• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کاقریب سے مشاہدہ کرنے کیلئے گزشتہ ایک ہفتہ ڈھاکہ میں گزرا۔ان دنوں کی روداد اور بنگلہ دیش کے عوام کی بے مثال محبت کی تفصیل بھی پھر کبھی آپ کے سامنے رکھوں گا،سرِدست انتخابات اور نئی حکومت پر کچھ معروضات پیش کرنے کا ارادہ ہے۔بہت سے لوگ کراچی ایئر پورٹ پر میرے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ سے متعلق بھی جانناچاہیں گے مگر میرا خیال ہے کہ ان صفحات پرقومی مسائل زیر بحث لانے کے بجائے ذاتی دکھ درد بیان کرنا قارئین کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔پہلے اس مغالطے پر بات کرلیتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ہارگئی۔ممکن ہے جماعت اسلامی پاکستان نے غیر حقیقت پسندانہ خواب دیکھے ہوں یا پھر اپنی پے درپے انتخابی ناکامیوں پر خفت مٹانے کی غرض سے یہ بیانیہ ترتیب دیا ہو مگر مجھے ڈھاکہ پہنچ کر اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ مقابلہ سخت ہوگامگر بنگلہ دیش میں اگلی حکومت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی ہوگی۔اس کی کئی وجوہات اور اسباب ہیں۔وہاں دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں عوامی لیگ اور بی این پی ۔اگر عوامی لیگ میدان سے باہر ہے تو اس کا ووٹر جماعت اسلامی یا انقلاب برپا کرنے اور شیخ حسینہ کا تختہ اُلٹنے والی نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP)کی طرف مائل ہو ،اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔نہ صرف اس ووٹر نے بی این پی کا رُخ کیا بلکہ ہندو کمیونٹی کا جھکائو بھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی طرف رہا ۔پھر خالدہ ضیا کی وفات سے بھی انکے بیٹے طارق رحمان کو عوام کی ہمدردی حاصل ہوئی۔اسکے علاوہ بنگلہ دیش کے ریاستی ادارے یعنی پولیس ،فوج ،عدلیہ ،الیکشن کمیشن اوراقوام عالم کیلئے بی این پی قابل قبول تھی مگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے متعلق تحفظات تھے ۔بھارت کیلئے تو جماعت اسلامی کا اقتدار میں آنا کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا ۔تاہم یہ مفروضہ غلط فہمیوں پر مبنی ہے کہ جماعت اسلامی ہار گئی ۔میری دانست میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اگر اسی طرح بالغ نظری کا مظاہرہ کرتی رہی تو اگلی حکومت جماعت اسلامی کی ہوگی۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی ماضی میں بہترین کارکردگی 1991ء کے انتخابات میں رہی جب اسے 18نشستوں پر کامیابی ملی ،2001ء میں جماعت اسلامی نے 17جبکہ 2008ء میں صرف 2حلقوں میں اس کے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ حالیہ انتخابات میں داری پلہ یعنی ترازو کے حصے میں 68نشستیں آئیں جبکہ 11جماعتی اتحاد نے مجموعی طور پر 77حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ماضی میں جماعت اسلامی نے زیادہ سے زیادہ 12فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ اس بار لگ بھگ 40فیصد ووٹ ملے ۔بنگلہ دیش میں اب تک صرف ایک ایوان ہی ہوا کرتا تھا نئی حکومت جب سینیٹ کا قیام عمل میں لائے گی تو یہاں بی این پی کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں ارکان پارلیمنٹ سینیٹرز منتخب نہیں کریں گے بلکہ عام انتخابات میں حاصل کئے گئے ووٹوں کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو نمائندگی ملے گی۔جس طرح ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جو لاہور فتح کرتا ہے ،اسلام آباد پر اسی کی حکومت ہوتی ہے اسی طرح بنگلہ دیش میں جو جماعت ڈھاکہ سے جیتتی ہے ،وہی حکومت بناتی ہے ۔ماضی میں جماعت اسلامی کو دارالحکومت سے کبھی کامیابی نہیں ملی مگر اس بار ڈھاکہ سے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹرشفیق الرحمان سمیت 6امیدواروں کو کامیابی ملی جبکہ این سی پی کے سربراہ ناہید اسلام بھی ڈھاکہ سے کامیاب ہوئے۔جماعت اسلامی کی مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ ڈھاکہ 17کا حلقہ جہاں سے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان الیکشن لڑ رہےتھے، وہاں جماعت اسلامی کے امیدوار خالد الزماں کے مقابلے میں جیت کا مارجن صرف4399رہا جبکہ اس حلقے سے 2211ووٹ مسترد ہوئے۔ڈھاکہ 10سے بی این پی کے امیدوار شیخ ربیع العالم نے 80436ووٹ لئے جبکہ جماعت اسلامی کے محمد جاسم الدین سرکار کو 77136ووٹ ملے یعنی 3300ووٹوں کا فرق ہے۔ڈھاکہ 13سے بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار بوبی حاجی جماعت اسلامی کے امیدوار مامون الحق سے صرف 2320ووٹوں سے جیت پائے ۔کم ازکم 30حلقے ایسے ہیں جہاں سے جماعت اسلامی پانچ ہزار سے کم ووٹوں کے فرق سے ہاری اور ان حلقوں میںدوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔کھلنا ون سے جماعت اسلامی کے ہندو اُمیدوار کرشنا نندی ہارگئے مگر کھلنا ڈویژن کی 36میں سے 25نشستوں پر جماعت اسلامی کے اُمیدوار جیت گئے،رنگ پور کی 33میں سے 16نشستیں جماعت اسلامی کے حصے میں آئیں،راج شاہی ڈویژن کے 39میں سے 11حلقوں میں جماعت اسلامی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔اگر پاکستان میں کچھ لوگ اسے ناکامی اور شکست سمجھ رہے ہیں تو ان کی رائے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

جہاں تک نوجوانوں کی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP)کاتعلق ہے انہوں نے 30حلقوں میں اپنے اُمیدوار کھڑے کئے تھے اور ان کے حصے میں 6نشستیں آئیں۔ظاہرہے حکومت گرانے اور حکومت بنانے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔یہ نوجوان پہلی بار انتخابی سیاست میں آئے ،تجربہ نہیں تھا ،اس تناظر میں یہ کارکردگی ہرگز مایوس کن نہیں۔مثبت اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بدامنی اور فسادات کے حوالے سے تمام تر خدشات اندیشہ ہائے دوردراز ثابت ہوئے۔مجموعی طور پر بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات پرامن رہے ۔الیکشن کمیشن کی طرف سے بہت عمدہ انتظامات کئے گئے تھے ۔بالخصوص میڈیا کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئی اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔بے ضابطگیوں ،ووٹوں کی گنتی میں شکایات کے باوجود NCPاور جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا اور سڑکوں پر نکلنے کے بجائے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ۔دوسری طرف بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور این سی پی کے سربراہ ناہید اسلام کے گھر جانے کا اعلان کیا ہے جسے نئے سیاسی عہد کی شروعات قرار دیا جاسکتا ہے۔باقی تفصیل آئندہ کالم میں ۔

تازہ ترین