا کو نظریات کے بغیر اس عشرے میں دیکھ رہے ہیں۔ مگر پہلے کچھ خوشگو ار مشاہدات :کراچی ایئرپورٹ پورٹر کی تلاش میں سول ایوی ایشن کے کاؤنٹر سے رابطہ کرتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ کسی ناخوشگوار رویے کے بجائے ایک ہموطن سپروائزر بہت احترام سے کہتے ہیں۔ آپ بزرگ ہیں سینئر شہری ہیں آپ کیلئے ہر خدمت اعزازی ہے۔ ایک پورٹر کو بلاتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ یہ دونوں میاں بیوی سینئر شہری ہیں یہ جس فلائٹ سے بھی جا رہے ہیں انکو وہاں تک پوری سہولت کیساتھ پہنچاؤ ۔ پاکستان میں بوڑھے ہونے پر پہلی بار ایک مثبت اور خوش کن تجربہ ہو رہا ہے۔ لگ رہا ہے کہ بوڑھے ہونے کے کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ورنہ ہم میر انیس کو گنگناتے آ رہے ہیں۔

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا

جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

آج تو اپنے بڑھاپے پر بہت پیار آرہا ہے۔ ایئر لائن کے کاؤنٹر سے فارغ ہو کر امیگریشن کی طرف بڑھتے ہیں۔ بہت لمبی لمبی قطاریں۔ زیادہ تر ہم وطن دبئی جا رہے ہیں جن میں جوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک کاؤنٹر بزرگ شہریوں کیلئے الگ سے قائم ہے۔ امیگریشن پر مامور ہم وطن افسر بہت خوش دلی سے بزرگوں کو رخصت کر رہا ہے۔ بوڑھے ہونے کا یہاں بھی ایک فائدہ ہو رہا ہے۔

دبئی ایئرپورٹ 1975ء میں ایک چھوٹی سی عمارت دو تین کمروں پر مشتمل تھی۔ اب 2026ء میں یہ سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ دنیا بھر سے آنیوالے مسافر قطار اندر قطار ویزے کیلئے قدم قدم بڑھا رہے ہیں۔ امیگریشن آفیسرز سیکنڈز میں فارغ کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نہیں حقیقی ذہانت بھی بروئے کار آرہی ہے۔ اس تیز رفتاری کی بنیاد ڈیٹا ہے۔ آفیسر کے آگے رکھا کمپیوٹر دنیا بھر کا ڈیٹا رکھتا ہے۔ 21ویں صدی کی سب سے بڑی نعمت ڈیٹا ہے اور ڈیٹا ہی اب سب سے بڑا آلہ بھی ہے دنیا کو تسخیر کرنے کا۔ ڈیٹا سے بے خبر قومیں ڈیٹا پر عبور رکھنے والی قوموں کی غلام بن رہی ہیں۔ ڈیٹا دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جابروں آمروں کی مزاحمت بھی کرتا ہے۔ بعض اوقات جابر آمر اسی ڈیٹا کی یلغار کر کے اپنی رعایا کو حقیقی مسائل سے دور بھی لے جاتے ہیں ۔

پاکستان سے آنیوالے دبئی میں ایک جہان دیگر کو اپنا منتظر پاتے ہیں ۔ایک عزم مصمم+ وژن + عملیت پسندی + اپنی سرزمین سے وابستگی اور اسے آگے لیجانے کی دھن۔ دبئی کی اس ہوشربا ترقی کے جتنے سال ہیں وہی سال ہماری تنزلی کے بھی ہیں۔ اس پر باقاعدہ تحقیق کر کے کسی وقت آپ سے بات ہوگی۔ ایئر لائن کے نقشے پر بار بار دیکھ رہا ہوں: گوادر، چاہ بہار، دبئی کتنے نزدیک اور کتنے آمنے سامنے ہیں۔ سمندر 21ویں صدی میں بھی اہم ہے۔ صدیوں کی مسابقت کی دوڑ اب بھی باقی ہے۔یورپ اپنے تاریک ادوار کو روشن کرنے کیلئے ان بندرگاہوں کی طرف دیکھتا تھا اب دیکھنے کی اجارہ داری برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے ۔برطانیہ کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ اب امریکی سلطنت کہیں سورج طلوع ہی نہیں ہونے دیتی۔ ہم نے شروع ہی میں کہا تھا کہ دنیا کے نظریات کے بغیر چلنے کا تصور پہلے نہیں تھا اب عملاً دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ کو جمہوریت اور آئین کے بغیر چلتا دیکھ رہے ہیں۔ روس کمیونزم کے بغیر دوڑ رہا ہے۔ چین صرف تجارت اور صنعت پر چل رہا ہے رسماً کہہ دیتا ہے ’’سوشلزم چینی خصوصیات کیساتھ‘‘ مگر سوشلزم وہاں بھی رخصت ہو چکا ہے۔ چین کی معاشی پیشرفت 21ویں صدی کا ایک مثالی منظر نامہ ہے۔ اب امریکی تاجر، صنعت کار، میڈیا، روس کو نہیں چین کو اپنا مد مقابل خیال کرتا ہے ۔دبئی ایئرپورٹ پر اب تل ابیب سے بھی پروازیں آتی ہیں۔ ایک مسلم اکثریت کے ملک میں اسرائیل سے آنیوالے بھی پذیرائی پا رہے ہیں۔ ہر انسان دبئی میں لائق تکریم ہے۔ زیر تعمیر عمارتوں کے باہر خطرے کے الارم نہیں ہیں بلکہ بہت خوبصورت جملے پڑھنے کو ملتے ہیں۔Development is creation ۔’’ تعمیر تخلیق ہے‘‘۔

’’دبئی 2040 ءاربن ماسٹر پلان‘‘ کے تحت مستقبل وسعتوں اور ہریالی کیساتھ پرورش پا رہا ہے ۔حسن فطرت سے عشق کے آثار بھی ہویدا ہیں۔ نئی تعمیر والے علاقے کو مستقبل کا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ دبئی ہر روز پہلے سے زیادہ حسین پائیدار مثالی اور رہنے کے قابل بنایا جا رہا ہے ۔انسانی زندگی کی آئندہ 10/ 15 سال میں کیا کیا ضروریات ہونگی۔ انسان کو زندہ رہنے کیلئےکیا سہولتیں درکار ہوں گی ۔دنیا بھر میں انسانی زندگی آسان بنانےکیلئے جدید ترین ایجادات کیا ہو رہی ہیں۔ کیا وہ دبئی میں ہیں یا نہیں۔ نئے ملک اسی بصیرت اور جذبےسے آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان جیسے صدیوں پرانے معاشروں کو تو پانچ ہزار سال پہلے بھی موہنجوڈرو اور بھنبھور میں یہ مثالی رہائشی انسانی سہولتیں میسر تھیں ۔پاکستان کو تو ان بصیرتوں کی تجدید کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کی تلافی اور غلطیوں کی اصلاح کا میکنزم چاہیے اور اس بار اصلاح کیلئے زیادہ محنت اور زیادہ بصیرت کی للکار سنائی دے رہی ہے۔ دبئی اپنے آپکو ’’صحرا میں گوہر‘‘۔ Diamond in the desert کہتا ہے ۔اپارٹمنٹ کے دریچوں سے دکھائی دینے والے مناظر اس دعوے کی تصدیق کر رہے ہیں۔

تازہ ترین