• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بانی کی بینائی کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا گیا، تحقیقات کا مطالبہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی کی بینائی کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا، تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کی گئی، بانی پی ٹی آئی کو اسپیشلسٹ کو نہیں دکھایا گیا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، تحقیقات ہونی چاہیے اس کا کون ذمہ دار ہے۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی ملاقات ہوتی رہتی تو ایسا نہ ہوتا، کوئی پاکستانی نہیں کہہ سکتا کہ یہ درست ہوا ہے، جو عذر لائے گا وہ بھی مجرموں کا ساتھی ہے، بطور قائد حزب اختلاف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظمیوں اور سفیروں کو اس ظلم کی تفصیل بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ اکتوبر تک ٹھیک تھی، ان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، بانی پی ٹی آئی نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا آنکھ میں تکلیف ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ یا متعلقہ حکام نے توجہ نہیں دی، مجرمانہ غفلت کی گئی، تین ماہ بعد بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی مکمل چلی گئی ہے، پھر انہیں پمز لایا گیا، بانی پی ٹی آئی کو اسپیشلسٹ کو نہیں دکھایا گیا، ان کی آنکھ میں جو ٹیکا لگایا گیا اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

 راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اسلام میں اگر ایک شخص کی ایک آنکھ کی بینائی چلی جائے تو کہا جاتا ہے یہ قتل ہے، یہ خدا کے سامنے جرم ہے، وہ آپ کی کسٹڈی میں تھے اور آپ نے انہیں چیک نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو جرم ہوا وہ پورا ملک دیکھ رہا ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمیں کسی ایک دن تو اکٹھا ہونا چاہیے، مل جانا چاہیے، ہم سیاستدان تو اکٹھے ہوں، ہم کب تک آپس میں لڑتے رہیں گے، ہمیں معلوم ہے اصل مجرم کون ہے، سامنے حکومت ہے ہم ان سے پوچھیں گے، یہ ذمہ دار ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج کی کارروائی معطل کی جائے، ہم بانی کی صحت کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں، یہ اہم مسئلہ ہے، یہ پاکستانیوں اور دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کیلئے اہم مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہم نے پہلے بھی بات کی، وزیر قانون نے ہمیں کہا تھا بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، کہا گیا تھا کوئی بڑا مسئلہ نہیں کہ پریشان ہوا جائے۔

قومی خبریں سے مزید