• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکا مذاکرات: توانائی، معدنیات اور طیارہ سازی کے ممکنہ معاہدے زیر غور

کراچی (نیوز ڈیسک) ایران اور امریکا مذاکرات میں توانائی، معدنیات اور طیارہ سازی کے ممکنہ معاہدے زیر غور، جنیوا میں منگل کو مزید مذاکرات متوقع، واشنگٹن کی ترجیح سفارتی حل، مگر فوجی آپشن بھی موجود، ایرانی سفارتکار کا کہنا ہےمعاہدے کی پائیداری کیلئے ضروری ہے واشنگٹن کو بھی فوری معاشی فوائد حاصل ہوں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات میں توانائی، مشترکہ تیل و گیس فیلڈز، معدنیات میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری جیسے اقتصادی معاہدوں کو بھی شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہو۔ ایرانی وزارت خارجہ کے اقتصادی سفارتکاری کے نائب سربراہ حامد قنبری نے کہا کہ معاہدے کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ امریکا کو بھی فوری معاشی فوائد حاصل ہوں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اگلا دورِ مذاکرات منگل کو جنیوا میں ہوگا، جس میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے براتسلاوا میں کہا کہ صدر سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ انتہائی افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے لیکن صفر افزودگی قبول نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ 2018 میں ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکا کو علیحدہ کر کے سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں۔ دوسری جانب امریکا ایران کی تیل برآمدات، خصوصاً چین کو فروخت، محدود کرنے کی کوششیں بھی تیز کر رہا ہے، جو ایران کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید