• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میونخ سیکورٹی کانفرنس میونخ سرکس میں تبدیل ہوچکی، ایرانی وزیر خارجہ

تہران (اے پی پی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس پر شدید تنقید کرتے ہوئےکہا کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ٹرائیکا یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی اب غیر اہم اور بے اثر ہو چکے ہیں۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پراپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس جو اپنی سنجیدگی کی وجہ سے جانی جاتی ہے، اس بار صرف ایران پر توجہ مرکوز کئے رہی ۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران آئندہ ہفتے جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔ادھر عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی مسلسل کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔ یہ ممکنہ تصادم دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دیکھی گئی کشیدگی سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ انہوں نے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تقریبا ایک ماہ کی مہلت دی ہے، ورنہ بہت برے نتائج برآمد ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود ہیں اور میزائلوں کا معاملہ ملکی خودمختاری کا مسئلہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

دنیا بھر سے سے مزید