’’مرزا صاحب! میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنادیا ہے۔ ہزار کوس سے بزبان قلم باتیں کیا کرو، ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو‘‘ یہ الفاظ اس خط کا حصہ ہیں جو مرزا اسد اللہ خان غالب نے آج سے پونے دوسو سال پہلے اپنے دوست مرزا حاتم علی مہرکو بھیجا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ ہندوستان پر مغل بادشاہ کاعملی اقتدار لال قلعہ تک محدود ہوکر ہچکیاں لے رہا تھا اور گلی کوچوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی عمل داری کا اعلان نقیبوں کے نقارہ بجاکر ’’کمپنی بہادر‘‘ کے نئے احکامات اور قوانین کی تشہیر کی صورت میں آرہاتھا۔ اس دور کی ہر کہانی اور ہر واقعہ استعماریت کے ہتھکنڈوں اور ملک کے مجبور باشندوں کی کیفیت کا عکس ہے۔
مرزا غالب کے مکالمہ نما خطوط کے جو نسخے برعظیم جنوبی ایشیا کی آزادی کے بعد سامنے آئے وہ واضح کررہے ہیں کہ غالب نے جہاں اردو زبان کو ایک خاص اسلوب دیا وہاں اس دور کی تاریخ محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ بھی بنایا ۔یہ بات پیش نظر رکھنی ضروری ہے کہ مغلیہ بادشاہت کے دور کے طور طریق اور بعد ازاں انگریزی تسلط کے زیر اثر دفتری ودیگر امور میں عرائض نویسی کے لئے بھاری بھرکم القابات وخطابات کے ساتھ گزارشات پیش کرنے کاانداز خوشامدی حدود سے بڑھ کر غلامانہ کیفیت میں ڈھل رہاتھا ۔غالب کا تحریری تکلم دل کو چھونے والا تو تھا ہی ،اس سے فرد کی اپنی ذات کی انفرادیت و آزادی کا کچھ نہ کچھ احساس بھی اجاگر ہوتا تھا۔ مغل بادشاہوں، منصب داروں، ریاستی حکام کی مطلق العنانی اور بعد ازاں ’’کمپنی بہادر ‘‘کے مقرر کردہ اہلکاروں کے القاب وآداب کا بوجھ بعد کے دور میں اکبر الہ آبادی کی سطح کے لوگ یقیناً محسوس کرتے تھے۔ اس لئے جب اکبر الہ آبادی نے مولانا شبلی نعمانی کو اپنے گھرپر کھانے کے لئے مدعو کرتے ہوئے خط لکھا تو اسکا آغاز اس شعر سے ہوا: ’’ہم کو آتا نہیں قبلہ قبلی.... بس صاف یہ ہے کہ بھیا شبلی‘‘مذکورہ منظوم دعوت نامےمیں اکبر الہ آبادی نے ’’ دال دلیہ‘‘ جیسے سادہ الفاظ استعمال کئے تھے مگر پہلے شعر سےخطوط نویسی کے اس رجحان سے بیزاری کا اندازہ ہوتا ہے جو عمومی طور پر جاری تھا۔ قیام پاکستان کے بعد تک بہت سے لوگ القاب وآداب کے ساتھ خطوط شروع کرنے کے جس طریق کار پر قائم نظر آتے تھے، وہ عرائض نویسی کے اس انداز کا عکس کہاجاسکتا ہے جسکے تحت اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے لیکر کسی بھی سرکاری افسر کے سامنے عرضی گزارنے کا طریق کار طے تھا۔
تمام منشیوں کے پاس عرائض نویسی کی کتابیں ہوتی تھیں جن میں اپنی غرض بیان کرنے کیلئے ایک خاص طریقہ متعین تھا۔ اس طریقے سے ہٹ کر لکھی گئی درخواست ’’ چپڑاسی کی سطح پر ہی‘‘ مسترد ہوجاتی تھی ۔ یہ انداز بیان سرکاری تقریبات میں پیش کئے گئے سپاس ناموں میں بھی نظر آتا تھا۔
ان کی مثالوں سے قطع نظر ،جب ہم غالب کے اپنے متعارف کردہ طریق مکتوب نویسی کی طرف آتے ہیں تو1857ءکی جنگ آزادی( جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیا تھا) سے چند برس پہلے کا ایک خط سامنے آتا ہے۔ ان دنوں دلی میں ہیضے کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ میر مہدی مجروح نے ایک مکتوب میں وبا کا حال پوچھا توغالب نے لکھا’’ وبا کہاں تھی جو میں لکھوں کہ اب کم ہے یا زیادہ۔ ایک چھیاسی برس کا مرد(غالب) اور ایک چونسٹھ برس کی عورت۔ ان دونوں میں سے ایک بھی مرتا تو ہم جانتے کہ وباتھی، تف بریں وبا‘‘ غالب نے الجھنوں اور مشکلات کی تلخیوں کو مزاح اور بذلہ سنجی کی شکر میں لپیٹ کر قابل برداشت بنایا مگر کئی واقعات بتا رہے ہیں کہ وہ اپنی آن کے حوالے سے کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے۔ مرزا ایک شاعر تھے۔انہوں نے اردو اور فارسی دونوں میں طبع آزمائی کی مگر اردو شاعری میں غیر معمولی شہرت کی وجہ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس دور کے مروجہ رخ سے ہٹ کرانداز شعر وسخن اپنایا۔ تاہم غالب کی شہرت دنیا بھر میں پھیلنے کے حوالے سے بر عظیم کے ایک بڑے مصور عبدالرحمٰن چغتائی کی سرگزشت کا وہ حصہ بھی اہمیت کا حامل ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ غالب کی شاعری اور چغتائی کی مصوری کی ہم آہنگی اردو کی ایک کتاب کو دنیا بھر کے عجائب گھروں اور کتب خانوں کی زینت بنانے اور بین الاقوامی پریس میں اس کے چرچے کا سبب بنی ۔ چغتائی کی مصوری کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اس دور کے ’’ ترک دنیا‘‘ کے فلسفے سے ہٹ کراقبال کے جدوجہد سے عبارت مرد مسلمان کو مثالیہ بناتے ہیں ۔چغتائی آرٹ ’’غالبیت‘‘ اور ’’اقبالیت‘‘ کی یکجائی کا استعارہ بنا۔
غالب اور اقبال عالمی سطح کے دوایسےبڑے نام ہیں جن کی گونج تا دیر قائم رہے گی مبصرین ان بلندقامت شعراء کے بارے میں کیا لکھتے ہیں؟ ان کی اہمیت مسلم ۔ مگر انور شعور کی ایک گفتگو کا یہ جملہ میرے ذہن پر نقش ہوگیا :’’ غالب ہم سے گفتگو کرتے ہیں،اقبال خطاب کرتے ہیں،دونوں عظیم ہیں، ان میں درجہ بندی نہیں ہوسکتی‘‘۔ احمد فراز تو یہ کہا کرتے تھے ،کہ دنیا کا کوئی بھی احساس یا خیال لے آئیے، میں اس کے بارے میں غالب کا شعر نکال لوں گا‘‘۔ گویا گردش حالات کے باعث گمشدہ کلام غالب میں سےجو تھوڑا سا حصہ اس وقت موجود ہے وہ بھی فلسفہ ، فکر ، احساس، خیال آفرینی، روایت اور رنگوں کاایسا مرقع ہے جس میں سب کچھ مل جاتا ہے۔ اس موجود سرمائے کی قدر کی جانی چاہئے۔ ہر لمحہ بدلتے وقت میں جوقومیں اپنے فکری وفرہنگی اثاثے کی حفاظت کرتی، بالیدگی کی کیفیت برقرار رکھتی ،آگے بڑھنے کی امنگ سے سرشار رہتی اور ہر میدان میں کامیاب قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے مستعدو مصروف نظر آتی ہیں وہی آگے بڑھتی ہیں۔