قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں بانی کی صحت سےمتعلق جو رپورٹ آئی ہے وہ خطرناک ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفاء اسپتال پہنچا دیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ 80 فیصد ضائع ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے سیکڑوں ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز احتجاج کریں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ میں موجود ہیں جن محمود اچکزئی، بیرسٹرگوہر، اسد قیصر، علامہ ناصرعباس و دیگر قائدین کل سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہیں۔
دیگر رہنماؤں میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شاہرام تراکئی، سیف اللّٰہ خان نیازی، شاندانہ گلزار، بشیر خان، فیصل امین گنڈاپور، علی جدون بھی پارلیمنٹ ہاؤس دھرنے میں موجود ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام داخلی دروازے بند ہیں، جس کی وجہ سے ارکان کا ناشتہ بھی وقت پر نہیں پہنچایا جا سکا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بیرسٹر گوہر سے حکومتی شخصیات کا رابطہ ہوا تھا اور بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے کے لیے ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دینے کی یقین دھانی کرائی گئی تھی۔