• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلادیش: ہوشیار اور ثابت قدمی سے کھڑے رہیں، امیر جماعت اسلامی کی کارکنوں کو ہدایت


فوٹو: فیس بک شفیق الرحمان
فوٹو: فیس بک شفیق الرحمان 

بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کارکنان کو نتائج آنے تک پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہوشیار رہیں اور ثابت قدمی سے کھڑے رہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شفیق الرحمان نے الزام لگایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے نتائج کے اعلان تک اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میرے عزیز ہم وطنو! آج آپ کی فتح کا دن ہے۔ آج آپ کی آزادی کا دن ہے، کچھ لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو آپ سے وہ چھیننے کی کوشش کریں جو آپ کا حق ہے، جو آپ کے حقوق پر قبضہ جمانا چاہیں۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے مزید کہا کہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت مت دیجیے۔ یہی وہ ناانصافی ہے جس کے خلاف ہم گزشتہ 17 برس سے جدوجہد کرتے آرہے ہیں، اسی لیے ہمیں ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ باب دوبارہ کھلے یا اس کی بدصورت شکل ایک بار پھر سر اٹھائے۔

امیر جماعت اسلامی نے اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے مزید لکھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ جان لیں گے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ پُرسکون رہیں، ہوشیار رہیں اور ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہیں۔ جو کچھ آپ دیکھیں، اسے ریکارڈ کریں اور اس لمحے کو تاریخ کے لیے محفوظ کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہ کبھی بھولیں گے اور نہ ہی ٹوٹیں گے، سچ کو سامنے آنے دیجیے اور انصاف کو مضبوطی سے قائم رہنے دیجیے، کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ کوئی بھی نہیں۔

خیال رہے کہ بنگلادیش میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے اور امکان ہے کہ آدھی رات تک یہ واضح ہو جائے گا کہ کن حلقوں میں کون برتری حاصل کر رہا ہے۔

دوپہر تک ملک بھر کے 36 ہزار پولنگ مراکز میں ووٹر ٹرن آؤٹ 47.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دارالحکومت ڈھاکا میں ووٹنگ کا تناسب توقع سے کم رہا۔

مبصرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک، سابق حکمران عوامی لیگ، پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی عائد ہے۔

ممکن ہے کہ عوامی لیگ کے بعض حامی گھروں سے باہر نہ نکلے ہوں، جس کے باعث دارالحکومت میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹنگ کا تناسب نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید