ـــ ایک اندازےکے مطابق اس وقت چین، بھارت، بنگلہ دیش پاکستان اور سری لنکا کی مجموعی آبادی باقی دنیا کی مجموعی آبادی کے لگ بھگ ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان میں تبدیلی کے باعث بھارت آبادی کے حوالے سے چین پر سبقت لے جائے گا رپورٹ کے مطابق بھارت کی موجو دہ آبادی،ایک ارب 25 کروڑ ہے ،جو 2050 تک بڑھ کر ایک ارب 50 کروڑ 32 لاکھ ہو جائیگی جبکہ چین کی موجودہ آبادی ایک ارب 30 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب 30 کروڑ نو لاکھ ہو جائیگی جسکے نتیجے میں بھارت چین سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائیگا اور ادھر دنیا کی آبادی جولائی تک 9 ارب تک پہنچ جائیگی ماہرینِ ارضیات کے مطابق کرہ ارض قریباًساڑھے چار ارب سال قبل وجود میں آیا، اس پر حیات کے آ ثا ر دو ارب سال پہلے نمودار ہوئے اور زندگی کا باقاعدہ آغاز 22 کروڑ برس پہلے ہوا اس سلسلے میں مختلف محققین نے متضاد نظریات پیش کیے ہیں پیٹر کاکس کے مطابق کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ابتدا پانچ لاکھ سال قبل ہوئی لیکن تازہ ترین شواہد کے مطابق زمین پر انسانی زندگی تقریباً 40 لاکھ سال پہلے نمودار ہوئی ابتدائی دور میں آبادی بہت کم تھی اور کسی مستقل بستی کا کوئی وجود نہ تھا انسان کی سرگرمیاں محدود اور انتہائی پسماندہ تھیں خوراک کیلئےاس کا انحصار شکار اور قدرتی پیداوار پر تھا سطح زمین کا تقریباً دو کروڑ مربع میل زیر استعمال تھا ایک فرد کو اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے دو مربع میل علاقہ درکار تھا اگر اس چیز کو بنیاد بنایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت انسانی آبادی لاکھوں میں ہو گی ۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آبادی تقریبا 35 سال بعد دگنا ہوتی جا رہی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سن 3 ہزار تک سطح زمین پر قدم رکھنے کی جگہ بھی نہیں بچے گی جبکہ خشکی تری اور برفانی علاقے سمیت سطح زمین کے ہر مربع میٹر پر تقریباً دو ہزار افراد موجود ہوں گے ۔برطانوی ماہرِ آبادی تھامس رابرٹ کے مطابق جسکا ذکر اس نے اپنی کتاب "آبادی کے اصول" میں کیا ہے اگر کسی ملک کی آبادی ایک فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی تو اسے دو گناہ ہونے کیلئے 69 سال لگیں گےدو فیصد کی شرح سے سے 35 سال، تین فیصد سالانہ کی شرح سے 23 سال اور اگر آبادی چار فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی تو 17 سال بعد دگنا ہو جائیگی اس فارمولے کی رو سے برطانیہ کی آبادی 460 سال کے بعد چین کی 57 سال کے بعد پاکستان کی 22 سال اور کینیا کی آبادی 17 سال کے بعد دگنا ہوتی جا رہی ہے دنیا کی آبادی میں اضافہ 97 فیصد ایشیائی افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں ہو رہا ہے ۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے دس شہروں میں سے سات ایشیا میں ہیں عرب ممالک میں شرح اضافہ 3 فیصد سالانہ ہے عرب ممالک کی آبادی کی دو گناہ ہونے کی مدت تین فیصد کے حساب سے 23 سال بنتی ہے کیونکہ عرب میں نو عمری یا جلد شادی کا رواج ہے اور لوگ بڑے کنبے کو ترجیح دیتے ہیں اس کے برعکس یورپ میں 1965 کے بعد سے خواتین میں کم بچوں کو جنم دینے کا رواج کے باعث یہاں شرح آبادی 0.24تک آ گیاہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 6.6 فی عورت ہے اس طرح جاپان کی شرح آبادی 0.42 فیصدہے 1960 کے بعد دنیا میں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو اپنانے کا عمل تیز ہوا ہے اس منصوبے پر عمل کرنے والوں کی تعداد ترقی یافتہ ممالک میں 10 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد ہو گئی ہے لیکن بدقسمتی سے برصغیر کے ممالک میں یہ شرح اب بھی اٹھ فیصد سے آگے نہیں بڑھی بیشتر ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کو ابتدائی صحت کا حصہ بنایا گیا ہے میرے حساب سے خاندانی منصوبہ بندی کا مطلب محض مانع حمل ادویات یا دوسرے طریقوں کا عام کرنا نہیں بلکہ یہ ایک طرز زندگی اور طرز معاشرت ہے ایک ایسا ماحول مہیا کرنا ہے جہاں سب اس کی افادیت کے قائل ہو سکے ورنہ آبادی میں اضافہ جہاں قدرتی وسائل کو تیزی سے کھا رہا ہے وہاں انسانی زندگی کے معیار کو بھی گھٹا رہا ہے اگر ہمارا "جہاد" کے بغیر گزارا نہیں تو حکومتیں، سیاسی نمائندے، ماہرین معیشت ،سوشل ورکر ،ماہرین آبادی اور عام شہری بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول پانے کیلئے اپنے اپنے محاذ پر "جہاد" کریں۔
ایک بیوی ہے آٹھ بچے ہیں
عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں