کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو ہجوم میں بھی الگ سنائی دیتی ہیں۔ آج پاکستان میںتبدیلی کی بازگشت تو بہت ہے، مگر جب اس آواز کا پیچھا کیا جائے تو سامنے کوئی واضح چہرہ، کوئی متبادل قیادت، کوئی قابلِ عمل خاکہ نظر نہیں آتا۔ ایسے میں سوال یہ نہیں رہتا کہ ہمیں کیا چاہیے، اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان کو کون سنبھال سکتا ہے؟اور اس سوال کا جواب اگر جذبات سے نہیں، زمینی حقائق سے تلاش کیا جائے تو ایک ہی نام سامنے آتا ہے: شہباز شریف۔یہ کوئی شخصیت پرستی نہیں، یہ حالات کی سادہ تشخیص ہے۔ پاکستان اس وقت نعروں، ضد اور انا کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک ایسی قیادت درکار ہے جو بات کرے، جو جوڑے، جو وقت پر فیصلہ کرے اور جو اپنی ذات کو ریاست پر حاوی نہ ہونے دے۔ شہباز شریف کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ انا سے پاک سیاست کرتے ہیں۔ جہاں مسئلہ ہو، وہ خود چل کر جاتے ہیں۔ ملاقات یا خاموش سفارت انہیں طریقوں سے نہیں، نتیجے سے غرض ہوتی ہے۔بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی ماحول اس کی واضح مثال ہے۔ ایسے لمحات میں لیڈر کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے نہ تو تاخیر کی، نہ بیانات کی سیاست کی۔ فوج کے ساتھ براہِ راست، لمحہ بہ لمحہ کوآرڈینیشن رہی۔ فیصلے فوری ہوئے، اور ساتھ ہی عالمی سطح پر ہنگامی سفارتی رابطے بھی کیے گئے۔ امریکا، چین، سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر اہم عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پہنچایا گیا۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو کشیدگی کو قابو میں رکھتی ہے اور ریاستی وقار کو مضبوط بناتی ہے۔
شہباز شریف کی ایک اور بڑی طاقت ان کے سول ملٹری تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات شخصی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہیں۔ اسی ہم آہنگی کی بدولت قومی سلامتی، معیشت اور خارجہ پالیسی ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے بجائے ایک سمت میں آگے بڑھتی ہیں۔ پاکستان جیسے حساس خطے میں واقع ملک کیلئےیہ ہم آہنگی کسی آسائش کا نام نہیں، بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔
داخلی سیاست میں بھی شہباز شریف نے وہ راستہ اختیار کیا ہے جو پاکستان کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں۔ بلوچستان اس کی نمایاں مثال ہے۔ اکثریت کے باوجود وہاں پیپلز پارٹی کو اقتدار دیا گیا تاکہ احساسِ شراکت مضبوط ہو۔ آزاد کشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کو حکومت دی گئی۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کو اقتدار میں رہنے دیا گیا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو گورنر شپ دی گئی، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت برقرار رہی، خیبر پختونخوا میں گورنر پیپلز پارٹی سے لیا گیا، اور گلگت بلتستان میں بھی پیپلز پارٹی کو قیادت دی گئی۔یہ سب فیصلے طاقت کے مظاہرے نہیں بلکہ وسعتِ ظرف کی سیاست کی مثالیں ہیں۔ یہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جو مانتا ہے کہ وفاق صرف آئینی شقوں سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے عملاً یہ ثابت کیا کہ ریاست کو چلانےکیلئے سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔انتظامی لحاظ سے شہباز شریف کا ٹریک ریکارڈ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے رفتار، نظم و ضبط اور عملدرآمد کی جو مثال قائم کی، وہ آج بھی گورننس کے مباحث میں حوالہ بن کر سامنے آتی ہے۔ فائلیں ان کیلئے بوجھ نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بحران میں بھی فیصلے کرنے سے نہیں گھبراتےچاہے وہ معاشی ہوں، انتظامی ہوں یا سفارتی۔اہم بات یہ بھی ہے کہ شہباز شریف ون مین شو پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ ٹیم ورک کے قائل ہیں۔ کابینہ، ادارے اور ماہرین کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہی ادارہ جاتی سوچ ریاستی ڈھانچے کو مضبوط بناتی ہے اور فیصلوں کو دیرپا بناتی ہے۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تحریکِ انصاف اس وقت اپوزیشن میں ہے، عمران خان جیل میں ہیں اور ملک میں ایک حد تک بےچینی اور احساسِ محرومی موجود ہے۔ ایک سیاسی خلا ضرور محسوس کیا جا رہا ہے، مگر اس خلا کو محاذ آرائی سے نہیں بلکہ سیاست کے ذریعے پُر کیا جانا چاہیے۔ اس مرحلے پر میاں نواز شریف کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف حکومت کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں، مگر سیاسی میدان میں نون لیگ کے بیانیے کو دوبارہ متحرک کرنا نواز شریف کی ذمہ داری بنتی ہے۔ وہ ملک کے مقبول رہنما ہیں، انہیں عوام میں آنا چاہیے، جلسے جلوس کرنے چاہئیں اور کارکنوں سے رابطہ بڑھانا چاہیے تاکہ پارٹی کا پیغام واضح ہو اور پیدا ہونے والا سیاسی خلا جمہوری انداز میں پُر ہو سکے۔آج جب ملک میں بار بار‘‘تبدیلی’’کی بات کی جا رہی ہے تو یہ سوال بھی ضروری ہے کہ متبادل کہاں ہے؟ کون ہے جو فوج، عالمی قیادت، سیاسی جماعتوں، صوبوں اور اداروںسب کو ایک ساتھ لے کر چل سکے؟ فی الحال ایسا کوئی واضح اور قابلِ عمل متبادل نظر نہیں آتا۔
آخر میں حقیقت یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت آہستہ آہستہ سنبھل رہی ہے، ترقی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور عالمی اعتماد بحال ہو رہا ہے، ملک کو کسی جھٹکے یا نئے تجربے کی نہیں بلکہ تسلسل کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایک ایسی حکومت درکار ہے جو اپنی مدت پوری کرے، سمت نہ بدلے اور ریاستی سفر کو منطقی انجام تک پہنچائےاور اس مرحلے پر شہباز شریف سے بہتر کوئی انتخاب نظر نہیں آتا۔