انسانی اسمگلنگ اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کی موت سے متعلق حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی تھی بلکہ ممکنہ طور پر اس کا گلا دبایا گیا تھا۔
دریں اثناء ایپسٹین فائلز میں نام سامنے آنے کے بعد بندرگاہی و لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ سلطان احمد بن سلائم مستعفی ہو گئے۔
ایپسٹین دستاویز میں سامنے آیا تھا کہ تشدد سے متعلق ویڈیو بھیجنے پر جیفری ایپسٹین نے سلطان احمد بن سلائم کا شکریہ ادا کیا تھا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2008ء میں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم اگست 2019ء میں جیفری ایپسٹین امریکی جیل میں مردہ حالت میں ملا تھا، اس وقت خبر سامنے آئی تھی کہ جیفری ایپسٹین نے جیل میں خودکشی کر لی ہے۔
حال ہی میں امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین کی کمسن بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے سے متعلق معلومات پر مبنی فائلز جاری کی گئی ہیں۔