• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کا راستہ امید کے چراغ کی لو سے روشن ہے، یہ چراغ بجھ جائے تو راستہ گم ہو جاتا ہے، منزل گم ہو جاتی ہے، بے سمتی کے غبار میں کیا سفر، کیا قیام۔ مسافر امید کا ہاتھ تھام کر چلتا ہے، اُس کے پاؤں لہو میں لتھڑے ہوئے ہوں پھر بھی چلتا ہے، بلکہ دوڑتا ہے، مسکراتا ہوا، گنگناتا ہوا۔ کارواں کی بےدلی پاؤں کی زنجیر ہوا کرتی ہے، ہر قدم بوجھل، ہر قدم پہاڑ۔ مسافر پنجوں کے بل اُچک اُچک کر چار سُو دیکھتے ہیں، کہیں کوئی روشن دیا، کہیں کوئی ٹمٹماتی ہوئی امید کی کرن، کوئی راستے کی جھلک، کہیں منزل کا سراغ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت میں پچھلے ہفتے ہم فیض فیسٹیول جا پہنچے۔الحمرا کی مرکزی عمارت پر فیض صاحب کی تصویر سے سجا ہوا لہو رنگ پرچم لہلہا رہا تھا، ساتھ لکھا تھا "میرے درد کو جو زباں ملے۔" بچپن میں مری جاتے تھے تو چھرہ پانی کے مقام سے گزرتے ہی ہم بازو گاڑی سے باہر نکال دیتے، اور کچھ ہی دیر میں خنک ہوا کا احساس ہونے لگتا، میدانی علاقوں کا تنور بجھ جاتا، بدن مسکرانے لگتا تھا۔ بس کچھ ایسا ہی احساس تقریب گاہ میں داخل ہونے پرہوا، ہم چند قدم چل کر ایک ایسے جزیرے پر آ گئے تھے جہاں موسم کے رنگ ہی نرالے تھے۔ ڈرم سرکل کے ساز کی لے تیز تھی، نوجوانوں کی آنکھوں میں دیے جلتے تھے، کالج کی لڑکیوں کا ایک گروہ گا رہا تھا، "اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے۔" ساتھ دیوار پر لکھا تھا "متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے، کہ خونِ دِل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے، لبوں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے، ہر ایک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے۔" ایک صاحب نے گُلو بند پہن رکھا تھا جس پر لکھا تھا "بہار آئی تو جیسے یک بار، لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے، وہ خواب سارے شباب سارے، جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے، جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے..." ایک فضا تھی، ہر کوئی اس میں سانس لے رہا تھا، جیسے مے خانے میں رند دنیا کی تلخیوں سے بے نیاز مسکراتے ہیں، امید کے جام لنڈھاتے ہیں، خوابوں کے چراغ جلاتے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ ہو رہا تھا۔

سامنے سے فیض صاحب کی بیٹیاں آ رہی تھیں، میں نے انتہائی بارونق فیسٹیول کی مبارک باد دینے کے بعد پوچھا، آپ کو اس ہنگامے میں "ابا" یاد آتے ہیں، دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور اداس آنکھوں سے آگے بڑھ گئیں۔ پہلا سیشن جس میں ہم حاضر ہوئے اُس کا عنوان تھا "حلقہء زنجیر میں زباں"۔ فرحت اللہ بابر کہہ رہے تھے یہاں بیانیے پر قبضہ ہو گیا ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں غیر جمہوری ریاستوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی ایسی ریاستوں میں ہر ایک حلقہء زنجیر پر قفل لگایا جاتا ہے تاکہ زنجیر کی جھنکار کو مکمل طور پر بے صدا کر دیا جائے۔ خواجہ سعد رفیق کہہ رہے تھے کہ جب جب موقع ملا تینوں بڑی جماعتوں نے طاقت وروں سے مل کر اپنے سیاسی مخالفین کو رگیدا، اس پر کسی جماعت نے کبھی عوام سے معافی نہیں مانگی، آج بھی سب جماعتیں یہی کھیل کھیل رہی ہیں۔ اور علی ظفر فرما رہے تھے کہ عمران کی آنکھ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے (myopia کو اردو میں جانے کیا کہتے ہیں)۔ مذاکرہ میں دو اصحاب سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیتے رہے، جب کہ علی ظفر صاحب مصر رہے کہ جو ظلم اس دفعہ ہو رہا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ مذاکرے میں بلوچستان سے فوزیہ شاہین بھی شامل تھیں، وہ بہت سمجھ دار خاتون ہیں، انہوں نے بہ زبانِ انگریزی گفتگو کی اور اپنے گھر چلی گئیں، اور اگر انہوں نے انگریزی زبان استعمال کرنا موزوں سمجھا تو ہمارے لیے بھی یہاں ان کی باتوں کا اردو ترجمہ کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ یہ سبق ہم نے محمد حنیف سے سیکھا جو ایک سیشن میں بتا رہے تھے کہ ان کا انگریزی ناول "اے کیس آف ایکس پلوڈنگ مینگوز" پاکستان میں چھپا، دس سال تک سہولت سے بکتا رہا، پھر اُس کا اردو ترجمہ بازار میں آیا اور ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا، ناول کی تمام کاپیاں ضبط کر لی گئیں، اور ناشر کی کم بختی آ گئی۔ یہ ہیں عام فہم قومی زبان کی "برکتیں"۔

ایک سیشن کیلئے ہال میں داخل ہوئے تو سلیمہ ہاشمی فیض صاحب کی پنڈی سازش کیس میں جیل کا قصہ سنا رہے تھیں، پھر وہ ضیاالحق کے مارشل لا میں فیض صاحب کی جلا وطنی کا تذکرہ کرنے لگیں۔ افتخار عارف صاحب فیض صاحب کی نظم سنانے لگے"یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر، وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں...ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی، نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی، چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی"...فیض صاحب کے شعر ناقابلِ یقین حد تک تازہ لگ رہے تھے۔ کسی ستم گر نے اُس کے بعد ہماری کتاب "دائرے کے مسافر" کا سیشن رکھ دیا تھا۔ ہماری تاریخ دائرے کا سفر ہی تو ہے، وہی زرد رُو عوام اور وہی ان کی بےاختیاری، وہی تنو مند اشرافیہ اور وہی ان کی بے لگام حرص و ہوس، "ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد، پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد۔"فیض صاحب سے ہم نے تو یہی سیکھا ہے کہ کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں، شامِ غم کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، جبر کا پہرہ کتنا ہی کڑا کیوں نہ ہو، ہم خواب دیکھنا نہیں چھوڑیں گے، یہ خواب ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہیں، ان خوابوں کی لو ہمیں راستہ دکھاتی ہے، فرماتے ہیں "حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو...کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے۔"

تازہ ترین