بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی پندرہ سال پر محیط جابر و سفاک حکومت کیخلاف نوجوان طلباء کے ہاتھوں برپا ہونیوالے انقلاب کے محض ڈیڑھ سال بعد عبوری انتظامیہ کے زیر اہتمام پرامن اور شفاف انتخابات کے ذریعے منتخب جمہوری حکومت کے قیام کی راہ کا ہموار ہوجانا ، ساڑھے سترہ کروڑ افراد پر مشتمل پوری بنگالی قوم کے سیاسی شعور کا نہایت متاثر کن مظاہرہ ہے۔جمعرات کو ہونے والےانتخابی عمل میں رائے دہندگان کی بھاری تعداد میں شرکت اور زبردست جوش و خروش کے باوجود خون خرابے اور بدعنوانی کی شکایات کا برائے نام ہونا ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت کے بہترین انتظامات کا واضح ثبوت ہے۔
غیرسرکاری غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنی انتخابی حریف جماعت اسلامی کے زیر قیادت گیارہ جماعتی اتحاد کی 76 نشستوں کے مقابلے میں پارلیمان کی تین سو میں سے 216 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ آزاد ارکان کو چھ نشستیں ملی ہیں ۔ بی این پی کے سربراہ دو بار ملک کی وزیر اعظم رہنے والی مرحومہ خالدہ ضیا کے ساٹھ سالہ بیٹے طارق رحمن ہیں جو حسینہ واجد کے پورے دور میں ملک سے باہر رہے۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ پابندی کی وجہ سے انتخابی اکھاڑے سے باہر رہی ۔ تاہم بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک کی مخالفت کی بنا پر شیخ حسینہ کی حکومت میں بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی جماعت اسلامی ڈاکٹر یونس کے عبوری دور میں عدالتی فیصلے کے مطابق نہ صرف بحال ہوئی بلکہ انتخابی عمل میں اس کی جانب سے بھرپور شرکت بھی کی گئی۔ طلباء کی تنظیم نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت کے اتحاد میں شامل ہے۔
جماعت اسلامی کی انتخابی مہم اور عوام میں اس کی بھرپور پذیرائی کی وجہ سے بھارت سمیت دنیا بھر میں گیارہ جماعتی اتحاد کے اکثریت حاصل کرنے کو ناممکن نہیں سمجھا جارہا تھا۔ واشنگٹن اور نئی دہلی نے اسی وجہ سے جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطے بھی کیے تھے لیکن اس اتحاد کو توقعات کے مطابق کامیابی نہیں ملی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی عوامی لیگ کے ووٹ بینک نے اپنے نقطہ نظر کے مطابق جماعت کے مقابلے میں بی این پی کو چھوٹی برائی سمجھتے ہوئے اس کے امیدواروں کو ووٹ دیا ہو۔مودی حکومت کیلئے بھی جماعت کی نسبت بی این پی یقیناً زیادہ قابل قبول ہے جس کا اظہار بھی مختلف شکلوں میں پچھلے دنوں ہوچکا ہے۔ تاہم عوامی لیگ کے بارے میں یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی ہے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی سے عوام میں ان کی حمایت ختم نہیں ہوتی۔ہمارے ہاں ایوبی دور میں جماعت اسلامی اور بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کو غیرمؤثر بنانے کیلئے مائنس ون پالیسی کی ناکامی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔تحریک انصاف کے ساتھ یہ تجربہ جاری ہے جبکہ اس کی ناکامی بھی بعید از قیاس نہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور بی این پی کو ختم کرنے کی کوششیں اسی طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ یہ تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے ، اظہار رائے پر قدغنیں عائد کرنے، خوف و دہشت کی فضا قائم کرکے حکومت کرنے کی پالیسیاں کبھی مثبت نتائج کا ذریعہ نہیں بنتیں۔اس لیے امید ہے کہ طارق رحمن کی قیادت میں بنگلہ دیش کا نیادور اہل وطن کو جمہوری آزادیاں اور کھلی فضا فراہم کرے گا ۔ اختلاف رائے کو غداری نہیں سمجھا جائے گا۔ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کے بل پر من مانی نہیں کی جائے گی بلکہ اپوزیشن کی معقول تنقید اور تجاویزکو قبول کیا جائے گا۔ ماضی میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت رہ چکی ہے۔ مرحومہ خالدہ ضیاء اور جماعت اسلامی کے موجودہ امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سمیت دونوں جماعتوں کی قیادتیں حسینہ واجد دور میں قید وبند اور مظالم کی ہدف رہی ہیں۔ امیر جماعت نتائج کو خوش دلی سے قبول کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اس لیے پوری توقع ہے کہ اپوزیشن بھی مخالفت برائے مخالفت کی روش اختیار نہیں کرے گی۔ بات بات پر احتجاج کے بجائے ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئےحکومت اور اپوزیشن باہمی تعاون کا راستہ اپنائیں گے۔
پاکستان کیلئے بنگلہ دیش کی آئندہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی گہرے دوستانہ جذبات رکھتی ہیں جس کی بنا پر دونوں ملکوں میں معیشت ، تجارت ، تعلیم اور دفاع سمیت تمام شعبوں میں روابط مزید مضبوط اور پائیدار ہونگے ۔مودی حکومت سے بھی بی این پی برابری کی سطح پر روابط رکھ سکے گی کیونکہ بھارت خود اس کا خواہشمند ہے۔ تاہم چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات نئے دور میں بہت گہرے ہونے کے آثار واضح ہیں۔اس طرح چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربت خطے میں طاقت کا توازن اس اتحاد کے حق میں بہتر کرنے کا سبب بنے گا اور حسینہ واجد دور کی طرح بنگلہ دیش بھارت کے استحصال کا شکار نہیں ہوگا۔
حیرت انگیز طور پر انقلاب جولائی برپا کرنے والے طلباء کی تنظیم این سی پی صرف پانچ نشستیں حاصل کرسکی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رائے دہندگان ملک چلانے کیلئے محض جوش جوانی کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ اس کیلئے زندگی کے بہتر تجربے، پختہ فکر اورتحمل و سنجیدگی کو لازم جانتے ہیں۔ یہ طرز فکر بنگلہ دیشی رائے دہندگان کے فہم و شعور کا واضح ثبوت ہے۔تاہم نوجوانوں کی یہ جماعت ملک کی تعمیر وترقی میں یقینا ً نمایاں کردار ادا کرسکتی اور مستقبل کیلئے بہترین صلاحیتوں کی حامل قیادت فراہم کرسکتی ہے۔ ملک کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمن نے امن وامان کے قیام اور قومی ترقی میں خواتین کی شرکت بڑھانے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے ۔ تاہم الیکشن کے ساتھ ہی ہونے والے ریفرنڈم میں تین چوتھائی رائے دہندگان نے جس اصلاحاتی ایجنڈے کے حق میں ووٹ دیا ہے وہ گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانے اور اقتدار کو کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود ہونے سے روکنے پر مشتمل ہے۔اس میں چار بڑی آئینی ترامیم کے ساتھ تیس اصلاحات شامل ہیں جن کی تیاری ڈاکٹر یونس کے قائم کردہ قومی اتفاق رائے کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ کی ہے۔ یوں طارق رحمن کو ان کی قوم نے ایک ایسا پروگرام فراہم کردیا ہے جس پر عمل کرکے وہ اپنے ملک کیلئے تاریخ ساز کردار ادا کرسکتے ہیں۔