• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شبھ شبھ بولنا چاہئے اندر خانے جو بھی ہو رہا ہے اس میں شہباز حکومت کے جانے کا تا قیامت امکان نہیں شہباز شریف وہ سونا ہیں جو سیاست کی کانوں میں آج بھی عنقا ہے۔ مشکل ترین فضا میں بھی وہ کانٹوں کے درمیان چلنے کے ماہر ہیں انہیں علم ہے کہ سنگلاخ پتھروں پر چل کر ہی وہ کہکشاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ شہباز کے گرو نواز شریف ہیں مگر گرو کے چہرے پر غصہ اور خوشی آسانی سے پڑھی جاسکتی ہے مگر چیلا اپنے جذبات اور ارادے چھپانے میں گروسے بھی بڑھ گیا ہے، ادھرسے نیا وزیر یا ٹیکنوکرپٹ کابینہ میں شامل کرنے کی سفارش آئے تو وہ کبھی ناں نہیں کرتے مگر جلدی سے اس پر عملدرآمد بھی نہیں کرتے۔ تحریک انصاف سے نرمی پر وہ اور ان کی پارٹی کبھی بھی ظاہری اختلاف نہیں کرتی مگر ایسے سگنل ضرور دئیے جاتے ہیں کہ بڑا فریق دفاع پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بلی چوہے کا کھیل جاری رہتا ہے چوہا بہت ہی ہوشیار ہے اور بلی بھی چوہے کو کھانا نہیں چاہتی مگر چوہا اتنا تجربہ کار ہے کہ وہ بلی کو تڑپا کررکھ دیتا ہے اور بھاگ جانے سے ڈراتا ہے۔ پھر کہتا ہوں شبھ شبھ بولنا چاہئے فی الحال سیاسی قیامت کا امکان ہے اور نہ ہی شہباز حکومت کے جانے کی گنتی شروع ہوئی ہے تاہم اگر سیاسی قیامت کبھی ناگزیر ہوئی تو پھر3سالہ قومی حکومت آنے کا امکان ہے جس میں تحریک انصاف سمیت ملک کی سب بڑی پارٹیاں شریک ہوں گی اس قومی حکومت کو نگراں حکومت کا متبادل سمجھ لیں لیکن یہ عبوری نہیں لمبی یا پائیدار حکومت ہوگی یہ تین سال چلے گی اور ایسی دور رس اصلاحات نافذ کرے گی کہ ملک ترقی کی راہ پر چل دوڑے گا۔ اس حوالے سے آنے والی ترامیم میں تبدیلیاں شامل کرنے پر غوروخوض جاری وساری ہے۔ شبھ شبھ بولنا چاہیے فی الحال شہباز حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں مگر جب بھی کبھی اسکا وقت ختم ہوگا سال یا دوسال بعد تو پھر قومی حکومت آئے گی دیکھنا یہ ہوگا کہ شہباز شریف اپنے بے شمار ٹیلنٹ سے اس سیاسی قیامت کو کتنی دور تک لے جاسکتے ہیں اور کتنی دیر تک موجودہ سیٹ اپ کو چلا سکتے ہیں۔

قومی حکومت کا مطالبہ محمود خان اچکزئی کررہے ہیں عمران خان کو بھی اس تجویز سے اختلاف نہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحریک انصاف اور اپوزیشن کا وہ مطالبہ ہے جو کہ مقتدرہ کا ممکنہ آئیڈیل ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ملک کے اندر سیاسی کشیدگی ختم ہوگی اور معاشی ترقی کیلئے سازگار فضا بنے گی۔ تحریک انصاف لمبی نگران یا پائیدار قومی حکومت نہیں چاہتی جبکہ حکومت ساز چاہیں گے یہ قومی حکومت کم ازکم تین سال چلے اور ایسی اصلاحات لیکر آئے جس سے مصالحت بھی ہو اور مستقبل کے راستے کا تعین بھی ۔ ایسا ہوسکے گا یا نہیں؟ خدا ہی جانتا ہے بس شبھ شبھ ہی بولنا چاہیے فی الحال موجودہ مخلوط حکومت کے جانے کا کوئی امکان نہیں اور فی الحال تحریک انصاف کے ساتھ ’’ ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی جو پالیسی نظر آرہی ہے اس میں نون لیگ اور مقتدرہ آن بورڈ ہیں یہ اقدام خود کو ظالمانہ نظام کے الزام سے بچانے، عالمی ساکھ کو بہتر رکھنے ،معاشی ماحول کو سازگار رکھنے اور مصالحت کے ذریعے اندرونی استحکام لانے کیلئے ہیں اسے چرچل کی جنگی کابینہ کا متبادل سمجھ لیں بحران سے نکالنا کابینہ کی ذمہ داری ہوگی۔سچ تو یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں شہباز اور مریم دونوں کی گڈی چڑھی ہوئی ہے بالخصوص شہباز شریف کی سفارتی اڑان اور دن رات کی محنت انہیں اونچے سے اونچا اڑا رہی ہے اس وقت انکا بول بالا ہے دوسری سیاسی وغیر سیاسی طاقتیں انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہیں وہ مقتدرہ اورفیلڈ مارشل کی بے حد عزت کرتے ہیں اور ہر جگہ انہیں خود سے آگے کرتے ہیں۔ دونوں میں باہمی احترام اور اعتماد کا رشتہ ہے فیلڈ مارشل کا جنید صفدر کی شادی میں رائے ونڈ جاکر شریک ہونا باہمی تعلقات کے مضبوط ہونے کی ظاہری نشانی ہے۔ سب کچھ ٹھیک جارہا ہے اور سب کچھ ٹھیک ہی جائیگا شہباز شریف بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ طاقت کے ایوانوں کی باریکیوں اور نازکیوں کو بخوبی جانتے ہیں شہباز شریف ناراض بھی ہوں تو ناراضی نہیں دکھاتے مگر بالواسطہ طور پر اپنی حساسیت مختلف طریقوں سے دکھا دیتے ہیں طویل تجربے نے انہیں فیصلوں کو معقول دلائل سے ٹالنے اور خود سرخرو رہنے کے فن میں طاق کررکھا ہے حالیہ دنوں میں تبدیلی کا غلغلہ ہوا کچھ ہل چل ہوئی تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ شہباز شریف کو ہوا فیصلہ ساز دفاعی پوزیشن میں آگئے اور شہباز شریف کو پہلے سے کہیں زیادہ Spaecملی۔ آج تک کی صورتحال تو یہی ہے کل کیا ہوگا کس کو علم ہے؟

حالیہ دور کی سیاست اور داؤ پیچ میں شہباز شریف کے مد مقابل عمران خان نہیں محمود خان اچکزئی ہیں دونوں شخصیات کا تقابل مستقبل کو سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے دونوں کا طویل سیاسی تجربہ ہے شہباز شریف ویلنگ ڈیلنگ کے ماہر ہیں ن لیگ کی مقتدرہ کیساتھ ہر ڈیل میں وہ اہم ترین کردار رہے ہیں اچکزئی اس حوالے سے آؤٹ سائیڈر ہیں عمران خان کو درباری ساز شوں میں آصف زرداری کی مدد سے شہبازشریف نے بری شکست سے دوچار کیا شہباز شریف اقتدار اور طاقت کی راہداریوں کے شہسوار ہیں ہمیشہ مقتدرہ کے کردار کے مداح رہے ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی سالوں سے مقتدرہ کے مخالف ہوکر بھی نظام کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں وہ مقتدرہ کے واحد ظاہری مخالف ہیں جو مقتدرہ سے بات کرکے دوبارہ آئینی پٹری پر چڑھنے کی امید رکھتے ہیں۔ شہباز شریف اور اچکزئی دونوں میں مشترک بات اندرونی جذبات اور اپنے منصوبوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپا کر رکھنے کی صلاحیت ہے دونوں کے اصل ارادوں اور عزائم کی کھوج لگانا مشکل ترین کام ہے۔ دونوں کی فکر میں البتہ واضح تضاد ہے شہباز شریف مقتدرہ کیساتھ چلکر سیاست اور نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں وہ سیاسی بالا دستی کو پہلی ترجیح نہیں سمجھتے وہ کارکردگی دکھاکر سویلین بالادستی کے حصول کو بہتر حکمت عملی سمجھتے ہیں دوسری طرف محمود خان اچکزئی روایتی جمہوری سوچ کے حامل ہیں جو آئین کی پاسداری اور سویلین بالادستی کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں وہ تشدد وتخریب کے مخالف ہیں اور پر امن سیاسی جدوجہد کے قائل ہیں۔ انکے ریاستی نظریات سے بھی کئی بنیادی اختلاف ہیں خارجہ و داخلہ پالیسی سے بھی انہیں شکایات ہیں جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف ریاستی پالیسی کے ہمیشہ سے حامی رہے ہیں۔ اب دو کا مقابلہ آن پڑا اور بات ویلنگ ڈیلنگ اور طاقت کے ایوانوں تک رہی تو شہباز شریف واضح مارجن سے جیت جائینگے لیکن اگر بات سیاسی میدان یا پارلیمان میں آگئی اور فیصلہ وہاں ہوا تو محمود خان اچکزئی مرد میدان رہیں گے۔

قومی حکومت کے قیام کی سوچ نئی نہیں یہ سوچ 2024ءکے الیکشن کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی مگر اب اس سوچ میں تحریک انصاف کی واضح رضامندی نےاس تجویز کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ قومی حکومت3 سال کے لئے نہیں بلکہ5سال کیلئے آجائے۔ بہرحال ایک بات پتھر پر لکیر ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے قومی حکومت بنے گی اور اگر قومی حکومت نہیں بنتی اور اصلاحاتی ایجنڈے کو بروئے کار نہیں لایا جاتا تو الیکشن ہونے کا بھی امکان نہیں۔

اس ملک کے عامیوں کواس قومی حکومت کا انتظار رہیگا جو دوررس اصلاحات لائے گی ،انتخابی نظام سیاسی اصلاحات اور معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا ،منصوبہ تو اچھا ہے مگر جب تک اسکی تفصیلات سامنے نہ آئیں اس وقت تک تبصرہ ممکن نہیں۔ اگر واقعی ترامیم، اجتماعی صلاح مشورے سے ہوئیں اور ان تبدیلیوں کو مفاہمت کے ذریعے اپنایا گیا تو ملک مزید مستحکم ہوگا لیکن اگر یہ اصلاحات بھی شخصی اقتدار کی مضبوطی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ہوئیں تو یہ بھی جنرل مشرف کی اصلاحات کی طرح انکے اقتدار سے رخصت ہوتے ہی صفحہ ہستی سے غائب ہوجائیں گی۔

تازہ ترین