• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھاں اور ٹھکانہ دونوں پنجابی زبان کے الفاظ ہیں ہیر وارث شاہ میں ’’تھاں‘‘ ایک بنیادی اصطلاح ہے جسکا معنی اصل رہائش، اصل مطلب اور اصل مقصد ہے جبکہ ٹھکانہ عارضی رہائش کو کہتے ہیں ان اصطلاحات کی روشنی میں کسی بھی واقعہ کی اصلیت سمجھنے کیلئے اسکی روح تک یعنی تھاں تک پہنچنا ضروری ہے، ٹھکانے سے اصل صورتحال نہیں جانی جاسکتی۔ انگریزی الفاظ میں پوزیشن اور پوسچر والامعاملہ ہے۔ پوزیشن اصلی موقف اور اصل رائے ہوتی ہے جبکہ پوسچر(Posture)ظاہری ہیئت کا نام ہے۔ پی ٹی آئی اور مقتدرہ کے درمیان اس وقت جو آنکھ مچولی جاری ہے اسکو اوپر دئیے گئے بیانیہ کے مطابق تنقیدی جائزے اور منطقی دائرے سے گزارنا ضروری ہے تاکہ تاثر اور اصل حقیقت میں فرق سمجھا جاسکے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ’’ڈیل‘‘ ہے کچھ کا خیال ہے کہ یہ ’’ ڈھیل‘‘ ہے مگر منطق کی روسے مجھے یہ دونوں آرا درست نہیں لگتیں مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ صرف حکمرانی اور رہائی کی ’’تدبیر‘‘ ہے۔ حکمران معاملات کو ٹھنڈا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ حکمرانی کو طول دے سکیں اور تحریک انصاف بیماری کے نازک حالات سے رہائی اور بہتری کی تدبیر کر رہی ہے۔ دونوں طرف حیلہ سازی ہے حقیقی مفاہمت پر دونوں فریق نہ قائل نظر آتے ہیں اور نہ فوری طور پرادھر بڑھتے نظر آتے ہیں دونوں اپنی اپنی’’ تھاں‘‘ پر ہی قائم ہیں ان دونوں کے بیانات ’’ ٹھکانہ‘‘ ہیں جو کبھی بھی بدل کر واپس ’’ تھاں‘‘ پر آسکتا ہے۔

حادثے اور معجزے تو تاریخ میں خال خال ہی ہوتے ہیں اور انکی پیشگوئی کرنا ناممکن ہوتا ہے البتہ وارث شاہ کی طرح منطقی انداز میں تھاں اور ٹھکانے کا تعین ضرور کیا جاسکتا ہے۔جیل میں عمران خان کی آنکھوں کی بیماری نے سیاست میں ہمدردی کی لہر کو جنم دیا ہے۔ ظاہری واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت اس ہمدردی کی لہر کا مقابلہ کرنیکی تاب نہیں رکھتی اسلئے نرم رویہ اپنا رہی ہے جسکا لازمی نتیجہ ڈیل یا ڈھیل کی صورت میں نکلے گا۔ مگر اندرونی معاملہ یہ ہے کہ تحریک انصاف اور اسکے اندر عمران کو ڈیل یا ڈھیل، حکومت کی ’’ تھاں‘‘ محدود کردے گی وہ چاہے گی کہ اسکی تھاں بڑھے نہ کہ گھٹے اس لئے اس نے تھاں کو ٹھکانے میں بدلنے کا سیاسی رویہ اپنایا ہے ۔اندرونی حلقوں کا پختہ خیال ہے کہ مقتدرہ اور مخلوط حکومت اپنی پہلے والی ’’تھاں‘‘ یا موقف پر ہی قائم ہیں حقیقت یہی ہے البتہ تاثریاٹھکانہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ نرم پڑے ہیں اندرون خانہ کچھ چل رہا ہے یا پھر دباؤ کی وجہ سے حکومت بدل رہی ہے پوزیشن اور پوسچر میں یہی فرق ہے۔ تحریک انصاف بھی اسی ’’ تھاں‘‘ کھڑی ہے، اسکے موقف میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی سیاسی پوزیشن بھی وہی پرانی ہے مگر وہ بھی پالیسی کی ڈھیل کا اشارہ دے رہی ہے۔ اچکزئی کی طرف سے فوج کیخلاف تقریر یں نہ کرنیکا مشورہ شامل ہے تحریک انصاف کا پوسچر یا تاثر حکومت ہی کی طرح کا ڈھکوسلہ ہے جسکا مقصد بحرانی کیفیت میں حکومت پر زیادہ دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ڈھیل پر آمادہ ہوجائے۔ یا درہے کہ پوزیشن اور پوسچر ، تھاں اور ٹھکانے اور حقیقت وتاثر کے فرق کو اصلی فریق بخوبی جانتے ہیں البتہ میرے جیسے عامیوں کیلئے، دل بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔

میثاق، معاہدہ یا اتفاق رائے وہی کامیاب ہوتا ہے جس میں دونوں متحارب فریقوں کا فائدہ ہو۔ جنگ ہارکر فاتح کی شرائط پر ہی مفتوح صلح کرسکتا ہے مفتوح کی کامیابی اس قدر ہی ہوسکتی ہے کہ وہ ہاری ہوئی جنگ میں مستقبل کیلئے کوئی رعایت لے لے۔ فاتح زمانہ و حال میں رعایت اور سہولت کا دامن پھیلا دے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ خود اسکا بوریا بستر گول نہ ہوجائے۔ جولوگ اِدھر کے سرنڈر اور اُدھر کے سرینڈر کی توقع کرتے ہیں وہ معجزے اور حادثے کے خواہش مند ہوتے ہیں حقیقت پسندی کا تقاضا ہوتا ہے کہ دشمن اور غاصب انگریز سے گاندھی اور جناح کو مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔ عوامی لیڈر بینظیر بھٹو کو غیر جماعتی اسمبلی کے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی گول میز کانفرنس میں جانا پڑتا ہے، بینظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے کیلئے جنرل اسلم بیگ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں اور اپنی کابینہ میں خزانہ، دفاع اور خارجہ امور مقتدرہ کے نامزد کردہ افراد کو دینا پڑتے ہیں۔ نواز شریف کو پہلی بار وزیراعظم بننے کیلئے صدر اسحق خان اور مقتدرہ کے پسندیدہ پانچ افراد کو کابینہ میں شامل کرناپڑتا ہے۔ جمہوری لیڈر بینظیر بھٹو کو آمر صدر جنرل مشرف کیساتھ این آر او کرکے ہی وطن واپسی کا راستہ ملتا ہے اور تو اور ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ والے نواز شریف کو جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور پھر مقتدرہ سے صلح صفائی کرکے اپنے ملک آنا نصیب ہوتا ہے۔ تاریخ تو یہی رہی ہے کہ نیلسن منڈیلا کو اپنے سفید فام ظالم حکمرانوں سے معاہدہ کرکے ہی اقتدار مل سکا تھا۔آج کے دور میں تو بین الاقوامی فضا جمہوری نہیں آمرانہ ہے طاقت کا نشہ سرچڑھ کر بول رہا ہے انسانی آزادیوں کی ’’تھاں‘‘ سکڑرہی ہے ایسے میں مقتدرہ اور مخلوط حکومت کا کوئی بڑی قربانی دینے یا سیاسی رسک لینے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے نظر بٹو ہی سمجھیں۔

پہلے بھی بیماریاں ، سیاسی تاریخ میں حقیقت کو چھپانے اور تاثر کو ابھارنے کیلئے استعمال ہوتی رہی ہیں، تھاں’ٹھکانہ‘ اور ٹھکانہ ’تھاں‘ بنتے رہے ہیں ،بینظیر بھٹو ضیاء کے مارشل لا میں دانتوں کی تکلیف میں مبتلا ہوئیں تو بین الاقوامی دباؤ پر انہیں بیرون ملک بھجوانا پڑا۔ نواز شریف کے پلیٹلٹس کم ہوئے یا کروائے گئے تو جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ایسی فضا بنائی کہ اگر وہ باہر نہ گئے تو قضا آسکتی ہے فضا کو قضا کے سامنے جھکنا پڑا۔ نواز شریف کی جیل کے اندر پنکھے بند کروانے کی خواہش رکھنے والے وزیراعظم کو بھی ایسی فضا میں کوئی دوسری صدا نہ سنائی دی اور انہوں نے بھی اپنی کابینہ سمیت اس فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

کئی یار لوگ چشم سیاست سے موجودہ بیماری کا سابقہ بیماریوں سے تقابل کرکے وہی نتیجہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جو ماضی میں نکلتا رہا ہے۔ مگر اس عاجز کی رائے میں ابھی افق پر وہ سرخی بھی نمودار نہیں جو دن کا اجالا لاتی ہے۔ یہ عاجز دواڑھائی برسوں سے بند کواڑوں پر دستک دیکر مذاکرات اور مصالحت کی دہائی دے رہا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ راستہ تو یقیناً وہی ہے مگر ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی کوئی ایک فریق ہار مانے یا برابر برابر ہی رہ کر تھک جائے، ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ۔اب بھی ایک فریق حادثے، معجزے اور کسی ان دیکھے انقلاب کا منتظر ہے اور دوسری طرف طاقتور فریق مخالف پر ذرہ برابر اعتماد نہیں رکھتے انکو یقین ہے کہ قیدی نمبر804کو دی گئی۔ ہر رعایت اور سہولت خود صیاد کیلئے سختی اور مشکل کا باعث بنے گی۔

خوش گمانی پر اتریں تو جو مرضی منظر نامہ بنالیں مگر حقائق کے بغیر تعمیر کی گئی کوئی بھی عمارت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے خواہش البتہ یہی ہے کہ ہر فریق پاکستان کی خاطر، عوام کی خاطر اور آنیوالی نسلوں کے مستقبل کی خاطر مصالحت پر تیار ہو ۔ یاد رکھیں مصالحت قربانی کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوتی سارے فریق تھوڑی تھوڑی قربانی دیں، اناؤں کے خول اتاریں اور فانی بن کر سوچیں۔ اس ملک نے چلنا ہے، دنیا نے بھی برقرار رہنا ہےمگر آج کے سیاستدانوں ،حکمرانوں اور صحافیوں نے ہمیشہ نہیں رہنا۔ آئیے تاریخ میں لڑائی، جنگ، اور ناامیدی چھوڑکر جانیکی بجائے صلح، امن اور امیدچھوڑ کر جائیں۔ ملک اور اگلی نسلوں کیلئے یہ سب سے بڑا تحفہ اور میراث ہوگی۔

تازہ ترین