• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان طالبان نے خواتین و بچوں پر گھریلو تشدد کو مخصوص شرائط کیساتھ قانونی حیثیت دیدی

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

افغان طالبان نے خواتین اور بچوں پر مشروط گھریلو تشدد کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک فوجداری ضابطہ نافذ کیا ہے، جس کے تحت خواتین اور بچوں پر اتنا گھریلو تشدد جائز ہے کہ اس سے ان کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا کھلے زخم نہ آئیں۔

مذکورہ ضابطہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد باضابطہ طور پر قانونی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق شوہر اپنی بیوی اور بچوں کو جسمانی سزا دے سکتا ہے، تاہم اگر شدید طاقت کے استعمال سے واضح فریکچر یا نمایاں چوٹیں آئیں تو اسے زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

مزید برآں سزا اسی صورت میں ممکن ہو گی جب متاثرہ خاتون عدالت میں تشدد ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے، خاتون کو مکمل پردے میں رہتے ہوئے اپنے زخم جج کو دکھانے ہوں گے، جبکہ عدالت میں اس کے ساتھ شوہر یا کوئی مرد سرپرست کی موجودگی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اگر کوئی شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتے داروں سے ملنے جائے تو اسے 3 ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

نئے ضابطے کا آرٹیکل 9 افغان معاشرے کو 4 طبقات میں تقسیم کرتا ہے، جن میں علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ شامل ہے، اس نظام کے تحت ایک ہی جرم کی سزا کا تعین جرم کی نوعیت یا سنگینی کے بجائے ملزم کی سماجی حیثیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

اس قانون کے مطابق اگر کوئی عالمِ دین جرم کا ارتکاب کرے تو اسے محض نصیحت تک محدود رکھا جائے گا، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فرد کو عدالت میں طلب کر کے مشورہ دیا جائے گا، متوسط طبقے کے لیے اسی جرم پر قید کی سزا مقرر ہے، جبکہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو قید کے ساتھ جسمانی سزا بھی دی جا سکے گی۔

سنگین جرائم میں جسمانی سزا کا نفاذ اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء کریں گے۔

90 صفحات پر مشتمل اس نئے ضابطے کے تحت 2009ء میں متعارف کرایا گیا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون (EVAW) منسوخ کر دیا گیا ہے، جو سابقہ امریکی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید