• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا: خالد مقبول صدیقی

ہماری حکومت کے ساتھ اعتماد میں بہت کمی آئی ہے، خالد مقبول صدیقی - فوٹو:فائل
ہماری حکومت کے ساتھ اعتماد میں بہت کمی آئی ہے، خالد مقبول صدیقی - فوٹو:فائل

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ گورنر کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے تحت سالانہ امدادی پروگرام کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری بہت اعتماد سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں۔

چیئرمین ایم ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ ہماری حکومت کے ساتھ اعتماد میں بہت کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بات کی کہ سندھ کے شہری علاقوں سے گورنر بننے کی روایت تھی۔ سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہمیشہ سے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایک ہی صوبے میں دو طبقات کیوں بنا دیے گئے ہیں؟

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کے فنڈز سے موٹرویز بنتے ہیں مگر کراچی حیدرآباد کا کوئی موٹروے نہیں ہے۔ ہیوی ٹریفک شہر کے بیچ سے گزرتا ہے اور کتنے لوگوں کو کچل دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں جس طرح زمینوں پر قبضہ ہوا ہے لگتا ہے کہ اس پر قومی اتفاق رائے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ تعلیم کی وزارت مل گئی تو تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے۔ ہم نے صدر سے درخواست کی کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق اپنا کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مردم شماری میں ایم کیو ایم پاکستان نے 70 لاکھ لوگ بازیاب کروائے۔

قومی خبریں سے مزید