• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی کمپنی ریلائنس ایڈسٹریز کو وینزویلا سے براہ راست تیل خریدنے کی امریکی اجازت

اسلام آباد (جنگ نیوز) سرکاری اور عالمی میڈیا رپورٹوں کے مطابق مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریزکو امریکا کی طرف سے ایک عام لائسنس جاری کیا گیا ہے جس سے وہ وینزویلا سے براہِ راست تیل خرید سکتا ہے، جو ایک اہم عالمی اقتصادی اور جیوپولیٹیکل پیش رفت ہے۔ یہ لائسنس امریکی حکومت نے جاری کیا ہے، جس کا مقصد وینزویلا کے خلاف سخت پابندیوں میں نرمی لا کر توانائی کی مارکیٹوں میں توانائی کی فراہمی کو بڑھانا اور اپنے تجارتی تعلقات مضبوط کرنا بتایا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کی موقف میں دوغلاپن نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ واشنگٹن ایک طرف وینزویلا پر سیاسی دباؤ برقرار رکھتا ہے، اور دوسری طرف اپنے مفادات کے تحت پابندیوں میں نرمی کرتا ہے — جو شفاف خارجہ پالیسی اورخود آزاد منڈی کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔یہ لائسنس خصوصی طور پر اُسی تیل کے لیے ہے جو پہلے سے نکالا جا چکا ہے، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ پابندیوں کا بنیادی ڈھانچہ برقرار رہے گا۔ تنقیدی نگاہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا اس طرح کی نرمی واقعی پابندیوں کے سیاسی مقصد کو پورا کرتی ہے، یا پھر صرف مارکیٹ کے تقاضوں اور بڑی کمپنیوں کے مفادات


کو آگے بڑھاتی ہے؟مزید یہ کہ امریکہ نے اسی موقع پر 25 فیصد punitive tariff بھی ختم کر دیا ہے، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تجارتی فائدے کو سیاسی ایجنڈے پر فوقیت دی جا رہی ہے؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ Reliance کو وینزویلا سے تیل سستا ملنے سے اس کے کراس کاسٹ ڈساؤنٹس اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ طویل مدتی طور پر دنیا بھر میں سیاسی دباؤ، سپلائی کی غیر یقینی صورتحال اور جیوپولیٹیکل خطرات کے سامنے انحصار کو بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب امریکی پالیسیاں جلد بدل سکتی ہیں یا پابندیوں کا اطلاق دوبارہ سخت ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی توانائی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی تعلقات دونوں کے لیے اہم ہے، مگر دوسری جانب اس پر یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا ایک بڑی کمپنی کے فائدے کو قومی اور علاقائی سیاسی حکمتِ عملی پر فوقیت دے کر فیصلہ کیا جا رہا ہے؟ بعض ناقدین کے مطابق اس سے بھارت کی روس، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے ساتھ توانائی اور سیاسی توازن کو چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید