کون کافر ہے جو وقت کے مہدی کی گواہی سے انکار کرے اور مہدی بھی ایسا جس کا نام ہی سعید یا مبارک و خوش بخت ہو ۔ روز قیامت پر ہم سب کا ایمان ہے اس روز اچھے بُرے کا فیصلہ ہوگا، جزا اور سزا کا اعلان ہو گا۔ ایک قیامت تو وُہ ہے جس کا حساب کتاب اس دنیا کے خاتمے پر ہوگا مگر ایک قیامت صغریٰ ہر زمانے میں برپا رہتی ہے۔ تاریخ میں ہر کردار کا تعین ہوتا رہتا ہے اور اکثر اس دنیا میں بھی تاریخ کی عدالت لگتی ہے تاریخ کے ظالموں کو اس دنیا میں بھی سیاہ لفظوں کی سزا سنائی جاتی ہے اور تاریخ کے مظلوموں کو سنہری حروف کی جزا سے اونچا رتبہ ملتا ہے۔ بے شمار لوگ گواہ ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے ’’میں تاریخ کا مسافر ہوں میرے مقام کا تعین تاریخ کرے گی‘‘ ۔سابق وزیر سردار آصف احمد علی اور اقبال ٹکا نے کئی بار بھٹو کا یہ قول اور تاریخ کے فیصلے پر انکے پختہ ایمان کے بارے میں بتایا۔ بھٹو کی پھانسی کو چار پانچ دہائیاں گزرنے کو ہیں تاریخ کی دنیا میں 40، 50سال بہت مختصر عرصہ ہوتا ہے اور اس انتہائی قلیل مدت میں بھٹو کے عدالتی قتل کی اتنی گواہیاں اکٹھی ہو گئی ہیں کہ مجرموں کو پہچاننا اور تاریخ میں ہمیشہ کیلئے انکے نام پر سیاہی پھیرنا بہت ہی آسان ہو گیا ہے۔
مہدی کی گواہی معتبر تب ہوتی ہے جب اسکے سچ کو عوامی اژدھام کی حمایت ہو۔ پنچ ستارہ ہوٹل کے سب سے بڑے ہال میں انکی کتاب The Eyewitness کی تقریب میں بہت بڑا اجتماع ان کے ایک ایک لفظ کے سچ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ سعید مہدی سے نام کی حد تک واقفیت تو بہت پرانی ہے لیکن ان سے شناسائی انکے دور اقتدار میں نہیں دورِ ابتلا میں ہوئی ،مشترکہ دوست طاہر خلیق کے ذریعے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو تاثر تھا کہ اکثر بیوروکریٹس کی طرح کٹھور، مغرور اور متکبر ہوں گے مگر ان کو نرم دل، متواضع اور منکسر پایا۔ میں تقریب میں پہنچاتو خیال تھا کہ ٹھنڈے مزاج کے مردہ دل لوگوں کا اکٹھ ہوگا جو ریٹائرڈ بیوروکریٹ سے اپنی وفاداری اور تعلق نبھانے کیلئے منہ دکھانے آئے ہونگے مگر وہاں تو تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی لوگ فیملیز کیساتھ آئے ہوئے تھے اور صرف طبقہ اشرافیہ یا مراعات یافتہ نہیں مڈل اور پسے ہوئے طبقات بھی اپنے لباس اور تراش خراش سے سب سے الگ اور منفرد نظر آ رہے تھے۔ سعید مہدی نے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے کتاب میں لکھا ہے کہ انکے والد نے اپنے ایک دوست بیوروکریٹ کو گھر میں جگہ دی تو اس نے وُہ مکان ہی جعلی طور پر اپنے نام کروا کے انہیں گھر سے بے دخل کر دیا ،میسن روڈ لاہور کے ایک تنور والے نے بچے سعید مہدی اور انکے بھائی کو پناہ دی، اس غریب تنور والے کی مہربانی کو سعید مہدی نے عمر بھر یاد رکھا اور انکے بچوں تک کے دکھ سکھ میں شریک رہے۔ یہی وُہ سعید مہدی ہے جو مجھے بہت اچھا لگا اور مجھے اس کے واقعات اور شہادت میں موجود ذاتی جذبات اور کرب کایقین ہو گیا۔
میرے ایک مشفق و مہربان استاد اکثر اعتراض کرتے تھے کہ میں ہر بڑے انٹرویو میں بھٹو کی پھانسی کا سوال کیوں پوچھتا ہوں میرے معتدل مزاج استاد بھٹو کی سیاست سے متفق نہیں تھے اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں۔ میں انکے اعتراض کو تسلیم کرتا ہوں مگر تاریخ کے کچھ واقعات ایسے ہوتےہیں کہ انکا اثر کئی دہائیوں تک رہتا ہے بھٹو کی پھانسی بھی ایک ایسا ہی سانحہ ہے جسکے اثرات پاکستان کی سیاست پر اس وقت تک رہیں گے جب تک اس پھانسی کا مکمل طور پر سیاسی، قانونی اور اخلاقی مداوا نہیں ہو جاتا۔ سعیدمہدی پر بھی اَس پھانسی کا بہت اثر ہوا اور اتفاق سے وُہ تاریخ کے اس نازک اور حساس ترین حصے کے چشم دیدگواہ بھی ہیں ،یہ الگ بات ہے کہ بات اب چشم دیدہ سے 46 سال بعد چلتے چلتے عمران خان کی چشمِ نادیدہ تک پہنچ چکی ہے ۔دائروں کا سفر جاری ہے گو سر لینے سے بات آنکھ لینے تک پہنچ چکی ہے۔ 46سال پہلے کے گواہ سعید مہدی تھے،موجود دور کا مہدی کون ہوگا اور وُہ کیسی گواہی دے گا تاریخ کے کورے کاغذ، اس تحریر کے منتظر رہیں گے۔
سعید مہدی کی شخصیت کا ایک دوسرا رخ 14، 15 سال پہلے سامنے آیا 2013 ء کے الیکشن کی آمد آمد تھی نواز شریف کا دوبارہ سے اقتدار میں آنا تقریباً طے تھا انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد کی منصوبہ بندی شروع کر رکھی تھی مختلف ماہرین کو بریفنگ کیلئے بلایا جاتا تھا ان مشاورتی اجلاسوں میں سعید مہدی، اے زیڈ کے شیر دل اور یہ فقیر شامل ہوتے تھے۔ ان اجلاسوں میں سعید مہدی کا لہجہ تو بیوروکریٹوں کی طرح Flowery یعنی پھولوں بھرا ہوتا مگر مشورہ بے لاگ اور بے باک ہوتا۔ لیڈروں کی محفلوں میں بیٹھنے والوں کو علم ہے کہ اس کے ادب آداب میں صرف باری پر بولنے کی اجازت ہوتی ہے اور سنا بھی تب جاتا ہے جب لیڈر کی نظر کرم ہو۔ سعید مہدی حیران کن طور پر اس مودّب محفل میں بھی بار بار اپنے مشورے چٹوں پر لکھ کر مسلسل نواز شریف کو دے رہے ہوتے ،کبھی برسرعام بھی بے باکی سے اختلاف کرتے اور کبھی نواز شریف کے کان میں راز کی بات کرتے۔
یہ منظر مجھے بھلائے نہیں بھولتا کیونکہ سعید مہدی ان اجلاسوں میں بھی ایسے ہی تھے جیسے عام زندگی میں ہوتے ہیں۔ یا د رکھیں جو شخص بادشاہ اور فقیر دونوں کی محفلوں میں ایک جیسا نظر آئے وُہ لازماً بے تضاد اور خاص ہوتا ہے۔ اپنی سول سروس میں نوکری کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اپنی جوائننگ کے بعد کمشنر سےملنا چاہتے تھے مگر وُہ ٹائم نہیں دے رہے تھے اتفاقاً اقبال ٹکا مرحوم و مغفور (جو اسوقت وہاں نائبِ تحصیلدار تھے )انہیں ملنے آئے تو سعید مہدی نے ان سے کمشنر سے ملاقات نہ ہونے پر اپنی پریشانی اور مایوسی کا ذکر کیا ۔ٹکا صاحب باہر گئے جا کر کمشنر کو فون گھمایا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد کمشنر کا فون بھی آگیا اور انہوں نے ٹکا صاحب کے ہمراہ انہیں فوراً ہی کھانے پربلا لیا۔
بھٹو کے آخری دنوں میں کرنل رفیع الدین نے جو لکھا تھا اس میں سعید مہدی نے جنرل ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو کی ایک آخری بالمشافہ ملاقات کا ذکر بھی کیا ہے یہ ملاقات چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے گھر میں ہوئی جہاں بھٹو اچانک آگئے اور جنرل ضیاء سے انتظامیہ کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی شکایت کی جنرل ضیاء نے ڈپٹی کمشنر سعید مہدی کو بلا کر فوراً حکم دیا کہ ایسا نہ کیا جائے مگر جب بھٹو وہاں سے رخصت ہو گئے تو سعید مہدی کو کہا کہ وہی کام جاری رکھا جائے۔ سعید مہدی نے لکھا ہے کہ پھانسی سے پہلے آخری دنوں میں بھٹو کے دانت خراب ہو گئے تھے اور وُہ بار بار اپنے دانتوں کے معالج ڈاکٹر نیازی کو بلانے کا کہتے رہے مگر انکا مطالبہ نہ مانا گیا تقدیر کا الٹ پھیر دیکھیں کہ اس وقت جس ڈاکٹر کو طلب کیا جا رہا تھا وُہ نیازی تھا اور آج جس مریض کی جیل میں آنکھ خراب ہے وُہ بھی نیازی ہے۔ تقدیر کا ذکر بھی عجیب ہی راستے دکھاتا ہے سب سے دلچسپ واقعہ جنرل ضیاء الحق کی ضیاء الحقی ( یہ اصطلاح منو بھائی مرحوم نے بنائی تھی) کا ہے کہ بھٹو کی پھانسی کے روز وہ سینٹرل جیل کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنے اسٹاف سے دریافت کیا کہ کیا بھٹو کو پھانسی ہو گئی ہے اسٹاف نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فاتحہ کیلئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا ’’بھٹو صاحب مجھ پر بہت مہربان تھے انہوں نے مجھ پربہت نوازشیں کیں مگر میں عدالت کے فیصلے کے سامنے بےبس تھا ۔ سعید مہدی نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ کی طرف اسٹریچر پر لیجانے اور آخری وقت پر Finish it کے آخری الفاظ کا ذکر بھی نہیں کیا۔ ان کہانیوں میں افسانہ کتنا تھا اور حقیقت کتنی؟ یہ تو آنیوالا وقت ہی طے کرے گا بہرحال ایک بات طے ہے کہ سعید مہدی نے داستان گوئی اور افسانہ سازی سے گریز کرکے تاریخ کا سچ بالآخر اُگل دیا ہے۔