بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس ملک شہزاد اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا۔
پراسیکیوٹر رائے اختر حسین نے کہا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے۔
جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے، سی سی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل کو بھی لے گئے تھے۔
جس پر وکیل نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں، کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے۔
جسٹس شہزاد احمد ملک نے وکیل سے کہا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں، استخارہ تو نہیں کر کے آئے؟
وکیل نے کہا کہ بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا، جس پر جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے۔
چھوٹو گینگ کے وکیل نے کہا کہ چیمپئن ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی۔
جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔