زعیم قادری کی رسم سوئم پر ہاتھ دعا کیلئے بلند تھے اور انکی بخشش کیلئے خاتون جنت سلام الله علیہا اور انکے شہزادگان حسنین کریمین رضوان اللہ علیھم اجمعین کا صدقہ طلب کیا جا رہا تھا ۔میری تر آنکھوں میں زعیم قادری مرحوم کی زندگی کے لمحات جھلملا رہےتھے۔ ان سے جب کبھی ملاقات ہوتی تو ایک بات ضرور دہراتے کہ ہم دونوں سید ہیں اور سیدوں پرسدا مشکلات ہی رہتی ہیں ۔زعیم قادری مشکلات سے گھبرانے یا ڈر جانے والے نہیں تھے۔ رسم سوئم کے بعد گھر واپس پہنچا تو بس ان کے حوالے سے خیالات کا ہی تانا بانا بنتا رہا ۔ کچھ کاغذات کو دیکھنے لگا تو اچانک سامنے 20 مئی 2006ءکے چند اخباری تراشے آگئے ۔ مشرف کی آمریت کا دورتھا اور ایسے میں عوام میں مکمل طور پر مقبولیت کے باوجود گنے چنے ہی مسلم لیگ ن کے لیڈران کرام تھے جو میدان میں بھی اترے ہوئے تھے، لاہور میں تو بس انگلیوں پر ہی گنے جا سکتے تھے جو مشرف کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ، ان میں خواجہ سعد رفیق پیش پیش تھے اور جب آپ ان حالات میں پیش پیش ہوں تو پھر پیشیاں بھی آپ کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہیں لہٰذا خواجہ سعد رفیق کو اس وقت " سرکاری مہمان " بنایا ہوا تھا ۔ میرے پاس مسلم لیگ ن کی خارجہ امور کی مرکزی سطح پر ذمہ داری تھی اور دنیا بھر کی مہذب سیاست کی مانند عالمی برادری کو باخبر رکھنا میرے سپرد تھا ۔ عمومی طورپر نواز شریف صاحب ميسيج پر رہنمائی ، ہدایات جاری کیا کرتے تھے مگر اس بار انہوں نےٹیلی فون کال پر مجھے ہدایات جاری فرمائیں۔ فیصلہ ہوا کہ اس صورتحال پر سفارتی حلقوں کو مسلم لیگ ن کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے ۔ لاہور میں میں نے ایک گفتگو کا اہتمام کیا اور اس گفتگو میں امریکہ کے لاہور میں قونصلیٹ کے سربراہ برائن ہیٹ اور امریکی سفارتخانے اسلام آباد سے برائن ہنٹ کو مدعو کیا ، برائن ہنٹ بعد میں لاہور قونصلیٹ کے سربراہ بن گئے تھے ۔ اس گفتگو میں سرتاج عزیز ، رانا ثنااللہ ، ذوالفقار کھوسہ ، خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ غزالہ سعد رفیق ، سیدزعیم قادری اور رانا فاروق شامل تھے ۔ جیل سے خواجہ سعد رفیق سے ہمارا رابطہ رانا فاروق کی بدولت ہی قائم تھا۔ غزالہ سعد رفیق اپنے رفیق حیات کے حوالے سے بہت جذباتی گفتگو کر رہی تھی جو ایک مشرقی خاتون کو زیب بھی دیتا ہے مگرزعیم قادری کی گفتگو میں اس حد تک کاٹ تھی کہ مجھ سے سفارت کاروں نے کہا کہ یہ جس حد تک شعلہ بیانی کر رہے ہیں انکو بھی برداشت نہیں کیا جائیگا اور جلد ہی کسی پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں ،میں نے کہا کہ یہ مشرف دور میں اندر باہر ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ان کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اگر وہاں انکو خواجہ سعد رفیق کی ہم نشینی مل جائے۔
مشرف دور میں وہ اپنی گرفتاری اورخودپر ہونیوالے تشدد کو بہت فخریہ یاد کیا کرتے اور لاہور میں اس وقت متحرک افراد کو انگلیوں پر گن کر کہا کرتے کہ بس یہی لوگ تھے جو میدان کے مرد تھے ۔ نواز شریف اور انکے خاندان سے دلی لگاؤ رکھتے تھے ۔ جب ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کچھ ایسے فقرے ادا کئے جو نہیں ادا کرنے چاہئیں تھے تو چند دنوں بعد میری ان سےملاقات ہو گئی ، میں نے ان سے ان فقروں پر بات کی کہ یہ ادا نہیں ہونے چاہئیں تھے ، مجھے فوری طور پر احساس ہوا کہ انکو بھی اس کا احساس ہے کہ کچھ گفتگو ایسی ہوگئی جو نہیں ہونی چاہئے تھی مگر کہنے لگے کہ گلہ، شکوے، شکایات تو پھر اپنوں سے ہی کئے جاتے ہیں اور مہدی بھائی سب آپ کی طرح نہیں ہوتے کہ حرف شکایت زبان پر نہ لائیں ۔ میں نے کہا کہ آپ سے بات ہوتی تھی کہ چار ستون ہیں جن سے ہماری کمٹمنٹ ہیں ، پاکستان ، آئین ، جمہوریت اور نواز شریف کی قیادت ۔ ان میں سے ایک بھی بیچ میں سے نکل جائےتو بہتر ہے کہ اس سے پہلے سیاست سے نکل جائیں کہنے لگے کہ بات تو آپ کی درست ہے ۔ جب عمران خان نے سعد رفیق کو گرفتار کرلیا تو ایک دن ان سے ملاقات کی غرض سے میں پہنچا تو عطاء تارڑ ، ذکیہ شاہ نواز اور سیدزعیم قادری پہلے سے موجود تھے ۔ سعد رفیق سے ہونیوالی اس ملاقات کے دوران مجھ پر یہ تاثر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوا تھا کہ خواجہ صاحب ،زعیم قادری کیلئے مسلم لیگ ن میں واپسی کے دروازے کھولنےکیلئے کو شاں ہیں مگر میرے علم میں نہیں ہے کہ پھر بعد میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا اور سیدزعیم قادری ایک اور سیاسی جماعت میں کیوں شامل ہوگئے ؟
ان سے آخری ملاقات لاہورجمخانہ میں ایک مشترکہ دوست کے ظہرانے پر ہوئی اور اس ملاقات میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی کہ وہ نواز شریف کو ہی اپنا لیڈر سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ قوم کی نیّا نواز شریف کی ہی قیادت میں پار لگ سکتی ہے ۔ ان کو نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بہت تشویش تھی دلی لگاؤ صاف جھلک رہا تھا ۔ ان سے بہت زیادہ ملاقات نہیں رہا کرتی تھی مگر جب بھی ملاقات ہوتی تو یادگاررہتی ۔ میرا قلم تو اسی طرح سے چلتا چلا جائیگاکیوں کہ یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو ذہن پر ایک تھیٹر کی مانند منظر در منظر سامنے آ رہا ہے بس آخر میں یہ ہی دعا ہے کہ خدا ان کی اگلی منزلوں کو آسان فرمائے کہ ایک سچا سیاسی كکارکن دنیا سے چلا گیا ، جسکی سیاسی وراثت میں جدو جہد ہی جدوجہد ہے۔