واشنگٹن (اے پی پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو معافی نہ دینے پراسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےان کے اقدام کوشرمناک، قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو غیر معمولی جنگی وزیراعظم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی صدر انہیں معافی دینے سے انکار کر رہے ہیں، انکا اقدام قابلِ مذمت ہے، میرے خیال میں اس عمل پرانہیں خود سے شرمندہ ہونا چاہئے،امریکی صدر نے اسرائیلی عوام پرزور دیا کہ انہیں صدر ہرزوگ پر دبا ؤڈالنا چاہئے۔ دوسری جانب اسرائیلی صدر کے دفتر نے ٹرمپ کے بیانات کےردعمل میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جو قانون کی حکمرانی کے تحت چلتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی معافی کی درخواست کامقررہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جا رہا ہے۔ صدر ہرزوگ اس عمل کی تکمیل کے بعد قانون، ریاست اسرائیل کے بہترین مفادات اور اپنے ضمیر کے مطابق درخواست پر غور کریں گے۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد میں خیانت کے الزامات ہیں۔ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ سال 30 نومبر کو باضابطہ طور پر معافی کی درخواست جمع کرائی تھی۔ اسرائیلی قانون کے تحت صدر کو مجرمان کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے تاہم مقدمہ کے دوران معافی دینے کی کوئی نظیر موجود نہیں۔نیتن یاہو پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں جن پر عہدے میں رہتے ہوئے فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔