غم صبح کو گیا تو سرِ شام آ گیا۔ ابھی بسنت کا ہینگ اوور چل رہا تھا کہ حکومت کی نئی سولر پالیسی آ گئی، اور پالیسی کیا ہے ’’سیدھا فائر‘‘ ہے، اور وہ بھی عوام کی کنپٹی پر۔ایک فقرے میں پالیسی سن لیں۔ جن شہریوں نے سولر پینل لگائے ہوئے ہیں اور نیٹ میٹرنگ کے نظام میں شامل ہیں انہیں اب بجلی کا پورا بِل آئے گا، جو یونٹ صارف حکومت کو بیچے گا وہ ’’بعد میں‘‘ بل کی مد میں ایڈجسٹ کر لیے جائینگے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، اب حکومت صارف کو یونٹ کے بدلے یونٹ نہیں دے گی بلکہ بجلی کا ایک یونٹ 10 روپے میں خریدے گی، اور پھر صارف کو وہی یونٹ لگ بھگ 50 روپے میں بیچے گی۔ باقی تفصیلات ہیں۔ سادہ لفظوں میں حکومت اور عوام کے درمیان جو معاہدہ تھا، حکومت اس سے مکر گئی ہے۔ جو جو شرائط عوام کے حق میں تھیں انہیں نئی پالیسی میں نکال دیا گیا ہے۔ عوام نے کروڑوں روپے خرچ کر زندہ رہنے کی جو کوشش کی تھی حکومت نے بہ یک جنبشِ قلم وہ ’’مذموم‘‘ کوشش ناکام بنا دی ہے۔ اور عوام کا معاشی مثلہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا گیا ہے۔
ریاست و شہری کا تعلق باہمی مفاد پر مبنی ہوتا ہے، شہریوں کی خوش حالی ریاست کی کام یابی قرار پاتی ہے، اور ریاست کی مستحکم معیشت شہریوں کی پُرسہولت اور باوقار زندگی کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ تعلق بگڑ چکا ہے۔ حکومتیں سمجھتی ہیں کہ جس جس چیز میں عوام کا فائدہ ہے اُس کا حکومت کو براہِ راست نقصان ہوتا ہے، اسے زیرو سم گیم کہا جاتا ہے، یعنی ایک فریق کے فائدے کا بدیہی نتیجہ دوسرے فریق کا نقصان ہے۔ مثلاً، عوام کیلئے دو سب سے بڑے مسئلے پٹرول اور بجلی کی قیمتیں ہیں، ان دونوں چیزوں کی قیمتیں حکومت مقرر کرتی ہے، ان پر ٹیکس حکومت کی آمدن کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ حکومت کسی صورت اپنے ’’گاہک‘‘ آزاد نہیں کرنا چاہتی۔ اسی اصول کی روشنی میں ان شعبوں کی پالیسیاں بنتی ہیں جو عوام کے مفادات سے براہِ راست متصادم ہیں۔ حکومت الیکٹرک بسیں چلا کر داد تو سمیٹنا چاہتی ہے، لیکن پچھلے پانچ سال سے الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ابہام پیدا کرتی رہی ہے۔ آج بھی سرکار کی پالیسی کے تحت بینک الیکٹرک گاڑیوں کیلئے تیس لاکھ روپے سے زیادہ قرض کی سہولت نہیں دیتے۔ بجلی کا کیس اس سے بھی بگڑا ہوا ہے۔ چند سال پہلے جب بجلی کا بل ہوش ربا ہو گیا اور آبادی کے ایک بڑے حصےکیلئے وبالِ جان بن گیا تو حکومت نے عوامی غیظ و غضب سے بچنے کیلئے (یا عوام کی محبت میں) سولر پینلز کی حوصلہ افزائی شروع کی، عوام نے، بالخصوص متوسط طبقے نے، بلوں کے عفریت سے بچنے کیلئے اپنے سولر سسٹم لگانے شروع کیے، ہمارے جیسوں نے کوئی چیز بیچ کر یا ماہانہ قسطوں پر ان سولر پینلز کا انتظام کیا، کیوں کہ اس کے سوا ’’زندہ‘‘ رہنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا، اُس وقت دو ہی راستے تھے، سولر پینلز یا ہجرت۔
اب حکومت کو یک دم یاد آیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کیساتھ معاہدوں میں ایک شق کپیسٹی چارجز کی بھی ہے، یعنی بجلی گھر کی کل پیداواری صلاحیت کے 60 فی صد کی رقم تو ہر حال میں ادا کرنی ہی ہے، بجلی لو نہ لو۔ اور دوسری طرف سولر سسٹم اتنے لگ گئے ہیں کہ حکومت کی بجلی کی بکری بہت کم ہو گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت بجلی گھروں کو ادائی نہیں کر پا رہی۔ حکومت بجلی گھروں سے کیے گئے مقدس معاہدے توڑ بھی نہیں سکتی، تو حکومت نے یہ موزوں سمجھا کہ عوام سے کیا گیا نجس معاہدہ توڑ دے۔ بجلی گھروں سے معاہدہ توڑا تو وہ عالمی عدالتوں میں لے جائینگے، عوام سے معاہدہ توڑا تو ان کی کون سنے گا، عوام بڑی حد جھولیاں اٹھا کر بد دعا دے لیں گے، تو دیتے رہیں۔
نئی پالیسی خصوصاً سفید پوشوں کی ’’فلاح‘‘ کیلئے بنائی گئی ہے، امراء تو نیٹ میٹرنگ کے نظام پر مکمل انحصار ہی نہیں کرتے، وہ تو اپنی بیٹریاں لگا کر قریباً خود کفیل ہو چکے ہیں، اس پالیسی کا اصل شکار زیریں طبقات ہوں گے، جو مہنگے داموں پر لیتھیم بیٹریاں نہیں خرید سکتے۔ اب سفید پوش کیا کریں؟ اپنی کوئی اور چیز بیچیں اور بیٹریاں خریدیں؟ اور ہو گا بھی یہی، کیوں کہ عوام یہ قاتلانہ بل ادا ہی نہیں کر سکتے۔ عوام سرکار سے ہٹ کر اپنا بجلی کا نظام بنانے کی کوشش کریں گے۔ عوام سرکار سے تعلق رکھنے میں ہچکچاتے ہیں، جہاں جہاں سرکار سے تعلق ناگزیر ہے، لوگ پِس رہے ہیں، پٹوار خانے سے پولیس سٹیشن تک یہی عالم ہے، سرکاری سکولوں سے سرکاری ہسپتالوں تک یہی حالت ہے۔ بجلی کے بلوں کے یرغمالیوں نے فرار کی ایک کوشش کی تھی، انہیں پھر شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہے۔ اور سولر پینل لوگوں نے خفیہ طور پر نہیں لگائے تھے، حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت لگائے تھے۔ یہ عوام اور حکومت میں لین دین کا ایک معاہدہ تھا۔ آپ ایسے کاروباری کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں جو اپنے پارٹنر کا فائدہ ہوتا دیکھ کر یک طرفہ طور پر معاہدہ ہی توڑ دے؟ کیا آپ ایسے ’’با اصول‘‘ کاروباری کے ساتھ آئندہ کاروبار کرنا چاہیں گے؟فیصلہ سازوں میں سے شاید کسی نے قسطوں پر سولر سسٹم نہیں لگایا ہو گا، مگر فیصلہ سازوں میں وہ لوگ یقیناً شامل ہیں جن کے اپنے بجلی گھر ہیں۔ کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ اس ملک میں فیصلہ سازوں اور عوام کے مفادات باہم متصادم ہو چکے ہیں۔