• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے خانہ کعبہ محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ عقیدے، وحدت اور روحانی مرکزیت کی علامت ہے۔ اسی طرح خانہ کعبہ کو ڈھانپنے والے غلاف کعبہ جسے ’’کسوہ‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی تہذیب میں غیر معمولی تقدس رکھتا ہے اور ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس مقدس غلاف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اُس کے گھر کی زینت بنے۔ ایسے میں اگر اس مقدس تبرک کا نام عالمی سطح پر کسی بدنام شخصیت کے ساتھ منسلک ہوجائے تو مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونا ایک فطری عمل ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان اُس وقت شدید صدمے سے دوچار ہوئے جب جنسی جرائم میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپس ٹین کو بھیجی جانے والی ای میلز میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ غلاف کعبہ کے تین ٹکڑے مبینہ طور پر جیفری ایپس ٹین کو تحفتاً بھیجے گئے جسے اُس نے اپنے بدنام زمانہ آئی لینڈ میں واقع گھر میں قالین کے طور پر استعمال کیا۔ ایپس ٹین کے اس مکروہ عمل سے نہ صرف غلاف کعبہ کی بے حرمتی ہوئی بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات بھی مجروح ہوئے۔ دستاویزات کی ایک تصویر میں نظر آنے والا غلاف کعبہ کا ایک ٹکڑا کعبہ کے دروازے کو ڈھاپنے والے کسوہ کا سب سے زیادہ آرائشی حصہ ہے جو ایپس ٹین کے گھر کے فرش پر پڑا نظر آرہا ہے۔ یہ وہی گھر ہے جسکے بارے میں نابالغ لڑکیوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں یہاں اسمگل کرکے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

جیفری ایپس ٹین کو غلاف کعبہ کے ٹکڑے بھیجنے والی بدبخت خاتون عزیزہ الاحمدی کا نام ایپس ٹین فائلز میں 469 مرتبہ آیا ہے جو اقوام متحدہ میں یو اے ای کی سفارتکار اور عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی ہے۔ فروری اور مارچ 2017 کے درمیان بھیجی جانے والی ای میلز میں عزیزہ الاحمدی، جیفری ایپس ٹین کو غلاف کعبہ کے تین ٹکڑے بھجوانے کی اطلاع دے رہی ہے اور یہ بتارہی ہے کہ خانہ کعبہ مسلمانوں کیلئے انتہائی مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے، وہ خانہ کعبہ کے سات چکر لگاتے ہیں اور اس دوران کروڑوں مسلمان غلاف کعبہ کو اس امید کے ساتھ چھوتے ہیں کہ اُن کی دعائیں، خواہشات اور اُمیدیں پوری ہوں گی۔ انہی ای میلز میں شامل ایک ای میل میں عزیزہ الاحمدی، جیفری ایپس ٹین سے کہتی ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بہن بلا العویس کو آپ سے ملوانا چاہتی ہے۔

ان دستاویزات میں شامل ایک تصویر میں ان دونوں بہنوں کو جیفری ایپس ٹین کے نجی طیارے میں یو ایس ورجن آئی لینڈ جاتے دکھایا گیا ہے۔ ایپس ٹین فائلز میں یو اے ای سے تعلق رکھنے والے عالمی بندرگاہوں کو آپریٹ کرنے والی کمپنی DP ورلڈ کے چیئرمین اور CEO سلطان احمد بن سلیم کا نام 336 مرتبہ آیا ہے۔ DP ورلڈ کمپنی پاکستان میں بھی کراچی پورٹ کے کنٹینرز ٹرمینلز آپریٹ کررہی ہے۔ سلطان احمد بن سلیم کے جیفری ایپس ٹین کے ساتھ روابط اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ روابط محض ای میلز تک محدود نہیں تھے بلکہ کئی ملاقاتوں پر محیط تھے تاہم عوامی ردعمل کے نتیجے میں سلطان احمد بن سلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ جیفری ایپس ٹین اور ان افراد کے درمیان یہ کوئی سرسری یا رسمی رابطہ نہیں تھا بلکہ ایک مسلسل، منظم قریبی خط و کتابت اور ملاقاتوں کا سلسلہ تھا جو طویل عرصے تک جاری رہا۔ یہ وہ دور تھا جب جیفری ایپس ٹین کو نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں سزا یافتہ قرار دیا جاچکا تھا۔

ہر سال نئے اسلامی سال محرم الحرام کے آغازپر غلاف کعبہ ’’کسوہ‘‘تبدیل کیا جاتا ہے اور پرانےغلاف کے ٹکڑے معزز مسلمان شخصیات کو بطور تبرک پیش کئے جاتےہیں جس کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا جاتا۔ کچھ سال قبل جب مجھے اور میرے بھائی اختیار بیگ کو سعودی حکومت کی طرف سے غسل کعبہ کی تقریب میں مدعو کیا گیا اور مجھے خانہ کعبہ کے اندر 45 منٹ گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی تو اِسی طرح کسوہ کا ایک ٹکڑا مجھے تحفتاً پیش کیا گیا تھا جو آج بھی میرے گھر کی زینت ہے۔

سعودی حکام نے مجھے بتایا تھا کہ ’’غلاف کعبہ کے ٹکڑے صرف مسلمانوں کو دیئے جاتے ہیں اور اسے غیر مسلموں کو تحفے میں دینے کی قطعاً اجازت نہیں۔‘‘ غلاف کعبہ کا ٹکڑا مسلمانوں کیلئے انتہائی متبرک حیثیت رکھتا ہے جسکی بے حرمتی کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ کچھ مسلمانوں نے غلاف کعبہ کی حرمت کا خیال تک نہیں کیا اور ایک ایسے بدنام زمانہ غیر مسلم جنسی مجرم کو غلاف کعبہ تحفے میں دیا جسے اس کی حرمت کا اندازہ نہیں کہ غلاف کعبہ اور قالین میں کیا فرق ہے۔ اس طرح اُسے غلاف کعبہ بطور تحفہ بھیجنے والا نہ صرف گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ اُس بدبخت کیلئے بھی دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا ہوئے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ یو اے ای حکومت، جنسی مجرم جیفری ایپس ٹین سے روابط رکھنے اور غلاف کعبہ کی بے حرمتی کے الزامات کی باضابطہ تحقیقات کرے اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث ملزمان کو سخت سزائیں دے تاکہ آئندہ کوئی مسلمان اس طرح کے جرم کا مرتکب نہ ہوسکے۔

تازہ ترین