• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا ایک قومی المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہم تاریخ بھی اپنے مطلب کی لکھنا چاہتے ہیں اور لکھ بھی رہے ہیں اور یوں اپنی کئی نسلوں کو گمراہ کرنے کا کام ہم نے بہت احسن طریقہ سے انجام دیا۔ شائد اسی لئے وہ سیاستدان، دانشور، صحافی، شاعر، فنکار، پروفیسر ریاست کی نظر میں ’غدار‘ کہلائے، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں یہاں تک ’شاہی قلعہ، کے عقوبت خانہ میں ریاستی تشدد سے ہلاک ہوئے جو سچ اور حق کی راہ پر چلے۔ مگر تاریخ کا یہ پہلو ہماری تاریخ سے’غائب‘ یا ’لاپتہ‘ کردیا گیاہے۔

تصور کریں جس ملک میں فیض، جوش، جالب ، سبطِ حسن جیسے لوگ’غدار‘ ٹھرائے جائیں وہاں محبِ وطن کون ہوگا۔ تحریکِ آزادی میں ترقی پسند دانشوروں ، شاعروں اور صحافیوں نے اپنےجو کردار سے گہرے اثرات نہ صرف اس وقت بلکہ آنے والی نسلوں پربھی چھوڑے۔ فیض احمد ہماری تاریخ کا ایسا ہی اک کردار ہیں۔ وہ صرف بڑے شاعر ہی نہیں بڑے صحافی بھی تھے اور اُن صحافیوں میں جن کو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب وہ انگریزی کے اخبار’پاکستان ٹائمز‘ اور اردو کے اخبار، امروز، کے مدیر تھے 1948 میں ایک خبر کی اشاعت پر پاکستان سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ دوسرے روزجب نامور وکیل محمود علی قصوری صاحب عدالت میں ان کی ضمانت کیلئے پہنچے تو فیض صاحب نے ضمانت لینے سے ’انکار کردیا اور یہ انکار ہی اس جدوجہد کی بنیاد بنا جسکے بعد فیض صاحب سمیت کئی دیگر افراد جن میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سجاد ظہیر بھی شامل تھےکو’راولپنڈی سازش کیس، میں گرفتار کرلیا گیا، غالباً 1951 میں ۔فیض صاحب اس وقت بھی مدیر تھے۔ لہٰذا جب صحافیوں کی سب سے موثر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا قیام عمل میں آیا 2؍اگست،1950ء میں تو اس کے سرکردہ رہنماؤں نے یہی فیصلہ کیا کہ آزادی صحافت کے جرم میں گرفتاری پر کوئی ضمانت نہیں کروائے گا۔

فیض صاحب کو ہم کئی لحاظ سے PFUJکے بنیادی اراکین میں شمار کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نےنہ صرف آزای اظہار کیلئےقربانی دی بلکہ صحافیوں کے حالاتِ کار کے حوالے سے بھی ان کا کردار نمایا ں نظر آتا ہے ۔فیض صاحب ،مظہر علی خان ،احمد علی خان اور ان جیسے دیگر روشن خیال لوگوں نے پاکستان ٹائمز سمیت پی پی ایل کے دیگر اخبارات اور رسائل میں صحافیوں کے حالاتِ کار پر عمل کروایا جن میں ایک اہم بات یہ بھی تھے کہ اگر صحافی یا مدیر اپنی یونین کی سرگرمیوں کیلئے دیگر شہروں میں جائیں گے تو اخراجات اخبار کی انتظامیہ ادا کرے گی اور پی پی ایل کے مالک میاں افتخار الدین نے یہ مطالبات تسلیم بھی کیے۔فیض صاحب نے بحیثیت مدیر انگریزی اور اردو دونوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور وہ بھی ایسے وقت جب قیام پاکستان کے فوراً بعد انگریزی زبان کا پہلا پیپر نئے ملک میں لایاگیا جبکہ ڈان، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ہیڈ کوارٹرز دہلی میںتھے۔ فیض صاحب کی بحیثیت مدیر اور صحافی تحریروں کا اگر جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ جہاں جشنِ آزادی کے حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں وہاں ساتھ ہی وہ اس دکھ کا بھی اظہار کرتے ہیں، جس طرح نہ جانے کتنے لوگ اس تحریک میں مارے گئے کیونکہ بنیادی طور پر وہ امن و محبت کے داعی تھے۔ انہوں نے تو انقلاب اور انقلابی تحریکوں کو بھی رومانس کے انداز میں پیش کیا۔ فیض صاحب سمیت جتنے بھی بڑے نام ہمیں بحیثیت صحافی یا مدیر نظر آتے ہیں چاہے وہ چراغ حسن حسرت ہوں، سبطِ حسن ہوں، مظہر علی خان یا احمد علی خان، شورش کاشمیری ، الطاف حسین ، پوٹھن جوزف (جوقیام پاکستان سے پہلے ڈان کے مدیر تھے) ، شوکت صدیقی ہوں، وہ سب کے سب نظریاتی لوگ تھے مگر ’خبروں‘ اور صحافتی ذمہ داریوں کے معاملے میں مکمل پروفیشنل ،یہی وجہ ہے کہ گرفتاری یا سزائیں انہیں اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹا سکی۔ آج اگر صحافتی تاریخ موجود ہے تو انہی جیسے کئی کرداروں کی وجہ سے۔

ایک بار ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین پر وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت نے یہ دباؤ ڈالا کے اخبار سے کمیونسٹوں یا بائیں بازو کے نظریات رکھنے والےصحافیوں، جن کی تعداد خاصی زیادہ تھی، کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے۔ تاہم الطاف حسین جو خود بھی اینٹی کمیونسٹ تھے سرکار سے کہا۔ ’’مجھے پتا ہے کمیونسٹوں کی تعداد زیادہ ہے، مگر یہ سب اپنے صحافتی کام میں پکے اور ایماندار ہیں لہٰذا معذرت۔‘‘ شائد یہی وجہ تھی جسکے بعد ریاست نے وہی حربہ اختیار کیا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے چاہے بات پرنٹ سے الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا تک پھیل گئی ہو۔ اب کافی عرصہ سے ایسی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ پرنٹ ختم ہورہاہے۔ الیکٹرونک میڈیا ختم ہورہا ہے۔ اور اب بس Gen-Z کا دور ہے مگر پابندی کے حربے تو وہی ہیں ’زبان‘ پر ۔چاہے وہ کسی بھی میڈیم میں بولی یا لکھی جائے قبول نہیں۔ اگر پرنٹ ختم ہوگیا ہے الیکٹرونک زوال پذیر ہے تو پھر پابندیاں کیوں اور اب باری ہے ڈیجیٹل کی۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون سا میڈیم اہم ہے اور کس کا زمانہ ہے مسئلہ یہ ہے کہ ’سوچ پر پہرے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ فیض کل بھی مزاحمت کی آواز تھا اور آج بھی ہے اور یہی نئی نسل آج فیض، جالب اور جون کے رومانس میں نظر آتی ہے۔ اُنہیں آج کی مزاحمت میں بھی وہ پرانے کردار نظر آتے ہیں جو مثال بنے ،جدوجہد کی چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی۔

فیض صاحب نے ایک بھرپور زندگی گزاری جس میں رومانس بھی ہے اور انقلاب بھی۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی دیکھیں اور جلاوطنی میں بھی بیروت جیسے شہر کا انتخاب کیا جہاں بائیں بازو کے نظریاتی رسالے میں بحیثیت مدیر کام کیا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں آنے والے وقت میں بائیں بازو کو یا تو ریاستی جبر سے کچل دیا گیا یا تقسیم کردیا گیا مگر فیض کی نہ شاعری میں نہ ہی صحافت میں کہیں مایوسی نظر آتی بلکہ وہ آخر وقت تک یہی کہتے رہے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔

ایک نجی محفل میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ’’جس کو اتنی خوشی مل جائے اگر وہ مر بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ آج فیض کی پیدائش کو سوسال سے زیادہ اور انتقال کو کئی برس بیت گئے۔ مگر فیض آج بھی ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔‘‘

تازہ ترین