• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزمائش کی ہر گھڑی دراصل قوموں کے صبر اور ان کی اجتماعی جرات کا کڑا امتحان ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ بظاہر ہمیں خوف زدہ کرنے کی ایک نا تمام سعی معلوم ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے بزدلانہ حملےاس قوم کے غیر متزلزل عزم کی فصیلوں میں دراڑ نہیں ڈال سکتے۔اسلام آباد کے قلب میں پیش آنے والا لرزہ خیز واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک جاں گداز قومی المیہ ہے جس نے ہر دردمند دل کو سوگوار کر دیا ہے۔ انتیس قیمتی جانوں کی قربانی اور ڈیڑھ سو سے زائد افراد کا زخمی ہونا ایک ایسی ٹیس ہے جو مدتوں ہمارے سینوں میں تازہ رہے گی۔یہ اعداد و شمار کا کوئی بے جان گوشوارہ نہیں بلکہ وہ ہنستے بستے گھرانے تھے جن کے چراغِ زندگی ایک ناگہانی مصیبت و طوفان کی نذر ہو گئے۔ اس دکھ کی گھڑی میں پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ ایستادہ ہے۔ یہ سانحہ ہمیں پکار پکار کر جتا رہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار جیسا اتحاد پیدا کریں۔ ان عوامل کا ادراک کریں جو ہماری پُرامن فضاؤں کو مکدر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک ادارے یا فرد کی نہیں پوری قوم کی بقا اور معنوی سلامتی کی جنگ ہے۔ بلاشبہ تشدد کےاس سفاکانہ رویہ کو کسی ایک گروہ کی وقتی لغزش کے طورپر نہیں ایک پیچیدہ سماجی اور نفسیاتی صورتحال کے شاخسانے کی صورت میں دیکھناچاہئے۔جس کے تدارک کیلئے ہمیں اپنی مجموعی ترجیحات کا ازسرِ نو حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔ یہ فقط ایک تزویراتی چیلنج نہیں ایک ایسا عمیق فکری محاذ ہے جہاں ہمیں استدلال اور امن کے بیانیے کے ساتھ پیش قدمی کرنی ہے۔ ریاست کا یہ اولین منصبی فریضہ ہے کہ وہ امن و امان کی بالادستی قائم رکھےلیکن ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر ہمیں بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے گرد و پیش میں کس طرح رواداری اور باہمی اخوت کے بیج بو سکتے ہیں اورپرامن ماحول کو سازگار بنانے کیلئے کس قدر کردار ادا کرسکتےہیں ۔ یہ واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ بیرونی ریشہ دوانیاں صرف اسی وقت نقب لگانے میں کامیاب ہوتی ہیں جب ہم اپنے اندرونی فکری محاذ پر کسی تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ دشمن ہمیشہ ہماری صفوں میں موجود فکری دراڑوں کی تلاش میں رہتا ہے۔اس لیے آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت قومی بیانیےکی یکسوئی ہے۔ مقتدر حلقوں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ مل کر ایک ایسا ناقابلِ تسخیر حصار قائم کریں جسکی بدولت خوف کے سائے سمٹ جائیں اور اعتماد کی فضا پروان چڑھے۔ سیکورٹی کے مادی و انتظامی اقدامات اپنی جگہ ناگزیر سہی مگر اس سے بھی زیادہ وقیع وہ نظریاتی دفاع ہے جو صرف ایک باشعور اور منصفانہ معاشرہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ دہشت گردی کسی جغرافیائی حد کی پابند نہیں، یہ ایک عالمگیر ناسور ہے جسکی تپش نے ہمارے گلستاں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کا پائیدار مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اپنے نظامِ عدل کو مزید مستحکم، اپنے نظامِ تعلیم کو جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگ اور اپنے سماجی رویوں کو مزید لچکدار بنانا ہوگا۔ جب تک معاشرے کا ہر طبقہ خود کو محفوظ اور قومی دھارے کا حصہ تسلیم نہیں کرے گا، تب تک پائیدار امن کی منزل ایک خوابِ پریشاں ہی رہے گی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی کے مہیب اندھیروں سے نکال کر امید کی تابانیاں دکھانی ہیں تاکہ وہ تخریبی سوچ کے بجائے تعمیرِ وطن کے عمل کا ہراول دستہ بنیں۔​اس ہولناک واقعے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ ہمیں صرف رسمی قراردادوں اور زبانی جمع خرچ سے بلند ہو کر ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھنی ہے جہاں انسانی جان کی حرمت کو ہر مصلحت پر مقدم سمجھا جائے۔ ریاست کو ایک شفیق نگہبان کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر شہری کی جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔اسی طرح عوام کو بھی کشادہ دلی سے اپنے ریاستی اداروں کی پشت پناہی کرنی ہوگی۔​دہشت گردی کے خلاف یہ طویل اور کٹھن جدوجہد صرف طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ حکمت اور تدبر کے حسین امتزاج سے جیتی جا سکتی ہے۔ یہ وقت باہمی الزام تراشی میں ضائع کرنے کا نہیں بلکہ یکجہتی کا عملی ثبوت دینے کا ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، منبر و محراب اور میڈیا کے ذریعے امن، رواداری اور ہم آہنگی کا وہ آفاقی پیغام عام کرنا ہے جو ہماری مٹی کی اصل پہچان ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے، انتہا پسندی کی جڑیں کھوکھلی کرنا ممکن نہ ہوگا ۔

​اسلام آباد کا یہ خونی واقعہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے کہ ہم اپنے نظام میں موجود ان شگافوں کو پُر کریں جو معاشی تفاوت اور احساسِ محرومی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں ایک پُرامن اور خوشحال پاکستان میں سانس لیں تو ہمیں آج ہی سے اپنے سماجی اور معاشی ڈھانچے کی اصلاح کی بنیاد رکھنا ہوگی۔ یہ وقت جذباتی تلاطم کا نہیں بلکہ دور رس اور سنجیدہ منصوبہ بندی کا ہے۔ ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر مرکوز کرنی چاہئیں کہ کس طرح ہم اپنے شہریوں کے وقار کو بلندی عطا کر سکتے ہیں اور ان کے دلوں سے عدم تحفظ کے سہمے ہوئے احساسات کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔یقینی طورپریہ سانحہ ہمیں یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل قوت ہمارا اتحاد اور باہمی یگانگت ہے۔ یہ سانحہ ہم سے خون کے آنسو نہیں وہ آہنی عہد مانگتا ہے کہ ہم پاک سرزمین کو امن کا وہ گہوارہ بنائیں گے جہاں ہر شہری، بلا تفریق رنگ و نسل، عزت اور امان کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔یہ سانحہ آج ہم سے صرف تین چیزوں کا متقاضی ہے:قومی اتحاد، شعوری بیداری اور انسانی جان کی مطلق و غیر مشروط تعظیم۔

تازہ ترین