وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
لاہور میں ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پراپرٹی سیکٹر کے متعدد ٹیکسوں کی شرح کی کمی پر غور کریں گے، ہمیں مختلف سیکٹرز کے ایشوز کے ساتھ اپنے فنانس کو دیکھنا ہوتا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کا مستقبل ہیں، یہ آئی ٹی ایکسپورٹس 3 سے 4 ارب ڈالرز کی ہیں، آئی ٹی سیکٹر برآمدات میں کردار ادا کر سکتا ہے، آئی ٹی سیکٹر 8 سے 10 ارب ڈالرز برآمدات کا پوٹینشل رکھتا ہے، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4 سے 5 ارب ڈالرز باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی، عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔