• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی کا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا، عطا تارڑ

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اور بانی پی ٹی آئی کے دیگر اہلخانہ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا۔

اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ روزمرہ کے معمولات، ڈائٹ پلان، رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق تفصیلات نے تمام ابہام دور کر دیے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں میسر ہیں اور انہیں کسی عام قیدی سے کئی گنا زیادہ مراعات حاصل ہیں۔ 

خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج کے باوجود عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد ہے، رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل سہولیات سے متعلق فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل یعنی اکتوبر 2025ء تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق متعدد بار اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت سے آگاہ کیا، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید