جنیوا(اے ایف پی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 150,000افغانوں کی وطن واپسی،بحران مزید شدید ہوگیا، شدید سردی، غربت اور قدرتی آفات کے باوجود لاکھوں افراد نئی زندگی شروع کرنے پر مجبور،کمزور معیشت اور بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال کے درمیان ملک کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں برس تقریباً 150,000افغان پاکستان اور ایران سے واپس آ چکے ہیں اور ہجرت کی رفتار اور حجم افغانستان کو مزید بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔کئی دہائیوں تک افغانوں کی میزبانی کرنے کے بعد پاکستان اور ایران نے ملک بدری میں اضافہ کر دیا ہے اور لاکھوں افراد کو سرحد پار واپس اس ملک بھیج دیا ہے جو پہلے ہی ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے نمائندے عرفات جمال نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ ڈیڑھ لاکھ افغان پاکستان اور ایران سے واپس آچکے ہیں،سخت سردیوں ، منفی درجہ حرارت اورشدید برفباری کے موسم میں ان کی اتنی بڑی تعداد میں واپسی تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں 2.9 ملین افراد واپس آئے، جس سے اکتوبر 2023 سے اب تک کل تعداد تقریباً 5.4 ملین ہو گئی ہے۔جمال نے کہا کہ لوگ نہایت مشکل حالات میں واپس آ رہے ہیں یا واپس آنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ چاہے وہ سرحد پر خاندان کے ساتھ پہنچیں یا اکیلے، افغانستان واپس آنے والوں کو غربت اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار ملک میں نئی زندگی شروع کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان واپسیوں کی رفتار اور پیمانہ افغانستان کو مزید بحران میں دھکیل رہے ہیں جبکہ ملک بدستور بگڑتی ہوئی انسانی اور انسانی حقوق کی صورتحال خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے کمزور معیشت، اور بار بار آنے والی قدرتی آفات کا سامنا کر رہا ہے۔