• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان: قبل ازوقت انتخابات میں پہلی خاتون وزیراعظم کی جیت

جاپان میں فروری کے دوسرے ہفتے میں پارلیمان کے قبل از وقت انتخابات ہوئے، جس میں مُلک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم، سانائے تاکائیچی کے اتحاد نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی۔ یہ شان دار جیت، ہر لحاظ سے، جاپان کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک نیا موڑ ہے۔ یہ اِس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ فاتح اتحاد، قدامت پسند نظریات کا حامل ہے، جس نے جاپان کی سابقہ عظمت بحال کرنے کے نعرے پر ووٹس حاصل کیے ہیں۔ 

اِس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عوام اپنے مُلک کو بدلنا چاہتے ہیں۔ جاپان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ جاپانی قوم محض باتیں گھڑنے والی قوم نہیں، وہ جو کہتی ہے، کر گزرتی ہے۔ تاکائیچی کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے428کے ایوان میں316نشستیں حاصل کیں۔ جاپان کی پارلیمان1947ء میں قائم ہوئی اور یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک پارٹی نے ایوانِ زیریں میں(جو اصل طاقت کا حامل ہے) تین، چوتھائی اکثریت حاصل کی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اُن کی اتحادی جماعت انوویشن پارٹی نے بھی36 نشستیں جیتی ہیں، یوں دونوں کے اتحاد کی352 نشستیں ہوگئیں۔ واضح رہے، تاکائیچی کو جاپان کے اہم اتحادی، امریکا کی آشیرباد حاصل ہے، اِس طرح اُن کی علاقائی اور عالمی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ جاپان ایک عرصے سے جمود کا شکار ہے، حالاں کہ اِس سے قبل اُس کا شمار دنیا کے اقتصادی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ اِس جمود کا سبب بھی جاپان کی گرتی اور رُکی ہوئی معیشت ہے۔ 

دنیا بَھر کے رہنماؤں نے اِس کام یابی پر جاپان کی وزیرِ اعظم کو مبارک دی ہے۔ قوم پرستی کی موجودہ لہر میں ان کا اقتدار میں آنا اُن حکومتوں کے لیے بہت اہم ہے، جو اِسی طرح کے نظریات رکھتی ہیں۔ لیکن دنیا کے لیے سب سے دل چسپ مطالعہ یہ ہوگا کہ نئی حکم ران، جاپان کو کیسے اُس کا کھویا مقام واپس دِلاتی ہیں۔

جاپان اسٹاک ایکسچینج کا225انڈیکس پہلی مرتبہ 57,000 کا نشان عبور کر گیا۔ یہ غیر معمولی جیت واضح اشارہ ہے کہ انہیں بزنس کے فروغ کی پالیسی آگے بڑھانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی فوجی منشور پر بھی پوری طرح عمل ہوگا، جو جاپان کو پھر سے ایک بڑی طاقت بنادے گا۔

سانائے تاکائیچی نے2025ء میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت سنبھالی اور وزیرِ اعظم بنیں۔ لبرل پارٹی طویل عرصے سے جاپان پر حُکم رانی کر رہی ہے، تاہم اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیوں کی وجہ سے ہر سال نیا وزیرِ اعظم سامنے آتا رہا، جس کی وجہ سے مُلک کو طویل المیعاد سیاسی اور اقتصادی استحکام حاصل نہ ہوسکا۔ تاکائیچی اپنی قدامت پسندانہ سوچ، قوم پرستانہ مؤقف اور مضبوط سیاسی پیش قدمی کے سبب جانی جاتی ہیں۔

اُنھوں نے معیشت کی بحالی، فوجی طاقت اور روایتی سماجی اقدار کے حق میں اپنی شناخت بنائی۔ وہ سابق وزیرِ اعظم شنزو ایبے کی قریبی ساتھی رہیں اور اُن کے افکار و نظریات سے متاثر ہیں۔ یاد رہے، شنزو کے دَور میں جاپان کے آئین میں تاریخی ترمیم ہوئی اور جنگِ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ مُلک کے لیے فوجی پیش رفت کا راستہ کُھلا۔ اِس سے قبل امریکا اسے حفاظتی چھتری فراہم کرتا رہا۔

جاپان دوسری عالمی جنگ میں سُپر پاور تھا اور اس نے امریکا سے ٹکر لی تھی۔ چین سمیت انڈوپیسفک کے کئی ممالک پر فوجی قبضہ کیا۔ تاہم، وہ پہلا اور واحد مُلک ہے، جو ایٹم بم کی تباہ کاری کا شکار ہوا اور جنگ میں شکست کھائی۔ لیکن اس کے عوام اور لیڈر داد کے مستحق ہیں کہ اس شکست کو اپنا روگ بننے اور ماتم منانے کی بجائے دس سال کے مختصر عرصے میں حیرت انگیز اقتصادی ترقّی کی اور دنیا کی دوسری بڑی اکانومی بن کر سامنے آئے۔

اُنہوں نے اپنی غلطیاں تسلیم کیں، اُن سے سبق سیکھا اور دن رات محنت کرکے وہ کر دِکھایا، جو کسی اَن ہونی سے کم نہ تھا۔ جاپان نہ صرف اپنے علاقے، بلکہ دنیا کے لیے ایک معاشی ماڈل بنا، جب کہ اس نے جنوب مشرقی ایشیا کو ترقّی یافتہ خطّہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج کے چین کی طرح، ماضی کا جاپان دنیا کے مال کی فیکٹری ہوا کرتا تھا۔ پاکستان میں جاپانی کاروں سے لے کر کیمروں، کھلونوں، کپڑوں، جوتوں اور الیکٹرانک کے سامان سے مارکیٹس بھری رہتی تھیں۔ جاپانی مال تین دہائیوں تک عوام کا پسندیدہ رہا۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ باقاعدہ باڑہ مارکیٹ جاپانی مال کی خریداری کے لیے جاتے، جو پشاور سے کراچی اور کوئٹہ تک انتہائی مقبول تھا۔لیکن 80 ء کی دہائی کے بعد جاپانی معیشت پر جمود طاری ہونے لگا اور اُدھر نئی صدی شروع ہونے کے ساتھ ہی چین نے جاپان کو اقتصادی میدان میں پیچھے چھوڑ دیا، حالاں کہ اُس نے بھی جاپانی اقتصادی ماڈل ہی اپنایا تھا۔ سیاسی طور پر جاپان انڈوپیسفک میں امریکا کا سب سے قریبی اتحادی ہے اور اُس کی سلامتی کا ضامن بھی۔ 

صدر بش اور اس کے بعد آنے والے امریکی صدور نے جب پوٹ، یعنی جنوب مشرقی ایشیا پر امریکی ارتکاز کی پالیسی اپنائی، تو اُنہوں نے جاپان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنا فوجی کردار ادا کرنے کے لیے پیش رفت کرے۔ لیکن چین سمیت کئی ممالک، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کا جارحانہ کردار دیکھا، اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ شنزو ایبے کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد جاپان نے یک سَر پلٹا کھایا۔

آئین کے اُس آرٹیکل میں ترمیم کردی، جس کے تحت اُس نے ازخُود اپنے آپ پر فوجی کردار ادا نہ کرنے کی پابندی لگائی تھی۔ تاکائیچی اُنہی رہنماؤں میں شامل ہیں، جو جاپان کے فوجی کردار کی حامی ہیں۔ جاپان اُن عالمی قوّتوں میں شامل ہے، جو ویٹو پاور کی متمنّی ہیں۔ نیز، جس طرح جاپانی عوام نے تاکائیچی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اُس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اب وہاں کے عوام بھی ایک مضبوط معیشت کے ساتھ، طاقت وَر فوجی قوّت چاہتے ہیں۔ 

یہ انقلاب پانچ نسلوں کے بعد آیا۔ تاکائیچی کا اقتدار میں آنا یقیناً اِس لحاظ سے بہت اہم ہوگا کہ جاپان فوجی میدان میں کیا تبدیلیاں لاتا ہے اور کس قسم کی پیش رفت کرتا ہے۔ اگر چین اس کی مخالفت کرتا ہے، تو امریکا اور اُس کے اتحادی، جاپان کے فوجی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر شمالی کوریا کی ایٹمی اور میزائل پیش رفت کے پس منظر میں جاپان کو ایک علاقائی استحکام کی علامت دیکھا جاتا ہے۔ یہ امر کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں کہ جاپان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت ترقّی یافتہ مُلک ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ ایٹمی پاور پلانٹ اس کے پاس ہیں۔ 

اسپیس ٹیکنالوجی میں وہ سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔اس کے علاوہ آئی ٹی، آرٹی فیشل انٹیلی جینس اور مینوفیکچرنگ میں اس کی صنعتیں اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ دنیا میں سب سے زیادہ امداد دینے والا مُلک ہے۔ پاکستان نے اس سے بہت فائدہ اُٹھایا اور ترقّی کی راہیں کھولیں۔ جاپان کا بزنس کلچر دنیا کے لیے مثال ہے۔ جدید اور وسیع انفرا اسٹرکچر رکھنے کے بعد کوئی ایسی بندش نہیں، جو اِسے طاقت وَر ممالک کی صف میں شامل ہونے سے روک سکے۔ 

یہ فیصلہ کسی اور نے نہیں، جاپانیوں نے خُود کرنا تھا اور اُنھوں نے ووٹ کے ذریعے دنیا کو اپنا فیصلہ سُنا بھی دیا۔ جاپان، امریکا کی چین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی پالیسی کا، جسے’’ کن ٹینمنٹ‘‘ کہتے ہیں، بنیادی کردار ہے۔ اِسی لیے آسیان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ملٹی لیٹرل معاہدوں میں وہ امریکا کے بعد سب سے اہم مقام رکھتا ہے۔

جاپان کی معیشت اِن دنوں سُست رفتار ترقی، منہگائی، کم زور کرنسی اور کم اُجرتوں جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ جاپان کو بڑی عُمر کی آبادی کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ورک فورس کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ چوں کہ تاکائیچی نے معیشت کی بحالی کو اوّلین ترجیح قرار دیا ہے، اِسی لیے جاپانی عوام نے اُنہیں بھاری مینڈیٹ دیا تاکہ وہ کُھل کر اپنی پالیسیز نافذ کرسکیں۔ 

ہمارے عوام کی طرح نہیں کہ چاہتے تو ترقّی ہیں، اور ووٹ’’ کلٹ کی سیاست‘‘ کو دیتے ہیں۔ قوم کو اگر آج کے دور میں بھی اپنی سمت کا پتا نہ ہو، تو وہ بے عملی، غربت اور پس ماندگی کی دلدل میں پھنس جاتی ہے، جس کی ایک مثال ہم ہیں۔ ہمیں جاپانی قوم سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آج کا جاپان جس معاشی مقابلے کے ماحول میں ہے، وہ اس سے قطعاً مختلف ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اُسے ملا تھا۔

جنگ کے ختم ہونے کے بعد یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا بہت ہی تباہ حال اقتصادی حالات سے گزر رہے تھے۔ صرف امریکا اپنی دُوری کی وجہ سے اِس معاشی بدحالی سے محفوظ رہا۔ امریکا، جاپان کا قریبی اتحادی ہے، اِس لیے ’’جاپان رائز‘‘ میں اسے کوئی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پھر شکست کے بعد اُس کے عوام میں رونے پیٹنے یا شکست خوردگی کی نفسیات کی بجائے، ایک عزم تھا کہ مُلک و قوم کو بحال کریں گے اور اِس ہدف کے حصول کے لیے اُنہوں نے محنت کو اپنایا۔

ایسا صرف دو قوموں میں دیکھا گیا، ایک جاپانی اور دوسری جرمن۔ آج جنوب مشرقی ایشیا میں چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوّت بن چُکا ہے۔ خطّے کے دیگر ممالک جاپان، جنوبی کوریا، ویت نام، سنگاپور، فلپائن، تائیوان(چین کا حصّہ)، انڈونیشیا اور ملائیشیا سب ہی ٹیکنالوجی سے لیس ممالک میں شامل ہوچُکے ہیں، بلکہ اُنہوں نے اپنے خطّے کو اُس ترقّی سے روشناس کروایا، جس کی مثال موجود نہیں۔

گزشتہ سال جس خطّے نے سب سے مستحکم ترقّی کی، وہ یہی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ جاپان کی آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے اور شرحِ پیدائش مسلسل تنزلّی کا شکار ہے۔ یہ عدم توازن، سماجی تحفّظ اور معاشی قوّت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ علاوہ ازیں، جاپان ایک خطرناک علاقائی ماحول میں موجود ہے۔چین کی بڑھتی فوجی قوّت، شمالی کوریا کا میزائل پروگرام اور عالمی اتحادیوں میں غیر یقینی صُورتِ حال نے خطّے میں سلامتی کے مسائل کو جاپانی سیاست کا مستقل حصّہ بنا دیا ہے۔

خاتون وزیرِ اعظم نے مُلکی مسائل سے نمٹنے کے لیے جارحانہ معاشی حکمتِ عملی کا وعدہ کیا ہے۔ ان کی حکومت نے ٹیکسز میں ریلیف، خاندانوں کی حمایت کرنے والی کمپنیز کے لیے مراعات اور بڑے پیمانے پر پیکیجز کی تجاویز دی ہیں۔ اُنہوں نے منہگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف تیز رفتار اقدامات کا بھی عندیہ دیا ہے، کیوں کہ عوام منہگائی سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔

اِس مقصد کے لیے مقامی صنعتیں مضبوط بنانے کے ساتھ، عالمی سطح پر اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی کا بھی عہد کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کا پیغام واضح ہے کہ معاشی بحالی جاپان کے لیے ناگزیر ہے۔ جاپان صرف ایک ایشیائی مُلک نہیں، بلکہ گاڑیوں اور روبوٹس سے لے کر مالیات اور سفارت کاری تک میں اس کے اثر و رسوخ کا دائرہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ چینی عروج کے دَور میں توازن قائم کرنے، علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے اصول بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

اِسی لیے جاپان کی سیاسی سمت میں کوئی بھی تبدیلی عالمی اثرات کی حامل ہوگی۔ سانائے تاکائیچی ایک قوم پرست لیڈر ہیں اور شنزو ایبے کی فوجی پالیسی کی وراث بھی، اِس لیے ان کی کام یابی کو دنیا بَھر میں جاپان کے جارحانہ اور طاقت وَر کردار کا اشارہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ داخلی طور پر ان کا قوم پرستانہ اور قدامت پسندانہ ایجنڈا معاشی اصلاحات میں تیزی لا سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ سامنے رکھا جائے کہ اُنہیں عوام نے ایوان میں تین چوتھائی اکثریت دی ہے۔

اِس طرح وہ جو بھی قانون منظور کروانا چاہیں، بلا کسی روک ٹوک کروا سکتی ہیں۔ دوسری طرف، یہ عوامی سوچ کی بھی عکّاسی ہے کہ وہ بھی اُن کے مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ جاپان اپنی امن پسند پالیسی کے مقابلے میں زیادہ فعال اور جارحانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایک طرح سے وہ عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کی شناخت کو خیرباد کہہ رہا ہے۔ دوست ممالک کے لیے ایک مضبوط اتحادی، جب کہ مخالفین کے لیے جارحانہ مخالف۔

صدر ٹرمپ نے سانائے تاکائیچی کے انتخاب پر پُرجوش مبارک باد دی ہے۔ وہ الیکشن سے پہلے ہی اُنہیں اپنا پسندیدہ اُمیدوار قرار دے چُکے تھے۔ یہ حمایت ٹرمپ اور تاکائیچی کی نظریاتی ہم آہنگی کی مثال بھی ہے۔ یعنی قوم پرستی، مضبوط دفاع اور چین سے متعلق سخت مؤقف۔ اس کے علاوہ یہ اسٹریٹیجک مفادات کی بھی نشان دہی کرتی ہے، کیوں کہ جاپان، جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی پالیسی اور اثر و رسوخ کا مرکزی ستون ہے۔

سانائے تاکائیچی کی قیادت اس کے تسلسل کی ضمانت دیتی ہے۔ ٹرمپ کی تاکائیچی کی حمایت جاپان کی اندرونی سیاست سے زیادہ بین الاقوامی سیاست سے تعلق رکھتی ہے، جس میں صدر ٹرمپ بڑی تیزی سے فیصلے کر رہے ہیں۔ 2026 ء کے شروع میں سنائے تاکائیچی کا جاپانی وزیرِ اعظم بننا اور وہ بھی اِتنی طاقت سے، جاپانی علاقے اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک نیا موڑ لاسکتا ہے۔ ان کی قیادت اس آزمائش سے بھی گزرے گی کہ کیا جاپان ماضی کی کچھ روایات چھوڑ کر ایک نئی عالمی حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے یا نہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید