بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمٰن سے میری کوئی ذاتی واقفیت ہے اور نہ مجھے ان کے بارے میں زیادہ علم ہے۔ وہ وزیراعظم بن گئے ہیں جو بہت بڑا رتبہ ہوتا ہے میرے جیسے عام صحافی کی تو شاید ان سے کبھی ملاقات بھی نہ ہو سکے مگر مجھے جب بھی بنگلہ دیش کے انتخاب کی کوئی خبر پڑھنے کو ملتی ہے میرے دل سے آواز آتی ہے کہ یہ طارق رحمٰن نہیں۔ طارق بھائی ہیں ایک اپنائیت تو اس لئے پیدا ہوئی کہ میں پینڈو ہونے کے باوجود اب لاہوڑی ہوں اور طارق رحمٰن بھی لہوڑ میں پیدا ہونے کی وجہ سے پیدائشی لہوڑی ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ لہوڑیوں کی طرح" ر" کو"ڑ" نہیں بولتے۔
شبُھ اچھا بنگالی کا لفظ ہے جس کا اردو مطلب مبارکباد ہے۔ طارق بھائی کو ’’بھائی‘‘ بناتے ہوئے مجھے مولانا عبد الرحمٰن اشرفی مرحوم و مغفور بہت یاد آئے وہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے نامور عالم دین اور جامعہ کے بانی مفتی محمد حسن کے فرزند تھے جامعہ اشرفیہ گو دیو بندی مکتب فکر کا قائل ہے مگر یہاں اعتدال، امن پسندی اور صلح جوئی کا نمایاں طور پر خیال رکھا جاتا ہے مولانا اشرفی محبت سے دلوں کو جیتنے کے دل و جان سے قائل تھے اور اپنی اس خوبی کی بنا پر دشمنوں کو گھائل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی ہر ایک کیلئےان کے دروازے وا رہتے تھے جنرل مشرف کے دور حکومت میں ایک بار انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو اپنا کلاس فیلو قرار دیا۔ ہر کوئی اس بیان پر حیران تھا کہ مولانا نے دینی مدرسے کے علاوہ کہیں تعلیم حاصل نہیں کی اور جنرل مشرف کسی دینی مدرسے میں کبھی داخل ہی نہیں رہے تو وُہ ان کے کلاس فیلو کیسے ہو سکتے ہیں؟ مولانا اشرفی نے خود ہی مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے اور جنرل پرویز مشرف دونوں کو ایک ہی وقت میں خانہ کعبہ کی چھت پر جانے کا موقع ملا تھا نیکی اور خوشگواریت کے وُہ لمحات ایک کلاس کی طرح تھے گویا جنرل مشرف اور میں کلاس فیلو ہوئے نا!! بس اسی دلیل سے طارق رحمٰن، میرے طارق بھائی ہیں۔
بنگلہ دیش کو پاکستان سے جغرافیائی طور پر الگ ہوئے 55سال گزر چکے مگر اب بھی ہمارے ذہنوں سے ڈھاکا محو نہیں ہوا اور لازمی طور پر اُدھر بھی وہی حال ہو گا۔ ڈھاکہ میں آنے والی ہر سیاسی اور سماجی تبدیلی کا پاکستانی مائنڈ سیٹ پر گہرا اثر پڑتا ہے، غیرجانبدار نگران حکومت کا بلیو پرنٹ بھی براستہ ڈھاکہ آیا تھا۔ بنگلہ دیش تو اس تصور سے جلد ہی تائب ہو گیا مگر ہمارے ہاں ابھی تک وُہ بنگلہ دیشی عبوری حکومت آئین میں موجود ہے سنا ہے کہ اگلی مجوزہ ترامیم میں پاکستان میں بھی 1973ء والا پرانا نظام بحال کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کے ماڈل پر پاکستان میں بڑی داد ملتی رہی سیاست کو دبا کر معیشت کی ترجیح پر زور کی نقل ہم بھی مارنا چاہتے تھے 2024ء کے الیکشن سے پہلے سابقہ انٹلیجنس چیف بنگلہ دیشی ماڈل ہی لانے کے خواہاں تھے مگر نگران حکومت کے تصور کی طرح بنگلہ دیش نے خود ہی حسینہ واجد ماڈل کا دھڑن تختہ کر دیا اور پاکستان کے ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ کیا، جو غلطی پاکستان میں 2024ء میں مقتدرہ سے ہوئی تھی اس غلطی کو بنگلہ دیش میں نہیں دہرایا گیا۔ پاکستان میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو اجتماعی انتخابی نشان کے بغیر الیکشن لڑنے کی آزادی دی گئی اور نتیجے کے طور پر مقتدرہ کے حساب کتاب سے معاملہ بے قابو ہو گیا بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی لگا کر اس مسئلے کو ’’بخوبی‘‘ حل کر لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں 2018ء اور 2024ء کے پاکستانی الیکشن جیسا قبولیت اور مقبولیت کا معاملہ نہیں تھا کم از کم پاکستانی پریس میں انتخابات میں دھاندلی اور جھرلو جیسی کوئی خبر نہیں شائع ہوئی البتہ سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے تقریباً وہی بیان دیا ہے جو 2024ء کے الیکشن پر تحریک انصاف نے دیا تھا۔ بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کو جمہوریت کےدوبارہ پٹڑی پرچڑھنے سے تشبیہ دی جارہی ہے اب طارق بھائی لہوڑی کے نازک کندھوں پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وُہ جمہوری رتھ میں جمہوری گھوڑے اور معاشی گھوڑے دونوں کو ساتھ ساتھ چلائیں حسینہ واجد نے معاشی گھوڑے کو چلانے کیلئےجمہوری گھوڑے کو اس قدر چابک مارے کہ اپوزیشن کے رہنماؤں کو عدالتوں کے ذریعے پھانسی پر چڑھا دیا ،ظاہر ہے انتقام نے واپس آنا ہی تھا انتقام کے دائرے میں اب نشانہ حسینہ واجد ہیں اور انکا نشانہ بننے والے اقتدار سنبھال رہے ہیں۔ انتقام کے دائرے کے حساب سے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔شیخ مجیب الرحمٰن اور انکی پارٹی کو کبھی اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آیا کرتی تھی اب نہ پٹ سن کا دور رہا اور نہ اب اسلام آباد میں بنگالی سرمایہ آتا ہے البتہ اسلام آباد میں آج بھی حسین شہید سہروردی، فضل الحق اور دوسرے بنگالی لیڈروں کے نام یادگار کے طور پر محفوظ ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ڈھاکہ میں پاکستان سے وابستہ ہر نام اور ہر یادگار کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا ہے۔ دو دہائیوں کے دوران اس عاجز کو مختلف کانفرنسوں میں شرکت کیلئے دوبار بنگلہ دیش جانا پڑا۔ اوورسیز بنگالی برطانیہ میں پاکستانیوں کے ہمسائے ہیں ان سے بھی ملنا جلنا رہا۔ محو حیرت ہوں کہ وُہ پاکستان کے بارے میں جو منفی خیالات رکھتے تھے وہ یک لخت مثبت کیسے ہو گئے اس حوالے سے ظاہری واقعات کا تو ہم سب کو علم ہے، بھارت کی بنگلہ دیش میں بے جا مداخلت کا بھی اندازہ ہے مگر وُہ خاص کونسی تار ہے جس نے بنگالیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
گزشتہ 55برس میں نہ صرف دنیا بدلی ہے بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں سب کچھ بدل گیا ہے کبھی پٹ سن اور سنہری ریشے کی دنیا بھر میں ضرورت تھی اور مشرقی پاکستان اس کا بڑا مرکز تھا اب پٹ سن متروک ہو چکا کپاس کا دور دورہ ہے ۔دلچسپ بات ہے کہ پاکستان کے ٹیکسائل اور کاٹن انجینئرز بڑی تعداد میں بنگلہ دیش میں کام کرتے ہیں بنگلہ دیش جانے اور آنے والی فلائٹ میں زیادہ تر تعداد ٹیکسٹائل اور کاٹن انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی ہی ہوتی ہے۔ آجکل پنجاب اور سندھ کی کپاس سے کپڑے بنا کر بنگلہ دیش کپڑا یورپ اور امریکہ کو برآمد کر رہا ہے۔
طارق بھائی کے وزیر اعظم بننے سے ہمارے ضمیر اور دماغ پر لگے گہرے زخم مندمل ہونے کا عمل شروع ہو سکتا ہے ،معاملہ بہت نازک اور حساس ہے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کو زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ مشترکات کو فروغ اور اختلافات کو کم از کم کرنے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ میری رائے میں دونوں ملکوں میں دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کے وفود کو باہمی دورے کرنے چاہئیں، اسی طرح صحافیوں کی آمدورفت سے بھی ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
طارق بھائی کا وزیر اعظم بننا، بھارت اور پاکستان کے درمیان لڈوکے میچ میں پاکستان کو ملنے والے اوپر تلے تین چھکوں کے برابر ہے ۔ بھارت نے 1971ء میں پاکستان پر جو زخم لگایا تھا طارق بھائی کی وزارت عظمیٰ بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے ہمیں افغانستان کے لیے جان و مال کی قربانی کے باوجود مایوسی ہی ملی مگر بنگلہ دیش میں تیز تر تبدیلیوں نے اس خطّے میں پاکستان کو پھر سے سرخرو کردیاہے ۔
شکریہ طارق بھائی