• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر خلیل الرحمٰن برصغیر اور پاکستان کی اردو صحافت کے وہ جانباز سپاہی تھے جن کی انتھک محنت، بصیرت اور جرأت نے اردو صحافت کو وہ مقام عطا کیا جس پر آج فخرکیاجاسکتاہے۔ وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ تحریکِ پاکستان کے ایک متحرک کارکن، آزادی کے ترجمان اور قوم کی اجتماعی آواز تھے۔ ان کی صحافتی خدمات محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ صحافت کو قوم کی تعمیر، فکری آزادی اور اجتماعی شعور کی بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

آزادی سے قبل کا وہ دور جب جنگِ عظیم دوم اپنے عروج پر تھی اور انگریز سامراج برصغیر کو آزادی دینے پر آمادہ نہ تھا، اس وقت ایک ایسی بے باک اور نظریاتی صحافت کی اشد ضرورت تھی جو انگریز حکومت پر دباؤ ڈال سکے اور ساتھ ہی برصغیر کے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص اور سیاسی حقوق کی ترجمانی کرے۔ یہی وہ تاریخی لمحہ تھا جب میر خلیل الرحمٰن نے 1940ء میں محض دو کمروں، ایک شکستہ میز اور دو کرسیوں کے ساتھ دہلی میں روزنامہ جنگ کی بنیاد رکھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب میدانِ صحافت میں الجمعیت، انصاری، کانگریس کا پیج، روزنامہ انجام، ہندو مہا سبھا کا بیدار جن، ہندی اخبارات میں نویک، دیش بھگت، ہند سماچار اور انگریزی اخبارات میں ہندوستان ٹائمز جیسے مضبوط ادارے موجود تھے۔ یہ تمام اخبارات حقیقی معنوں میں صرف بر صغیر کی انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے ترجمان تھے اور پاکستان جو کہ مسلمانوں کیلئے علیحدہ ملک بننا تھااور مسلم لیگ کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ان مشکل حالات میں میر خلیل الرحمٰن نے نہ صرف ان سب کا مقابلہ کیا بلکہ روزنامہ جنگ کو تحریکِ پاکستان کاہراول دستہ بنا دیا۔ یہ دراصل ایک اخبار نہیں بلکہ جنگِ آزادی کا آغاز تھا۔ابتدائی دنوں میں میر صاحب خود ہی نامہ نگار، پروف ریڈر، سب ایڈیٹر، ایڈیٹر، کاروان اور میر کاروان تھے۔ تقسیم کار تھے۔ ان کے ساتھ اختر صاحب تھےجو جنگ کے پہلے کاتب تھے اور بعد میںپاکستان میں جنگ سے وابستہ رہے۔ میر صاحب اپنی سائیکل پر اخبار کی کاپیاں خود تقسیم کیا کرتے تھے۔

یہ وہی دور تھا جب ان کا مقابلہ جمنا داس اختر، حیات اللہ انصاری،مسٹر ایڈوانی،امریت سنگھ پریمی،دھرم پال گپتا، محمد ذکریا اسعدی اور ناز انصاری انور، گوپال کرشن، دیوان سنگھ مفتون، دیوداس گاندھی، محمد عثمان آزاد اور دیگر قدآور صحافیوں سے تھا۔ اتنے لیجنڈلوگوں کے دور صحافت میں نیا اخبار شروع کرنا اور کامیاب بنانا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن میر صاحب نے دن رات محنت کی اور آہستہ آہستہ ان کا مقام و مرتبہ بلند ہوتا گیا۔روزنامہ جنگ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ کسی مذہبی گروہ، سیاسی جماعت یا مالی سرپرستی کا محتاج نہ تھا۔ یہ خالصتاً عوام کا اخبار تھامسلمانوں کی آواز، ان کے جذبات اور ان کے خوابوں کا ترجمان۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس کی مقبولیت بڑھی تو مخالف قوتیں گھبرا گئیں۔ اخبار کے دفتر کو آگ لگائی گئی، ہاکروں کو خریدا گیا اور اخبارات کی تقسیم روکنے کی کوششیں کی گئیںمگر عوامی محبت نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ جنگ جلد ہی ان علاقوں میں بھی مسلمانوں کی آواز بن گیا جہاں وہ اقلیت میں تھے۔جون 1947ء میں روزنامہ جنگ کی وہ تاریخی سرخی’’ساٹھ دن بعد پاکستان بن جائے گا‘‘اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ اخبار محض خبر نہیں دیتا تھا، تاریخ رقم کرتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد میر صاحب نے کراچی سے دوبارہ جنگ کا آغاز کیا اور اپنی انتھک کوششوںسے آج جنگ اخبار پاکستان کے5مختلف شہروں سے شائع ہورہا ہے جبکہ دی نیوزانگریزی اخبار کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا میں جیو نیوز نے پاکستان میں سب سے اعلیٰ مقام بنا لیا ہے۔

میر صاحب نے پاکستان میں اردو زبان کی ترقی کیلئے ایک انجمن بنائی جسکے صدر وہ خود اور جنرل سیکرٹری میرے والد نثار احمد نثار تھے۔اس تنظیم نے اردو کی ترویج کیلئے بڑا کام کیا ۔میر صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہیرا شناس آدمی تھے ۔انہوں نے صحافت کے بہترین لوگوں کو چن چن کر اپنے اخبار میں شامل کیا۔جنگ کی تاریخ گواہ ہے کہ صحافت کے بہترین دماغ اس سے وابستہ رہے انہوں نے ہمیشہ اچھے لکھنے والوں کو ہی ترجیح دی ۔پیر محمد علی راشدی کا مشرق و مغرب،انعام درانی کا تلخ و شیریں ،رئیس امروہوی کے قطعات ، شوکت تھانوی کے مزاحیہ کالم، مجید لاہوری کی طنزیہ نظمیںاور ابن انشا کے کالم عوامی مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنے اوربے حد مقبول ہوئے اس وجہ سے اخبار کی سرکولیشن لاکھوں میں پہنچ گئی۔ ہر اہم خبر سب سے پہلے جنگ میں شائع ہوتی تھی۔میر صاحب خبر کی تصدیق کے بغیر اسے شائع نہیں کرتے تھے۔ یہی صحافتی دیانت تھی کہ اگر جنگ میں دو کالم کی خبر بھی شائع ہو جاتی تو اقتدار کے ایوان لرز اٹھتے تھے۔ وہ معیشت کو بھی ادارے کی بنیاد سمجھتے تھے اور اپنے کارکنان کو کفایت شعاری اور وسائل کے درست استعمال کی تلقین کرتے تھے۔ ان کا کہناتھا کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جن کی معیشت مضبوط ہو۔حق گوئی اور سچائی کی اس روایت کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ مشکلات آئیں، دباؤ بڑھا، مگر میر خلیل الرحمٰن ثابت قدم رہے۔ انہی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں صحافت ایک باوقار اور معتبر مقام رکھتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے:

برس گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے

یہ شہر اب کسی اور بارش کو ترسے گا

میر خلیل الرحمٰن کا نام اردو صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ ایک روشن باب کی طرح زندہ رہے گا۔

تازہ ترین