لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی چیف جسٹس کے دفتر میں پچھلے دس سالوں کے دوران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے موجودہ ججوں کے خلاف کرپشن، جنسی بدسلوکی یا دیگر سنگین بدعنوانیوں سے متعلق آٹھ ہزار تین سو ساٹھ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ قانون و انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق یہ شکایات 2016 سے 2025 تک کے عرصے میں درج کی گئیں۔ بھارت میں موجودہ ججوں کے خلاف الزامات کو عام طور پر عدالتی اندرونی ان ہاؤس میکانزم کے ذریعے نمٹایا جاتا ہے جو خفیہ نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار سالانہ اوسطاً تقریباً 836 شکایات بنتی ہیں جس نے بھارت میں عدالتی احتساب، شکایات کے شفافانہ طریقہ کار اور فیصلوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔