یہ خبر پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان سے یہ دھوکہ تو عرصہ درازسے ہو رہا ہے، لیکن اب تو حد ہو گئی ہے ۔ جو پابندی ہمیں لگانی چاہیے اُس کا مطالبہ اب ہمارے اقلیتی ممبرانِ اسمبلی کر رہے ہیں اور ہمارا کیا حال ہو چکا، ہم کتنے گر چکے اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔یہی کچھ پہلے قومی اسمبلی میں بھی ہو چکا جہاں ایک ہندو رکن قومی اسمبلی نے ایسی ہی پابندی کی بات کی لیکن مسلمان اراکین اسمبلی کی اکثریت نے اس پابندی کی مخالفت کر دی تھی۔ یہ معاملہ ایک یا دو بار سپریم کورٹ میں بھی گیا لیکن وہاں بھی ہمارے منصفوں نے اس پابندی کی مخالفت کر دی۔ جس خبر کی میں بات کر رہا وہ میں اس کالم میں شامل کر رہا ہوں اس درخواست کے ساتھ کہ قارئین سوچیں، فکر کریں کہ ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا لیکن ہمیں کہاں پہنچا دیا گیا اور پھر بھی ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ذیل میں آج کے جنگ اخبار میں شائع ہونے والی صحافی سہیل افضل کی خبر پڑھیں... پڑھتا جا شرماتا جا:“سندھ اسمبلی، اقلیتی رکن کے مطالبے نے مسلمان اراکین کو مشکل میں ڈال دیا، ہندورکن نےشراب کی خرید و فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ،لیکن مسلمان اراکین نے اسکی مخالفت کردی ،صوبائی وزیر نے موقف اختیار کیا کہ شراب کی خریدو فروخت سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائیگا،حکومتی اراکین نے صوبائی وزیر کا یہ موقف تسلیم کرتے ہوئے قرار داد مسترد کر دی،ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں ،شراب ایک معاشرتی برائی ہے ،تمام مذاہب میں اسکی ممانعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خریدو فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے ،شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے ،عوام کیلئے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوںکہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں ،یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خریدو فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ منگل کو میری جانب سے قرار داد پیش کی گئی تو اپوزیشن نے اسکی حمایت کی لیکن افسوس حکومتی بینچوں نے اسکی مخالفت کی۔ انیل کما ر نے بتایا کہ میں نے اپنی ایک نجی قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ شراب ایک معاشرتی برائی ہے ،کسی مذہب میں اسکی اجازت نہیں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کےتمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ اسکے جواب میں وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجارنے اسکی مخالفت کی اور کہا کہ آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں،اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائیگا،جس پر اسپیکر نے رائے لی تو حکومتی اراکین نے اسکی مخالفت کی اور ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔